’’نفرت کے ایجنڈے کے خلاف میری جد وجہد جاری رہے گی‘‘ ظفرالاسلام خان
کویت کا ایک ٹویٹ کے ذریعے شکریہ تو محض ایک بہانہ تھا۔ دراصل ایک لابی اور ایک خاص سوچ رکھنے والے لوگ کمیشن میں میرے کام سے پریشان تھے۔ ٹویٹ سے ان کو موقع مل گیا اور گودی میڈیا نے جھوٹ کا سہارا لے کر بات کا بتنگڑ بنا دیا اور اس پروپیگنڈے کو استعمال کر کے پولیس اور حکومت میں شکایت درج کرائی گئی۔ اگر ٹویٹ نہ بھی ہوتا تو اس لابی کو کوئی نہ کوئی چیز مل ہی جاتی کیوں کہ اس لابی کو خوف تھا کہ کہیں کمیشن کی موجودہ مدت کار اگلی جولائی میں ختم ہونے کے بعد دوبارہ مجھے ہی صدر نہ بنا دیا جائے۔ اس ہنگامے سے اب

