فقر وفاقہ کہيں کفر تک نہ پہنچا دے
خدارا ٹی وی کی خبروں سے زیادہ زمینی حقائق اور گرد وپیش کے حالات وواقعات اور حادثات سے باخبر رہیے اور اللہ کے بندوں تک پہنچ کر ان تک ضروریات زندگی پہنچا کر ایک مشکل ترین وقت میں ان کا سہارا بن جائیے۔\r\n
ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
خدارا ٹی وی کی خبروں سے زیادہ زمینی حقائق اور گرد وپیش کے حالات وواقعات اور حادثات سے باخبر رہیے اور اللہ کے بندوں تک پہنچ کر ان تک ضروریات زندگی پہنچا کر ایک مشکل ترین وقت میں ان کا سہارا بن جائیے۔\r\n
راہل گاندھي نے مہاجر مزدوروں کي حالت زار کو شرمناک بتايا۔ کورونا سے جنگ جيتنے کي خاطر پي ايم کے ساتھ ساتھ سي ايم اور ڈي ايم کي اہميت پر بھي زور ديا۔ کانگريس کے علاوہ بي جے پي کے وزير اعليٰ کي مشکلات کا اعتراف کيا اور حکومت سے لاک ڈاون کھولنے کا تفصيلي لائحہ عمل عوام کے سامنے پيش کرنے کي درخواست کي۔ انہوں نے متنبہ کيا کہ حکومت نے اگر فوري اقدامات نہ کيے تو ملک ميں بے روزگاروں کي سونامي آجائے گي۔\r\n
بھوپال کے 500 مسلم قيديوں کے ليے 150 ہندو قيديوں کی خدمات
فیک نیوز کے تعلق سے حکومت ہند کس قدر سنجیدہ ہے، یہ خبر اسی کی ایک مثال ہے۔ آپ کو یہ جان کر بے حد حیرانی ہوگی کہ وزرات داخلہ کے تھنک ٹینک نے فیک نیوز کا پتہ لگانے اور اس کی تفتیش کرنے کے لیے اپنی ایک رپورٹ پیش کی تھی جسے وزرات داخلہ کی ویب سائٹ پر جاری تو کیا گیا کیا لیکن بعد میں ہٹا لیا گیا ہے۔ دراصل اس رپورٹ میں تبلیغی جماعت کے سربراہ مولانا سعد کاندھلوی کی مبینہ آڈیو کا بھی ذکر تھا۔\r\n
مستقبل میں میڈیا کی حالت مزید خراب ہونے والی ہے۔ کیوں کہ انڈین نیوز پیپر سوسائٹی (آئی این ایس) نے حکومت سے پیکیج کا مطالبہ کیا ہے۔ آئی این ایس کا کہنا ہے کہ اخباری صنعت کو پہلے ہی چار ہزار کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے اور اگر ریلیف نہ دیا گیا تو اگلے چھ سات ماہ میں مزید پندرہ ہزار کروڑ کا نقصان ہوسکتا ہے۔\r\n\r\nہندوستان میں 2014 سے 2019 تک صحافیوں پر 198 حملے ہوئے ہیں۔ سال 2019 میں 36 حملے ہوئے تھے۔ 40 حملوں میں صحافی کو ہلاک کردیا گیا، جس میں 21 ہلاکتیں براہ راست خبروں سے ناراضگی کے
قانون کےمطابق پولیس ڈاکٹر خان کو پوچھ تاچھ کے لئے تھانے جانے پر مجبور نہیں کرسکتی، کیونکہ انکی عمر 65 سال سے زیادہ ہے
گزشتہ کئی سالوں سے یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ہندی چینل صحافت کے بجائے برسر اقتدار بھگوا طاقتوں کے ہاتھ کی کٹھ پتلی بن گیا ہے۔ سرکار سے فائدے حاصل کرنے کی خاطر اور ٹی آر پی بڑھانے کے لیے وہ ہر بات کو فرقہ پرستی کے زہر میں گھول دیتا ہے۔ وہ مسلم مخالف ایجنڈے کو مرچ مسالہ لگا کر ایسا پیش کرتا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ سب کچھ ڈاکٹر ظفر الاسلام خان کے ساتھ بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اپنے فائدے کی خاطر یہ ہندی چینل اس بات کو فراموش کر چکا ہے کہ اس سب کا بڑا نقصان جمہوریت کا ہو رہا ہے۔ ا

