
جعلی خبریں پھیلانے میں صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ نیوز ایجنسی بھی شامل
جعلی خبریں پھیلانے میں صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ نیوز ایجنسی بھی شامل
ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین

جعلی خبریں پھیلانے میں صرف سوشل میڈیا ہی نہیں بلکہ نیوز ایجنسی بھی شامل
ہفت روزہ دعوت’’میں یہاں رگوں میں خون کی گردش بند ہونے تک برسر احتجاج رہوں گی تاکہ ملک کے بچوں اور دنیا کے لیے انصاف و مساوات کی پرسکون فضا قائم ہو سکے‘‘۔ عدل و امن کے اسی عظیم جذبہ کی قدر دانی کرتے ہوئے ٹائم میگزین نے شاہین باغ کی دادی کو دنیا کی 100 بااثر شخصیات میں شامل کیا ہے۔
ہفت روزہ دعوتجب کوئی حکومت اپنے ہی اقلیتی شہریوں کے خلاف کام کرتی ہے تو اس کے اس قدم کے خلاف بھی صدائیں ضرور بلند کی جاتی ہیں۔ اور ان صداؤں کو دنیا نہ صرف سنتی ہے بلکہ سراہتی بھی ہے۔ دادی بلقیس بھی مزاحمت کی وہ زندہ مثال ہے جسے دنیا نے نہ صرف سراہا بلکہ شاہین باغ کے پرامن احتجاج میں ان کے شانہ بشانہ ساتھ بھی دیا۔ اس احتجاج کے جو مطالبے تھے ان پر بھی دنیا نے مہر تسلیم ثبت کی۔ اب ’ٹائم میگزین‘ نے بھی دادی کو بااثر خواتین میں جگہ دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ شاہین باغ کی تحریک ایک انقلابی تحریک اور جائز مطالبہ ہے
ہفت روزہ دعوت’جمہوریت کے لیے بنیادی بات محض آزادانہ انتخابات نہیں ہیں۔ انتخابات محض یہی طے کرتے ہیں کہ کسے سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔ لیکن اس سے زیادہ اہمیت ان لوگوں کے حقوق کی ہے، جنہوں نے جیتنے والوں کو ووٹ نہیںدیا۔ انڈیا گزشتہ سات دہائیوں سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر برقرار ہے۔ یہاں 1.3 ارب آبادی میں مسیحی، مسلمان، سکھ، بودھ، جین اور دیگر مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ سب انڈیا میں رہتے ہیں، جس کی دلائی لاما ہم آہنگی اور استحکام کی مثال کے طور پر تعریف کرتے ہیں۔ نریندر مودی نے ان تمام باتوں کو تشو
ہفت روزہ دعوتاقبال کشمیر میں فطرت کے حسن وجمال کے پرستار ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کی غربت، ناخواندگی، غلامانہ ذہنیت، مریضانہ عادتیں، توہمات، قبر پرستیاں، اقتصادی استحصال، سیاسی بدحالیاں وغیرہ.. غرض کشمیر کے بارے میں ہر منفی چیز اُن کے حریمِ قلب کو تڑپاتی اور آنکھوں کو خون کے آنسو رُلاتی تھی۔
ہفت روزہ دعوتہمارے نزدیک یہ سدرشن ٹی وی اُن عناصر کا حصہ ہے جو مرکزی حکومت نے سماجی ڈھانچے میں دراڑیں ڈالنے کے لیے پورے ملک میں چھوڑ رکھی ہیں۔ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں حکومت کے ایماء پر کرتے ہیں۔ 2014 میں نئی حکومت کے آتے ہی لوگوں کو گئو کشی کے نام پر مار ڈالنے کا کام شروع کر دیا گیا، تحفظ گاؤ کا قانون بنا کر قاتلوں اور بدمعاشوں کو پوری اجازت دے دی گئی کہ وہ جو چاہیں کریں۔ حکمراں پارٹی کے لیڈروں کو اجازت ہے کہ عوام کو مشتعل کرنے کے لیے جس طرح کے بھاشن دینا چاہیں دیں۔
ہفت روزہ دعوتحکومت کا یہ کہنا غلط ہے کہ اس بل کے ذریعہ سے کسان اپنی پیداوار کسی کو بھی فرخت کر سکتے ہیں اور اسے ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ انہیں یہ حق اس بل سے پہلے بھی حاصل تھا بلکہ اس کے برعکس اس بل سے کارپوریٹس کو اور سرمایہ داروں کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ لا محدود مقدار میں کسی روک ٹوک کے بغیر ذخیرہ اندوزی کر سکتے ہیں۔
ہفت روزہ دعوتمجموعی طور عوام نے جموں و کشمیر کے صحافتی ادروں سے اپنی مایوسی کا ہی اظہار کیا ہے۔ یہ مایوسی عوام میں تب اور بڑھی جب گزشتہ ماہ محرم میں وادی کی شیعہ برادری کے جلوسوں پر انتظامیہ کی قدغن اور فورسز کا جلسوں میں شریک لوگوں پر پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال کو، کوئی خاص کوریج یہاں کے اخبارات نے نہیں دی۔ اسی طرح سے سوپور میں ایک نوجوان کا پولیس حراست میں ماورائے عدالت قتل جیسی خبروں کے حوالے سے بھی کشمیری عوام یہاں کے صحافتی اداروں سے نالاں نظر آرہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافتی ادارے صحافتی اُصول
ہفت روزہ دعوتگاندھی جی کے مرن برت کے سبب امبیڈکر ویلن بن گئے کیوں کہ ان کی ضد کے سبب فادر آف نیشن کی زندگی داؤ پر لگ گئی تھی۔ نرم اور سخت ہندوتوادی ان کے خلاف ہوگئے تھے۔ ٹیگور اور نہرو جیسے لوگ بھی گاندھی کے طرف دار ہو گئے۔ ملک کے سبھی بڑے سیاست داں امبیڈکر کے خلاف ہو گئے یہاں تک خود امبیڈکر کے ساتھی بھی ان کے خلاف ہو گئے۔ دلتوں کا احساس تھا کہ اگر گاندھی جی کو کچھ ہو جاتا ہے تو اس صورت میں دلت ذمہ دار ٹھیرائے جائیں گے اور پورا سماج گاندھی کی موت کا بدلہ دلتوں سے لے گا۔ امبیڈکر اپنی بات دلیل سے رکھنے کی کو

