ہفت روزہ دعوت

ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین

کل 764 مضامین
ہفت روزہ دعوت

پطرس بخاریؔ: زندگی کی حقیقتوں سے مزاح پیدا کرنے والا فن کار

پطرس بخاری کی ظرافت بندھے ٹکے تفریحی موضوعات، عام روایتی کرداروں اور لفظی ہیر پھیر سے بے نیاز ہوتی ہے۔ ہر جگہ ہر بات میں انہوں نے خوش طبعی اور زندہ دلی کا پہلو نکالا ہے جیسے صحرا کو مسکرا کے گلستاں بنا دیا ہو۔ پطرس بخاری کی ظرافت عام طور سے مفرد ہوتی ہے مرکب نہیں‘‘ (رشید احمد صدیقی)

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

ایماندارانہ صحافت :وقت کاتقاضا

موجودہ دور میں اس شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک جرنلسٹ کے طور پر اخبارات، میگزین، ٹی وی چینلس، نیوز پورٹلس وغیرہ میں اچھے مواقع ہیں جب کہ ماس میڈیا میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے کانٹینٹ رائیٹنگ، ایڈور ٹائزنگ، فلم، غیر تجارتی اداروں، رابطہ عامہ، کارپوریٹ کمیونیکیشن اور دیگر میڈیا ایجنسیوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

خواتین اور گھر کا محاذ

عورتیں جن کو اسلام کے تقاضے معلوم ہو جائیں اور جو اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے اس زندگی میں کچھ کام کرنے کا فیصلہ کرلیں ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اصلاح کی اس مہم کو لے کر اٹھیں۔اگر وہ سلیقے اور سمجھ بوجھ کے ساتھ اس کام کو شروع کریں گی تو یقیناً وہ اپنے اعزہ واقربا اور خاندان کے لوگوں کی حالت بہت جلد تبدیل کر سکتی ہیں

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

حرام کمائی

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ فرمایا نبیؑ نے کہ ’’جس نے کوئی کپڑا دس درہم کا خریدا اور اس میں ایک درہم حرام کا تھا تو جب تک یہ کپڑا اس کے بدن پر رہے گا اللہ اس کی نماز قبول نہ فرمائے گا۔ اس کے بعد حضرت ابن عمرؓ نے اپنی انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کیں اور فرمایا : یہی بہرے ہو جائیں اگر میں نے حضورؑ کو یہ فرماتے نہ سنا ہو‘‘۔(بہیقی)

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ADAdvertisement
ہفت روزہ دعوت

دماغی صحت پر توجہ دیجیے

انسانی جسم کا طاقتور ہونا اسی وقت ممکن ہے جب انسان کی دماغی صحت بہتر ہو۔ وہ اس لیے کہ جب تک انسان دماغی لحاظ سے مطمئن نہیں ہوتا وہ کسی اور چیز کے سدھار پر غور و فکر نہیں کرتا۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

اپنے محلّے کی فکر کیجیے!

اگر ہمارے معاشروں میں صرف تین چیزیں تعلیم، علاج معالجہ اور شادی بیاہ کے معاملات آسان اور کم خرچ والے ہو جائیں تو یہی خیرِ کثیر کا باعث بن جائیں گے۔ پھر غریب سے غریب آدمی بھی اپنے بچوں کو مفت میں یا کم سے کم پیسوں میں تعلیم دلا سکے گا۔ واجبی پیسوں میں اپنا اور اپنے بچوں کا علاج کروا سکے گا اور ان کی شادی بیاہ کے تعلق سے بڑی حد تک بے فکر ہو جائے گا۔ اگر کسی محلے میں صرف اتنا بھی ہو جائے تو آپ دیکھیں گے کہ صرف پندرہ بیس سالوں میں ہی محلے کا نقشہ بدل جائے گا۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ADAdvertisement