ہمت نسواں، مدد خدا

جاویدہ بیگم ورنگلی ،حیدرآباد

عورت ہر دور میں موضوعِ گفتگو رہی ہے۔ ہر شخص بڑی آزادی و بے باکی کے ساتھ اس پر اظہار خیال کرتا رہا ہے جبکہ مرد کبھی موضوعِ گفتگو نہیں رہا۔ عورت اور مرد دونوں کا خالق، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے’’لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد وعورت دنیا میں پھیلا دیے‘‘ پھر ارشاد فرمایا گیا ’’ہم نے بنی آدم کو عزت و اکرام بخشا ہے‘‘۔ ظاہر ہے اس عزت و اکرام میں صرف مرد ہی نہیں بلکہ عورت بھی شامل ہے اسی لیے مرد کا اپنے آپ کو برتر اور عورت کو کمتر سمجھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ رہا جسمانی و ذہنی صلاحیتوں کا فرق، تو یہ فرق حکیم خالق ہی نے رکھا ہے کیونکہ عورت ومرد دونوں کو الگ الگ میدانوں میں ذمہ داریاں ادا کرنی ہوتی ہیں۔ عورت کی تخلیق ماں بننے کے لیے کی گئی ہے اس لیے عورت کی فطرت میں انفعالیت اور جذباتیت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ یہ جذباتیت اور انفعالیت ماں اور بچے پر خدا کا خصوصی فضل وکرم ہے کیونکہ تمام حیوانات کے بچوں میں انسان کا بچہ سب سے زیادہ کمزور اور خصوصی توجہ کا طالب ہوتا ہے، نیز بہت محنت اور خصوصی دیکھ بھال سے پرورش پاتا ہے۔ ماں کی آغوش اس کی تربیت گاہ بھی ہوتی ہے اور گرم و سرد حالات سے بچانے کا سب سے بڑا ذریعہ اور ایک مضبوط قلعہ بھی ہے۔اس کے لیے مضبوط قوت کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ نرم و حساس دل کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے اللہ تعالیٰنے عورت کو نرم و نازک حساس دل دے کر پیدا کیا ہے۔ مرد کو میدانِ کار زار میں کام کرنا ہوتا ہے۔ملک کی حفاظت، دفاع، جرائم کی روک تھام، قانون کا نفاذ، ملک میں امن وامان، عدل و انصاف کا قیام اور زندگی کی بقاء کے لیے دوڑ دھوپ کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے مرد کو مضبوط جسم، جراءت مند دل اور فیصلہ کن شخصیت کا مالک بنایا گیا ہے۔ قدرت وجود و حیات کا سلسلہ دو مقابل صنفوں کے ذریعے چلانا چاہتی ہے اسی لیے اس نے مرد وعورت کے خلعت و فطرت میں فرق رکھا۔ بنانے والا یہ بھی جانتا تھا کہ ایک قوت کی بنیاد پر اپنے آپ کو برتر سمجھے گا اور دوسرے کو حقیر و کمتر سمجھے گا اسی لیے اس نے دونوں کی تخلیق ایک نفسِ واحدہ سے کی اور صراحت سے بتا دیا کہ تمام انسان ایک مرد آدم اور ایک عورت حوا سے پیدا کیے گئے ہیں اور یہ بھی بتا دیا گیا کہ عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر وہی حقوق ہیں جو مردوں کے ہیں۔ ارشادِ خداوندی ہے ’’میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں، خواہ مرد ہو یا عورت، تم ایک دوسرے کے ہم جنس ہو (آل عمران۔ 195)
یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کس وجہ سے مرد اپنے آپ کو اعلی و برتر سجھتا ہے اور عورت کو حقیر و کمتر؟ اور ہر سال یومِ خواتین منا کر یہ جتانے کی کوشش کرتا ہے کہ عورت کو کوئی قدر ومنزلت نہیں تھی کوئی مقام ومرتبہ حاصل نہیں تھا، یہ ہم ہیں جنہوں نے عورت کو مقام و مرتبہ عطا کیا ہے عزت دی ہے اور اس کے اظہار کے لیے سال میں ایک دن تمہارے نام سے منانا طئے کیا ہے۔ زوردار پروگراموں سے ہی تو معلوم ہوتا ہے ہم کتنے وسیع ظرف ہو گئے ہیں۔ دنیا میں دھوم ہے کہ 8/ مارچ کو یوم خواتین ہے۔ یعنی گری پڑی ہستی سے اٹھا کر عورت کو برابری کا حق دینے کے بارے میں ہم نے سوچا ہے۔
افسوس کہ یہ بیچارے ایک خول میں اپنے آپ کو اس طرح بند کیے ہوئے ہیں کہ حق کی روشنی ان تک نہیں پہنچ پاتی۔ وہ کیا جانتے ہیں آج سے ڈیڑھ ہزار سال پہلے ہی عورت کو وہ تمام حقوق دے دیے گئے ہیں کہ مزید کسی حق کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔
مسلمان عورت اپنے مقام و مرتبے اور اپنی ذمہ داریوں سے اچھی طرح واقفیت رکھتی ہے اور سماج میں ہمیشہ فعال رول ادا کرتی ہے۔ تاریخ نے اس بات کو اپنے سینے میں محفوظ رکھا کہ کس طرح خواتین کے فعال رول نے ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدل دیا ہے۔
دریائے دجلہ کے قریب اہل مسلمانوں اور کفار کے درمیان خونریز جنگ ہوتی ہے۔ اس جنگ کے سپہ سالار حضرت مغیرہ رض تھے۔ وہ عورتوں کو بہت پیچھے چھوڑ آئے تھے۔ جس وقت گھمسان جاری تھا اردتہ بنت حارثہ نے جو جلیل القدر صحابی عتبہ بن غزوان کی اہلیہ تھیں عورتوں کو للکارا کہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم کو اس وقت مجاہدین کی مدد کرنی چاہیے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے ڈوپٹے کا ایک بڑا علم بنایا۔ دوسری خواتین نے بھی اپنے اپنے ڈوپٹوں کے چھوٹے چھوٹے علم بنا لیے یہ سب پرچم اڑاتی جب میدان جنگ کے قریب پہنچ گئیں تو دشمن نے سمجھا کہ مسلمانوں کی مدد کے لیے تازہ کمک آگئی ہے چنانچہ ان کے حوصلے پست ہوگئے اور وہ میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے۔
شام کی جنگوں میں جنگ یرموک ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔ جس میں رومیوں کی تعداد دو لاکھ تھی اور وہ تمام فوجی ساز وسامان سے لیس تھی جبکہ مسلمانوں کی تعداد تیس چالیس ہزار کے درمیان تھی۔ سامان جنگ کے بارے میں اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ رومیوں کے سامان جنگ کے مقابلے میں کس قدر کم رہا ہوگا۔ لڑائی کی شدت کی وجہ سے ایک موقع ایسا بھی آیا کہ مسلمانوں کے قدم پیچھے ہٹنے لگے۔ جب خواتین نے ان کو پیچھے ہٹتے دیکھا تو وہ حواس باختہ نہیں ہوئیں بلکہ چیخ چیخ کر ایک دوسرے کو حالات سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیا اور میدان میں اتر پڑیں اور بڑی بے جگری سے لڑیں۔ جب مسلمانوں نے دیکھا کہ خواتین بہادری سے جان ہتھیلی پر رکھ کر لڑ رہی ہیں تو وہ ایک نئے جوش کے ساتھ واپس پلٹے اور جنگ کا پانسہ پلٹ دیا، فتح مسلمانوں کی ہوگئی۔
دورِ ماضی سے ہی خواتین نے معاشرے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ حالات کا تجزیہ کرنے والے اس بات کا اظہار کرتے ہیںکے مرد کی ہر کامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ آج دہلی کا شاہین باغ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ عورت حالات دیکھ کر کس طرح متحرک ہوجاتی ہے، کس طرح فعال کردار ادا کرتی ہے۔ ظلم وبربریت اور ناانصافی کے خلاف شاہین باغ ، دہلی سے اٹھنے والی خواتین کی آوازوں سے آج پورا ملک گونج رہا ہے اور یہ گونج ایک دن ایوانِ اقتدار کو ہلا کر رکھ دے گی۔ ان شاء اللہ۔
**