گنگا میں تیرتی لاشوں کو دیکھ کر چھلکا گجراتی شاعرہ کا درد

حکومت کی بے حسی پر سراپا سوال پارول ککر کی نظم نے مچائی دھوم۔مگر تعریف کے متوالے حکمرانوں کو تنقید گوارا نہیں

اقبال احمد مرزا

 

چند دن قبل گجرات کی ایک شاعرہ پارول ککر نے کورونا سے ہونے والی اموات اور حکومت کی بے حسی سے متاثر ہو کر ایک نظم لکھی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مشہور ہو گئی۔ نظم کے منظر عام پر آتے ہی گجرات کی ادبی برادری کے ایک بڑے حلقہ نے شاعرہ سے ترک تعلق کر لیا تو دوسری طرف سنگھی ٹرول آرمی نے اس کو اتنی گالیوں سے نوازا کہ ایک ہفتے کے دوران ان گالیوں کی تعداد چالیس ہزار تک جا پہنچی۔ حکومتی جبر اور گھٹن کے ماحول میں ہمیشہ ایک ادیب ہی نے اپنی باغیانہ شاعری سے صورت حال پر تبصرہ بھی کیا ہے اور حکومت کے خلاف بولنے کا حوصلہ بھی لوگوں میں پیدا کیا ہے۔
نظم بہت چھوٹی سی ہے جس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکا ہے۔ ڈاکٹر فہیم الدین احمد نے اس نظم کو اردو کا قالب عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اردو میں اس کا ترجمہ ملاحظہ فرمائیے۔
لاشوں بھری گنگا
بولے مردے سب اک ساتھ، ہے سب کچھ چنگا چنگا
صاحب تیرے رام راج میں لاشوں بھری ہے گنگا
مردوں سے شمشان بھرے ہیں چتا کی لکڑی ختم ہوئی
کاندھے سب کے شل ہو گئے چشم گریہ خشک ہوئی
یمراج ہے ناچے در در جا کر موت کا کھیل بے ڈھنگا
صاحب تیرے رام راج میں لاشوں بھری ہے گنگا
بنا رکے یہ جلتی چتائیں مانگیں راحت پل بھر کی
ٹوٹتی چوڑی سینہ کوبی یہی کہانی گھر گھر کی
دیکھ بھڑکتے شعلوں کو، بین بجائے بلا رنگا
صاحب تیرے رام راج میں لاشوں بھری ہے گنگا
صاحب کا ملبوس مقدس اور مقدس جیوتی
کاش حقیقت سمجھیں لوگ ہے یہ پتھر نہ کہ موتی
ہمت ہو تو سامنے بولو ’’میرا صاحب ننگا‘‘
صاحب تیرے رام راج میں لاشوں بھری ہے گنگا
پارول ککر کی نظم کی گونج پورے ہندوستان میں سنائی دی۔ اس آواز نے حکومت کی نیند اڑا دی۔ اس نقصان کی تلافی کے لیے مشہور شاعرہ کاجل اوجھا وید نے جو حکومت کی حمایتی ہیں پارول ککر کی مذمت کرتے ہوئے لکھا کہ ’’نظم دل کو جھنجھوڑ دے ایسی تو ہو سکتی ہے مگر ہر جذباتی بات منطقی نہیں ہوتی۔ یہ بات ہندوستان کے عام شہریوں کو کون سمجھائے کہ ہم لوگ چلتی گاڑی میں چڑھ جاتے ہیں، بات میں وزن کتنا ہے اسے جانچنے کا صبر اور جذبہ ہم میں نہیں، آج کل حکومت کی مخالفت کرنے کا فیشن چل رہا ہے۔ کچھ بھی غلط ہو تو حکومت ذمہ دار۔ حکومت مطلب کون دو لوگ؟َ گھر میں دس لوگوں کو کھانا بنانا ہو اور ایک سو پچاس لوگ کھانے والے ہوں تو کیا صورتِ حال بنے گی؟ یہاں تک کہ کئی مرتبہ ماسک پہننے، خود کو سینیٹائز کرنے اور گھر میں رہنے کی ہدایت دینے کے باوجود ہم سب جو کر رہے ہیں اسے دیکھ کر تو لگتا ہے کہ بلا رنگا تو ہم خود ہیں۔ امریکہ، اٹلی، برازیل اور یورپ جیسے ملکوں میں بھی بلا رنگا ہونے چاہئیں ورنہ وہاں اتنی ساری اموات کیوں؟ ہو سکتا ہے کہ آپ حکومت کو جواب دہ سمجھ کر کچھ دن سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنے ہوں لیکن آخر کار ہم اپنی لا علمی اور بیوقوفی کو ظاہر کرتے ہیں۔ وہ لوگ جو حکومت پر الزام لگاتے ہیں کہ اس نے کتنے گھروں میں ٹفن پہنچایا، انہوں نے اسپتال میں داخل ہونے میں کتنے کورونا مریضوں کی مدد کی؟ جو ایک بھی جرم نہیں کرتا وہ پہلے پتھر پھینکیں گے۔‘‘
افسوس کی بات یہ ہے کہ کاجل بہن جیسی حساس ادیب نے اس احساس کو کیوں نہیں سمجھا جس کا اظہار پارول ککر نے اپنی شاعری میں کیا ہے؟ پارول نے اپنی شاعری میں لاکھوں لوگوں کے درد بیان کیے ہیں۔ یہ شاعر کا کام ہے۔ پھر بھی بہن کاجل غلط فہمی کا شکار اور عقیدت میں اندھی معلوم ہوتی ہیں۔ اس نظم کے ہر مصرعے کو دیکھیں۔ کیا شَو واہنی گنگا نظم آپ کو غیر حقیقی اور غیر منطقی لگتی ہے۔ حکومت کی حالت یہ ہے کہ جب آسمان پھٹا ہو تب پیوند کہاں لگائے گی؟ لیکن یہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے کہ اموات کی تعداد کو چھپانے کی محنت کیوں کی جا رہی ہے؟ حکومت آئی سی یو بیڈز، وینٹیلیٹرز، آکسیجن، دوائیں، انجیکشن فراہم نہیں کر سکی لیکن شمشان کا انتظام تو کر سکتی ہے نا؟ کیا یہ حکومت کی غفلت نہیں ہے کہ گنگا ندی میں 2000 لاشیں تیر رہی ہیں! آپ کہیں گے کہ لاشیں حکومت نے نہیں پھینکیں وہ عوام کے ذریعے ڈالی گئی ہیں۔ لیکن کیا حکومت وبا کے دوران چتاؤں کو جلانے کا انتظام بھی نہیں کر سکتی تھی؟ لوگ پارول کی شاعری کو اس لیے پسند کر رہے ہیں کیوں کہ انہوں نے تکلیف برداشت کی ہے۔ حکومتی کی بد انتظامی سے ان کو پالا پڑا ہے۔ اگر کوئی حکومت پر تنقید کرتا ہے تو اسے فیشن کی طرح سمجھنے کی ضرورت کیوں ہے؟ جب حکومت کی پروپیگنڈہ مشینری، حکمران جماعت کے آئی ٹی سیل، کارپوریٹ میڈیا، کارپوریٹ بابا، سوامی، سدگرو، سری سری، کہانی سنانے والے مستقل طور پر وزیر اعظم کی تعریف کر رہے ہیں تو اس ایک نظم سے بے چین ہونے کی کیا وجہ ہے؟ کسی انسان کی مذمت کرنا سمجھ سے باہر اور احمقانہ کیوں لگتا ہے؟
اس دلیل میں کوئی منطق نہیں ہے کہ 10لوگوں کے لیے کھانا بنے اور 150افراد کھانے کے لیے آئیں۔
ملک کی موجودہ صورتحال اور پارول ککر کی نظم میں کی جانے والی تنقید کے پس منظر میں کہ سکتے ہیں کہ بلا شبہ حکومت کے پاس ایک سال کا وقت تھا۔ جنوری 2021 میں وزیر اعظم نے دنیا کو بتایا کہ ہم نے کورونا کو شکست دی ہے۔ پیشگی تیاری نہ کرنا حکومت کی حماقت ہے۔ ویکسین کے لیے پہلے سے فنڈ نہ دینا بیوقوفی ہے۔ آکسیجن کے لیے پلانٹ شروع نہیں کر پانے کو غفلت ہی کہا جائے گا۔ امریکہ، اٹلی، برازیل، یورپ میں پہلے سے ہی منصوبہ بندی کر لی گئی تھی۔ ہمارے یہاں آئی سی یو بیڈز، ، وینٹیلیٹرز، آکسیجن، دوائیں، انجیکشن نہ ملنے کی وجہ سے زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔ یہ ہم کیوں بھول جائیں۔ اگر لوگ اکثر ماسک پہننے، صفائی ستھرائی اور گھر میں رہنے کی ہدایت پر عمل نہیں کرتے ہیں تو آپ کی نظر میں لوگ رنگا بلّا بن گئے؟ لیکن کیا وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے بنگال انتخابی جلسوں میں ماسک پہنا تھا؟ سوشل ڈسٹنس رکھا تھا؟ ریلیوں میں کرائے کے ہجوم کو ماسک نہ پہننے پر طنز کیا گیا جب لوگوں کو ماسک نہیں پہنے ہوئے رنگا بلّا کہا جاتا ہے تو اس حساب سے وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کو رنگا بلّا کہا جانا چاہیے یا نہیں؟ آپ کی دلیل کے مطابق خدمت کرنے والے ہی حکومت کی مذمت کر سکتے ہیں۔ جس نے ایک بھی گناہ نہ کیا ہو وہی پہلا پتھر پھینکیں گے! جمہوریت میں ہر ایک کو حکومت کی مذمت کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس میں خدمت کی شرط کی ضروری نہیں ہے۔ لیکن سب سے زیادہ خدمت کرنے والے ہی وزیر اعظم کی مذمت کر رہے ہیں۔ یہ کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے؟ جس نے ایک بھی گناہ نہ کیا ہو وہ پہلا پتھر پھینکیں گے! اس دلیل کے تحت آمریت کی وکالت نہیں کر سکتے۔ اگر حکومت کوئی جرم کرتی ہے تو اس پر مذمت کے پتھر پھینکنا پڑتا ہے۔ یہ شہریوں کی ذمہ داری ہے۔ وزیر اعظم، وزیرِ داخلہ کو کوئی رنگا بلّا کہے تو یہ گالی کیسے ہوئی؟ نظم میں یہ الفاظ مجرموں کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔ حکومت کی ناکامی، جہالت اور حماقتوں پر سوشل میڈیا اور بین الاقوامی اخبارات میں موضوع بحث ہیں۔ کورونا وبا کے دوران کمبھ میلے کا اہتمام اور اجرتوں پر آئے ہوئے اس بڑے ہجوم کو صرف احمقانہ اقدام ہی کہا جا سکتا ہے۔ اس لیے آگ کو جلتا دیکھ کر شہنائی بجائے۔۔ واہ واہ رنگا بلّا کہنے کو گالی نہیں کہا جا سکتا لیکن حقیقت کہا جا سکتا ہے۔ اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ یہ گالی کیا ہے تو بی جے پی کی ٹرول فوج کی گندی زبان کو دیکھیں۔ سمجھ جائیں گے۔ آپ کو بس اتنا کہنا ہے کہ لوگ رنگا بلّا نہیں ہیں۔
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 29 مئی تا 05 جون 2021