کورونا اور احتیاطی تدابیر : فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

اے رحمان

بڑی سے بڑی آفت اور زندگی کی کوئی منفی اور تکلیف دہ صورتِ حال ایسی نہیں جس کا کوئی دلچسپ،مضحکہ خیز اور پُر تفنّن پہلو نہ ہو۔انگریزی میں اسے زندگی یا اس صورتِ حال کی lighter side کہتے ہیں اور بُری سے بُری تکلیف میں بھی حالات کا یہ دلچسپ اور مزاحیہ پہلو تلاش کر لینا رجائیت پسندی کی معراج سمجھا جاتا ہے۔انگریز تو مزاح کے سلسلے میں اتنے حسّاس واقع ہوئے ہیں کہ حسِ مزاح سے محروم شخص کو بدنصیب گردانتے ہیں اور جس شخص کی عام گفتگو میں بھی ہلکی سی مزاح کی چاشنی نہ ہو اس کو تعلیم یافتہ نہیں سمجھتے۔اس ضمن میں ایک مشہور حکایت بیان کی جاتی ہے۔تیرو تفنگ کے زمانے کی ایک جنگ کے دوران کسی انگریز سپاہی کے پیٹ میں نیزہ آ کر لگا اور آر پار ہو گیا۔وہ پہلو کے بل زمین پر پڑا تھا لیکن زندہ تھا ۔اس کے ایک ساتھی نے بیٹھ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور اظہارِ ہمدردی میں پوچھا ـ’’ بہت تکلیف ہو رہی ہوگی ؟‘‘ مجروح سپاہی نے جواب دیا ’’ بس جب میں ہنستا ہوں ‘‘۔ انگلینڈ اور امریکہ میں یہ واقعہ ذرا ذرا سے فرق کے ساتھ مختلف لطیفوں کی شکل میں موجود ہے لیکن یہ فقرہ Only When I laugh اس قدر مشہور ہوا کہ اس عنوان سے کتابیں لکھی گئیں ،فلمیں بنائی گئیں اور انّیس سو ستّر اسّی کے دورانیے میں بی بی سی سے ایک طول طویل سیریل نشر ہوا جوآج بھی اتنا ہی مقبول ہے۔۔۔۔۔۔۔اب ذرا موجودہ ’وبائی‘ حالات کی ستم ظریفی یعنی lighter side ملاحظہ فرمائیے۔

کورونا وائرس سے پیدا شدہ مہلک بیماری ہنوز لا علاج ہے اور ایسی صورت میں بیماری سے بچے رہنا ہی واحد حل ہوتا ہے۔لیکن اس سے بچنے کی جو دو اہم ترین احتیاطی تدابیر تجویز بلکہ نافذ کی گئی ہیں انہوں نے تو معاشرتی طرزِ عمل اور رویّے کو یکسر بدل کر رکھ دیااور اس احتیاط کا سلسلہ سال دو سال چل گیا تو ہمارا طرزِ زندگی، طرزِفکر،فلسفۂ حیات ،ادب اور شاعری سب میں ایک مستقل انقلاب برپا ہونا لازم ہے۔یہ دو احتیاطی تدابیر ہیں ماسک یعنی نقاب اورسماجی فاصلہ یعنی آس پاس کے دیگر افراد سے جسمانی طور پر دور دور رہنا۔(خدا کا شکر ہے نوبت ابھی ’خانگی‘ فاصلے تک نہیں پہنچی حالانکہ احتیاط کا دامن چھوڑ دیا جائے تو وہ دن بھی دور نہیں)پہلے نقاب کو لیجیئے: اردو شاعری میں اسے نت نئے طریقوں سے موضوع بنایا گیا ہے۔عاشق کو ہمیشہ معشوق کا دیدار مقصود ہے لیکن وہ ہے کہ چہرے کو نقاب میں پوشیدہ رکھنے پر مصر ہے۔ادھر عاشق کا اصرار ہے کہ ’آنکھیں خدا نے دی ہیں تو دیکھیں گے حسنِ یار۔۔کب تک نقاب رخ سے اٹھائی نہ جائے گی‘ یا ’اسی امید پر تو جی رہے ہیں ہجر کے مارے۔۔۔کبھی تو رخ سے اٹھے گی نقاب آہستہ آہستہ‘۔لیکن اب جبکہ بے نقاب ہونے کو قانونی طور پر ممنوع قرار دے دیا گیا تو دیدار کی ہر امید گئی پانی میں۔اور پہلی نظر کی محبّت کو تو اب یک قلم موقوف سمجھیئے۔جس قسم کے نقاب مستعمل ہیں آپ کتنی ہی آنکھیں پھاڑ کر دیکھیں آنکھوں کے سوا کچھ پلّے نہیں پڑتا۔اوراگر بالفرض محض آنکھوں کے حسن پر قیاس کر کے بقیہ چہرے کے حسن کی تخیلی تصویر بنا بھی لی جائے تو کبھی نہ کبھی نقاب ہٹنے کے بعد متخیّلہ تصویر کے مسخ ہو جانے کا پورا امکان موجود ہے۔دیگر نمایاں جسمانی اوصاف اور ان کے سبب رنگینیٔ پیرہن کی دلیل ذہن میں آئی ہو تو یہ مت بھولئے کہ اس سلسلے میں ’مصنوعات‘ کے استعمال کا چلن کتنا عام ہو چکا ہے۔بعد کی دلشکن مایوسی کی نسبت ابتدا میں ہی ٹھوک بجا کر تسلّی کرلینا بدرجہا بہتر ہے۔ ویسے مذکورہ معاملات کا اطلاق مرد و زن ہر دو جانب یکساں طور پر ہوتا ہے۔مگر نقاب کا ایک نہایت افادی اور نفع بخش پہلو بھی ہے۔قرض خواہوں اور دوسرے ہر قسم کے ناپسندیدہ ھضرات سے کنّی کاٹ کر نکلنا بے حد آسان ہو گیا ہے۔شخص مذکور کا شبہ ہوتے ہی گردن کو ذرا سا مخالف سمت میں موڑ کر درّانہ گذرتے چلے جائیے۔اوّل تو وہی نہیں پہچانے گا،اور اگر پہچان کر آواز دے بھی لے تو آپ کے پاس اس کی نقاب کے سبب نہ پہچان سکنے کی وجہ تو موجود ہے ہی۔وہ آپ پر تجاہلِ عارفانہ کا الزام عائد نہیں کر سکتا۔اسی طرح اگر آپ قانون سے مفرور ہیں تو نقاب پولیس سے بچنے کا بھی آسان ذریعہ بن گیا ہے۔خاص طور سے وہ نقاب جن کے ساتھ پلاسٹک کی شیلڈ بھی جڑی ہوتی ہے اور پورا چہرہ ڈھک جاتا ہے۔شیلڈ کے نیچے سیاہ چشمہ چڑھایئے اور سینہ تان کر پولیس کے سامنے سے گذر جایئے ۔مزے کی بات تو یہ ہے کہ پولیس آج کل صرف بے نقاب لوگوں کی جانب متوجّہ ہوتی ہے اور ان کا چالان تک کر دیتی ہے۔نقاب میں رہیئے محفوظ رہیئے۔

اب بات آتی ہے سماجی فاصلے کی ۔یہ شرط تو واقعی بہت کڑی ہے۔ایشیا اور خصوصاً برّ ِ صغیر میں نفرت اور محبّت دونوں کا جسمانی اظہار ہماری گھٹّی میں پڑا ہے۔کیا یہ ممکن ہے کہ دو قریبی دوست یا عزیز ایک مدّت بعد ملیں اور نعرۂ محبّت بلند کر کے ایک دوسرے سے بقول پنجابیوں کے جھپّی نہ ماریں ، اوردو چار گھونسے ایک دوسرے کو رسید کر کے جذبات کے ابلتے ہوئے لاوے کو راستہ نہ دیں؛ اسی طرح دو سہیلیاں یا بہنیں ملیں اور گلے نہ ملیں،نیزجدائی کی مدّت ذرا طویل رہی ہو تو گلے مل کر پانچ منٹ تک آنسو نہ بہائیں۔لیکن اس سماجی فاصلے والی شرط کے تحت تو دل خواہ کتنے ہی ملے ہوئے ہوں ہاتھ ملانا تک منع ہے۔ماقبل وبا طے شدہ ’جوڑے‘ تو عجب جانکنی کا شکار ہیں۔محبوبہ کو موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بٹھا کر ’قرب‘ کی لذّت سے لطف اندوز ہونا تو ناممکن ہو گیا،کار بھی ہو تو ڈرائیور کے برابر دوسرا شخص نہیں بیٹھ سکتا۔بوس و کنار تو قصّۂ پارینہ سمجھیئے ،ہاتھ میں ہاتھ ڈالنے کے لالے ہیں۔اب تو (لاک ڈاؤن میں ڈھیل کے بعد) لے دے کر یہی ممکن ہے کہ کسی رستوراں میں جائیے اور محبوبہ کومیز کے دوسری جانب چھ فیٹ دور بٹھا کر سوچتے رہیئے ’’محبّت کی تو کوئی حد کوئی سرحد نہیں ہوتی۔۔۔۔ہمارے درمیاں یہ فاصلے کیسے نکل آئے‘‘۔اور چھ فیٹ دور سے تو ’سرگوشیاں‘ بھی آنکھوں آنکھوں میں ہی ہو سکتی ہیں۔عاشق خواہ شراب نہ پیتا ہو لیکن جرأت رندانہ ضرور رکھتا ہے۔مگر ان حالات میں قرب کی ہر کوشش مزاحمت سے دو چار ہو گی خصوصاً جب سے اعلان ہوا ہے کہ بعض لوگ ظاہری علامات نہ ہونے پر بھی وائرس لئے پھرتے ہیں لہذٰا ذہنوں میں بجا طور پر خدشہ جا گزیں ہو گیا ہے ’’ نہ ہو کہ قرب ہی اب مرگِ ناگہاں بن جائے۔۔۔۔وہ اب ملے تو ذرا اس سے فاصلہ رکھنا۔‘‘ محبوباؤں کازیادہ حقیقت پسندانہ اور عملی رویّہ دیکھیئے :’’ اُسے خبر ہے کہ انجامِ وصل کیا ہو گا۔۔۔۔وہ قربتوں کی تپش فاصلے میں رکھتی ہے‘‘۔یہ حد بندیٔ خزاں سے حصارِ بہار تک کا فاصلہ ہے جس کے درمیان بس رقص ِ بسمل ہو رہا ہے۔افلاطونی عشق کا زمانہ واپس آ گیا ہے ،حالانکہ سنا ہے ’ٹیلی فونک وصل ‘ قسم کی بھی کوئی چیز ایجاد ہو چکی ہے۔ مگر یہ جسمانی فاصلے عشق و محبّت کی شدّت اور اور خلوص کا متحان ضرور ثابت ہوں گے۔ویسے تو علّامہ اقبال تلقین فرما گئے ہیں کہ ’اگر خواہی حیات اندر خطر زی‘ لیکن عذر ِ مستی رکھ کر چھیڑنے یا داغ کی طرح جھوٹ موٹ غش کھا کر یار کے قدموں پہ گرنے کے بجائے بہتر یہی ہے کہ شجر سے پیوستہ ہوئے بغیر امیدِ بہار رکھی جائے۔جان ہے تو جہان ہے پیارے

مضمون نگار سپریم کورٹ کے سینئر وکیل ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ موصوف مختلف سماجی اور ادبی کازوں سے وابستہ ہیں۔ آپ موقر ادارے عالمی اردو ٹرسٹ کے چیئرمین بھی ہیں۔