کرناٹک حکومت نے سماجی سائنس کی نصابی کتب سے ٹیپو سلطان اور حیدر علی سمیت کچھ ابواب چھوڑنے کے فیصلے پر روک لگائی

بنگلور، 30 جولائی: کرناٹک حکومت نے اسلام، عیسائیت، ٹیپو سلطان اور ان کے والد حیدر علی سے متعلق کچھ ابواب کو سوشل سائنس کی نصابی کتب سے ہٹانے کی متنازعہ تجویز پر فی الوقت روک لگا دی ہے۔

وبائی مرض کی وجہ سے پیدا ہونے والے تعلیمی خلل کا حوالہ دیتے ہوئے حکومت نے اس سے قبل ٹیپو سلطان اور حیدر علی کے باب کو کلاس 7 کی سماجی سائنس کی درسی کتاب سے خارج کردیا تھا۔

اس اقدام کے بعد اپوزیشن نے حکومت کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا، جس نے اس فیصلے کے پیچھے کچھ مخصوص مقاصد دیکھے۔

سخت تنقید کے بعد محکمہ نے کہا ’’وزیر برائے ابتدائی اور ثانوی تعلیم کی ہدایت پر کچھ ابواب چھوڑنے کا فیصلہ روک دیا گیا ہے۔ ایک جائزہ لیا جائے گا جس کے بعد حذف شدہ ابواب کو ویب سائٹ میں اپ لوڈ کیا جائے گا۔‘‘

سابق وزیر اعلی اور کانگریس کے رہنما سدارمیا نے اس معاملے پر ریاستی حکومت پر حملہ کیا تھا۔

انھوں نے ٹویٹ کیا ’’حکومت، جو کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، وہ اسے درسی کتب کو زعفرانی بنانے کے اپنے خفیہ ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے موقع کے طور پر استعمال کررہی ہے۔‘‘