کامل سپردگی‘ سیرتِ ابراہیمی کاپیغام

حضرت ابراہیم ؑکی زندگی ‘ بندگی رب کی تاب ناک مثال

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

قرآن مجید میں یوں تو بہت سے انبیاء کا ذکر خیر ہوا ہے لیکن ان میں سے صرف دو نبیوں کی زندگی کو صراحت سے ’اسوہ‘ (نمونہ) کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ ایک ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دوسرے خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ۔ حضرت ابراہیمؑ کے بارے میں کہا گیا: ’’تم لوگوں کے لیے ابراہیمؑ اور اس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے‘‘ (الممتحنۃ: ۴) اسی سورہ میں آگے پھر اسی بات کو دہرایا گیا ہے: ’’تمہارے لیے ان لوگوں کے طرزِ عمل میں اچھا نمونہ ہے اور ہر اس شخص کے لیے بھی جو اللہ اور روزِ آخرت کا امیدوار ہو۔‘‘ (الممتحنۃ:۶)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ایک امتیاز یہ ہے کہ دنیا کے تین بڑے مذاہب کو ماننے والے ان کی طرف اپنا انتساب کرتے ہیں اور اس پر فخر جتاتے ہیں۔ اگرچہ ان مذاہب کے درمیان بعض بڑے اختلافات ہیں۔ یہودیت ایک نسلی مذہب ہے، عیسائیت میں عقیدہ تثلیث کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے جب کہ اسلام توحید کا علم بردار ہے، اس کے باوجود تینوں مذاہب کے پیروکار انہیں اپنا جد امجد سمجھتے اور ان پر اپنی عقیدت اور محبت نچھاور کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں خاص طور سے یہود اور نصاریٰ کی گم راہیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان کا ابراہیمؑ سے کوئی تعلق نہ تھا، وہ ان تمام آلائشوں سے پاک تھے: ’’ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی، بلکہ وہ تو حنیف (اللہ کے لیے یکسو) اور مسلم تھا اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا۔‘‘(آل عمران:۶۷)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ دو ہزار برس قبل مسیح کا بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں خانہ کعبہ کی تعمیر کی، پھر اسی کے حکم سے حج کی منادی کی۔ ان کی آواز دنیا کے کونے کونے میں سنی گئی۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ چار ہزار برس سے زیادہ عرصہ گزر گیا ہے، لوگ لاکھوں کی تعداد میں دنیا کے ہر گوشے سے کھنچ کر وہاں پہنچتے ہیں، اللہ کی کبریائی کا اعلان کرتے ہیں اور ٹھیک اسی طرح حج کے مراسم ادا کرتے ہیں جیسے حضرت ابراہیمؑ نے ادا کیے تھے۔ سال کا کوئی لمحہ وہاں رکوع، سجدہ، طواف اور عمرہ کرنے والوں سے خالی نہیں رہتا۔ حج کے متعدد مناسک حضرت ابراہیمؑ اور اور ان کے اہلِ خانہ حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی یادگار کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ گویا ہر لمحے انسانوں کی بہت بڑی تعداد کی زبانوں پر ان کا ذکرِ خیر رہتا ہے اور وہ ان کی محبت و عقیدت میں ڈوبے رہتے ہیں۔
حضرت ابراہیمؑ کی ولادت جس زمانے اور جس علاقے میں ہوئی وہاں شرک اور بت پرستی کا غلغلہ بلند تھا۔ لوگ مٹی پتھر کے بت بناتے اور انہیں پوجتے تھے۔ ستارہ پرستی کا بھی چلن تھا۔ ان کے خاندان کو اس معاملے میں سربراہی حاصل تھی۔ ان کا باپ پروہت تھا۔ لیکن حضرت ابراہیمؑ نے فطرتِ سلیمہ پائی تھی۔ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچے تو انہوں نے مظاہرِ کائنات میں غور و فکر کرنا شروع کیا اور اس نتیجے تک پہنچے کہ یہ مظاہر خدا نہیں ہو سکتے، انہیں ایک عظیم ہستی نے پیدا کیا ہے اور یہ سب اس کے حکموں کے پابند ہیں، جن سے یک سر مو بھی انحراف نہیں کر سکتے۔ حضرت ابراہیمؑ نے توحید کا برملا اظہار کیا، پھر جب وہ نبوت سے سرفراز ہوئے تو انہوں نے اس کی طرف دعوت دینی شروع کر دی۔ اپنے باپ، اپنی قوم اور حکم ران وقت سب کو شرک و بت پرستی سے روکا اور توحید کی تعلیم دی۔ قوم آپ کی مخالف ہو گئی، لیکن آپؑ نے اس کی ذرا بھی پروا نہیں کی۔ آپ نے اپنے وطن سے ہجرت کی تو جہاں بھی گئے وہاں توحید کا کلمہ بلند کیا۔ آپ کا تعمیر کردہ خانہ کعبہ آج بھی توحید کا نشانِ امتیاز بنا ہوا ہے۔
قرآن مجید میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ کو متعدد آزمائشوں سے دوچار کیا اور آپ ہر آزمائش میں پورے اترے۔ آپ کو قوم کی طرف سے تکالیف کا سامنا کرنا پڑا، ہجرت کی صعوبتیں برداشت کیں، اپنے اہلِ خانہ کو خود سے الگ کر کے مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں لے جا کر بسا دیا، بیٹا بھاگ دوڑ کرنے کے قابل ہوا تو اشارہ غیبی پا کر اسے ذبح کرنے پر تیار ہو گئے۔ غرض جب تمام آزمائشوں میں کھرے ثابت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے آپ پر انعامات کی بارش کر دی اور آپ کو رہتی دنیا تک تمام انسانوں کا امام بنا دیا۔ (البقرۃ:۱۲۴)
قرآن مجید میں حضرت ابراہیمؑ کے بہت سے ذاتی اوصاف بیان گئے ہیں۔ مثلاً حنیف (اللہ کے لیے یکسو) مسلم (اللہ کے لیے خود سپردگی کرنے والا) امۃ (اللہ کا اطاعت گزار) قانت (اللہ کا تابع دار) اوّاہ (اللہ کے لیے خشوع اور تضرّع اختیار کرنے والا) منیب (اللہ کی طرف بار بار پلٹنے والا) شاکر (اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے والا) عابد (اللہ کی عبادت کرنے والا) وغیرہ۔ یہ تمام اوصاف ایک بنیادی، مرکزی اور اہم ترین وصف کے گرد گھومتے ہیں اور وہ ہے ’اسلام‘ یعنی اپنی ذات کو مکمل طور پر اللہ کے حوالے کر دینا، ہر معاملے میں اس کی رضا کو پیش نظر رکھنا، اس کی معصیت سے بچنا، اس کے حکموں پر فوراً عمل کرنے کے لیے تیار ہو جانا اور اس کی راہ میں ہر طرح کی مشقت اور تکلیف کو برداشت کرنا۔ قرآن مجید میں حضرت ابراہیمؑ کے تعلق سے اس وصف کا تذکرہ متعدد بار ہوا ہے۔ ایک جگہ ہے: ’’اس کا حال یہ تھا کہ جب اس کے رب نے اس سے کہا: اسلام لے آ تو اس نے فوراً کہا میں ربِّ کائنات کے لیے اسلام لے آیا۔‘‘(البقرۃ: ۱۳۱)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مطالبے پر حضرت ابراہیمؑ نے اپنی زبانِ مبارک سے ’اسلام‘ کا اقرار کیا تھا لیکن آیت کو اسی معنیٰ تک محدود رکھنا صحیح نہیں ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے نہ صرف زبانِ قال سے اللہ کے لیے اپنی اطاعت و فرماں برداری کا اظہار کیا تھا بلکہ اپنی زندگی کے ہر لمحے میں زبانِ حال سے اس کا ثبوت بھی فراہم کیا۔ اللہ کے حکم پر فوراً عمل کرنے کے لیے تیار ہو جانے کا نقطہ عروج ہمیں واقعہ ذبح میں نظر آتا ہے۔ خواب میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے بیٹے کو ذبح کرنے کا اشارہ پا کر حضرت ابراہیمؑ فوراً اس پر عمل کرنے کے لیے آمادہ ہو گئے۔ بیٹے سے اس خواب کا ذکر کیا تو اس نے بھی حکمِ الٰہی کے سامنے اپنی جبینِ نیاز خم کر دی۔ دونوں کی اس کیفیت کو قرآن نے لفظ ’اسلام‘ سے تعبیر کیا ہے: ’’آخر جب وہ دونوں اسلام لے آئے اور ابراہیمؑ نے اپنے بیٹے کو ماتھے کے بل گرا دیا اور ہم نے ندا دی کہ اے ابرہیمًؑ! تو نے خواب سچ کر دکھایا۔ ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔‘‘ (الصافات: ۱۰۳۔۱۰۵)
اللہ تعالیٰ کے لیے خود سپردگی کا یہ جذبہ حضرت ابرہیمؑ کی ذات تک ہی محدود نہیں رہا، بلکہ اسے انہوں نے اپنی نسل میں بھی منتقل کیا۔ چنانچہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے وقت ان کی اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی جو دعا قرآن مجید میں نقل کی گئی ہے اس میں یہ الفاظ بھی ہیں: ’’اے رب! ہم دونوں کو اپنا ’مسلم‘ (مطیع فرمان) بنا اور ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا جو تیری مسلم ہو۔‘‘ (البقرۃ: ۱۲۸) حضرت ابراہیمؑ کے پوتے حضرت یعقوبؑ (حضرت اسحاقؑ کے بیٹے) نے بھی اپنی اولاد کو اسی کی تاکید کی تھی کہ زندگی کی آخری سانس تک اسلام پر قائم رہنا: ’’اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت ابراہیمؑ نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوب ؑ اپنی اولاد کو کر گیا تھا۔ اس نے کہا: میرے بچو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے۔ لہٰذا مرتے دم تک تم مسلم ہی رہنا۔‘‘(البقرۃ: ۱۳۲) چنانچہ جب حضرت یعقوبؑ نے اپنے انتقال کے وقت اپنے بچوں سے دریافت کیا کہ تم میرے بعد کس کی بندگی کرو گے؟ تو ان سب نے جواب دیا تھا: ’’ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں: ابراہیمؑ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ نے خدا مانا اور ہم اسی کے مسلم ہے۔‘‘(البقرۃ: ۱۳۳)
حضرت ابراہیم ؑ کا اسوہ یہ سکھاتا ہے کہ ان کے نام لیوا اور ان سے محبت و عقیدت کا اظہار کرنے والے بھی ان کی طرح اللہ تعالیٰ کے مطیع فرمان بنیں، ان کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں گزرے، جن چیزوں کا اس نے حکم دیا ہے اس پر بے چوں چرا فوراً عمل کرنے پر تیار ہو جائیں اور جن چیزوں سے اس نے روکا ہے ان کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔ ملّت ابراہیمی کی اتباع کا یہی تقاضا ہے اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے ’بہتر طریق زندگی‘ سے تعبیر کیا ہے۔ اس کا ارشاد ہے:
’’اُس شخص سے بہتر اور کس کا طریقِ زندگی ہو سکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سرِ تسلیم خم کر دیا اور اپنا رویہ نیک رکھا اور ابراہیم ؑ کے طریقے کی پیروی کی، جو اللہ کے لیے یکسو تھا‘‘ (النساء: ۱۲۵)
(ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی شعبۂ اسلامی معاشرہ، جماعت اسلامی ہند کے سکریٹری ہیں)
***

 

***

 حضرت ابراہیم ؑ کا اسوہ یہ سکھاتا ہے کہ ان کے نام لیوا اور ان سے محبت و عقیدت کا اظہار کرنے والے بھی ان کی طرح اللہ تعالیٰ کے مطیع فرمان بنیں، ان کی زندگی کا ہر لمحہ اللہ کی اطاعت و فرماں برداری میں گزرے، جن چیزوں کا اس نے حکم دیا ہے اس پر بے چوں چرا فوراً عمل کرنے پر تیار ہو جائیں اور جن چیزوں سے اس نے روکا ہے ان کے قریب بھی نہ پھٹکیں۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  10 جولائی تا 16 جولائی 2022