مولانا عبیداللہ کی تصنیف ’’ تحفۃ الہند ‘‘مطا لعہ ادیان پر اہم دستاویز

ڈاکٹر ظفردارک قاسمی،علیگڑھ

 

دین اسلام ہی ایک ایسا نظام حیات ہے، جو زندگی کے تمام شعبوں میں مکمل رہنمائی کرتا ہے۔ چاہے ان کا تعلق عقائد ، عبادات، معاملات، اخلاقیات یا پھر سیاست و امامت سے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کا دائرہ کار ہر زمانہ میں بڑھتا رہا ہے۔ موجودہ حالات میں اگر ہم عالمی منظر نامے کا انصاف سے تجزیہ کریں۔ تو یہ حقیقت طشت ازبام ہوتی ہے کہ جن خطوں اور ممالک میں اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کیا گیا، دین اسلام کو حسد اور عناد کی بناء پر بدنام کرنے کی ناکام سعی کی گئی ۔ آ ج وہیں سب سے زیادہ لوگ داخل اسلام ہورہے ہیں۔
یہ امر واقعہ ہے کہ جب بھی اسلام کے خلاف نفرت یا زہر افشانی کی گئی ہے تو اس کے نتیجہ میں نہ جانے کتنے افراد کے اندر اسلام کا مطالعہ کرنے کا شوق و جذبہ جاگزیں ہونے لگتا ہے۔ پھر وہ اسلام کی خوبیوں اور اس کی پاکیزہ و روشن تعلیمات سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں آجاتے ہیں۔ یہ سلسلہ آج سے شروع نہیں ہوا ہے۔ بلکہ صدر اسلام سے لے کر آج تک یہ تانتا لگا ہوا ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ شاید ہی کوئی دقیقہ یا دن گزرتا ہوگا کہ نئے لوگ اسلام میں پناہ نہ لیتے ہوں ۔ اسی پر بس نہیں ہے۔ کتنے نو مسلم ایسے ہیں جنہوں نے قبول اسلام کے بعد بلا زور و جبر کے اسلام کی مدح سرائی میں کتب تحریر کی ہیں ۔ اسی طرح کا ایک واقعہ پاپل بستی ( یہ بستی راجہ پٹیالہ کے علاقے میں واقع ہے۔ اور یہ شہر لدھیانہ سے تھوڑی دوری پر مشرق کی جانب واقع ہے) میں پیش آیا وہاں کے ایک اننت رام نامی شخص دولت اسلام سے سرفراز ہوئے۔ اسلام لانے کے بعد ان کا نام عبیداللہ (1310ھ) رکھا گیا۔ انہوں نے اسلام سے سرفراز ہونے کے بعد اسلام اور ہندو دھرم کے تقابل پر ’’تحفة الہند‘‘ کے نام سے ایک کتاب تحریر کی۔ اس کتاب کے مقدمے میں مصنف نے اپنے اسلام لانے کے واقعہ کو بھی قلم بند کیا ہے۔ یہ کتاب تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں ایک تکملہ اور رسالہ کتھا سلوئی بھی ہم رشتہ عریضہ ہے۔ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے جس کی تفصیل اس طرح ہے۔
مباحث کتاب
باب اول عقائد، اس کے تحت درج ذیل مباحث پر فاصل مصنف نے گفتگو کی ہے۔ عقیدہ توحید، فرشتے، کتابیں، انبیاء، قیامت، معبود، اختلاف مذاہب، دعوت و تبلیغ، باب دوم کے مباحث کی تفصیل درج ہے۔ عبادات، نماز، روزہ، صدقہ، حج ، ایصال ثواب، باب سوم معاملات پر مشتمل ہے اس کے مباحث بھی قابل مطالعہ ہیں ۔ نکاح، حلال و حرام، سلام کہنا، کاموں کا شروع، شرافت ورذالت، عدالت و انصاف، باب چہارم کے مباحث، ہندوؤں کے جوابات، خاتمہ، اسلام کی خوبیاں، تکملہ، کتھا سلوئی۔
یہاں یہ بات بتانا مناسب ہے کہ بالائی سطروں میں جو مباحث بیان کیے گئے ہیں ان میں اسلام اور ہندو دھرم کا تقابل پیش کیا گیا ہے۔ اطمینان بخش بات یہ ہے کہ صاحب کتاب نے ہندوؤں کی تعلیمات کو ان کے بنیادی مذہبی منابعات اور مصادر ومراجع سے نقل کرکے کتاب کی اہمیت کوبڑھا یا ہے۔
تاریخ اشاعت
کتاب کی سن اشاعت کی بابت خود مصنف نے لکھا ہے۔ اس کو پہلی بار 1268میں لدھیانہ کے کتب خانہ نے شائع کیا۔ پہلی اشاعت کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے کہ ’’ اس میں بعضے الفاظ اور عبارات مشکل تھیں جو ہر کسی کے سمجھ میں نہیں آسکتی تھیں۔ لہذا شیخ عبد القادر ، مولانا شیخ محمد حسین، اور رفیق میر احمد صاحب نے نظر ثانی کرکے اس کی مشکل عبارت کو آسان بنایا اور ضروری اضافہ کے ساتھ، 1272 میں مطبع مصطفائی دہلی سے بار دوم منظر عام پر آیا ۔ پھر اس کو مطبع ہاشمی نے 1277میں شائع کیا لیکن اس میں کسی طرح کی ترمیم نہیں کی گئی۔ البتہ جب بار سوم 1278میں مطبع سکندری بھوپال سے شائع ہوا تب اس میں پھر ترمیم و اضافہ کیا گیا، ہمارے سامنے جو نسخہ ہے اس پر ملنے کے پتے درج ذیل لکھے ہیں شائقین وہاں سے اس کتاب کو حاصل کرسکتے ہیں۔ ادارہ احیاء السنہ، گرجا گھر۔ گوجرانوالہ ۔ پاکستان۔ ادارہ احیاء السنہ۔ اُردو بازار ۔ غزنی ٹرسٹ رحمان مارکیٹ ۔ لاہور ، ادارہ احیاء السنہ۔ کورٹ روڈ ۔ مسجد اہل حدیث ۔ کراچی۔
سبب تالیف
مولانا عبیداللہ نے لکھا ہے کہ’’ پاپل کا یہ فقیر لڑکپن میں اپنے باپ کے جیتے جی گرفتار دین بت پرستی تھا اتنے میں رحمت الٰہی نے ہاتھ پکڑ کر کھینچا، یعنی اسلام کی خوبیاں اور ہندوؤں کے دین کی قباحتیں میرے دل پر کھل گئیں اور دل و جان سے دین اسلام کو اختیار کیا۔ پھر دوبارہ عقل خدا داد نے مشورہ دیا کہ دین و مذہب کی تحقیق میں ہمیشہ کے آرام یا ہمیشہ کا عذاب اسی پر موقوف ہے۔ بے تحقیق صرف اورباپ ، دادا کی رسم سے گمراہی کے جال میں پھنسے رہنا کمال نادانی ہے۔پس یہ خیال کرکے مشہور اور روانی دینوں کا حال دریافت کرنے لگا۔اور بدوں رعایت کسی دین کے ہر مذہب میں فکر اور خوض کیا۔ ہندوؤں کے دین کو بخوبی معلوم کیا ۔ اور ان کے بڑے بڑے پنڈتوں سے گفتگو کی اور دین نصاریٰ کے اعتقاد کو بخوبی معلوم کیا۔اور دین اسلام کی کتابیں بھی دیکھیں۔ اور عالموں سے بات چیت کی۔ سب دینوں کو بنظر انصاف لگاؤ کسی دین کے سوچا اور خوب چھانا سب کو غلطی پر پایا، سوائے دین اسلام کے۔ آگے لکھتے ہیں کہ مدت سے خیال تھا کہ واسطہ فایدہ عام کے بیان حقیقت دین اسلام اور ملت ہنود میں لکھا جاوے جو کوئی صاحب عقل انصاف کی نظر سے دیکھے حق اور باطل اس پر کھل جاوے۔ سو الحمد للّٰہ سن ۱۲۶۸میں یہ مختصر مسمی بہ تحفة الہند ضبط تحریر میں لایا گیا’’ یعنی یہ رسالہ حق اور باطل میں امتیاز کی غرض سے لکھا گیا ہے۔ ضمناً یہ بھی عرض کردوں کہ ہمارا بنیادی اور اہم فریضہ یہی ہے کہ ہم اسلام کی ترویج و اشاعت کی غرض سے اور رضائے الٰہی کےلیے دین کا کام کریں۔ نیز یہ بات بھی مد نظر رہے کہ اگر ہم کسی دوسرے مذہب یا افکار و نظریات پر خامہ فرسائی کررہے ہیں تو اس میں بھی یہ پہلو غالب رہے کہ حق اور باطل واضح ہو جائے۔ تاکہ کوئی قاری کسی بھی طرح کی الجھن یا شکوک و شبہات میں مبتلا نہ ہو۔ اس کتاب کے مصنف نے بھی یہی پیغام دیا ہے کہ اس کو حق و باطل میں امتیاز وفرق کی غرض سے حوالہ قرطاس کیا گیا ہے۔ چنانچہ فاضل مصنف کتاب کے دیباچہ میں رقمطراز ہیں۔ ’’ہندوؤں کے بزرگوں کی روایات اور حکایات کہ اس کتاب میں لکھی گئی ہیں ایسے اور بہت قصے ان کی پوتھیوں میں مذکور ہیں یہاں تھوڑے سے بطور نمونے کے لکھے گئے ہیں۔ لیکن وقت گفتگو اور مناظرہ ، کے بعد بعض ہندو ان حکایات سے صاف انکار کرجاتے ہیں اور اکثر اہل اسلام کہ ان کی کتابوں سے واقف نہیں اس کے جواب میں چپ ہوجاتے ہیں‘‘۔ لہذا اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے ہندو دھرم کے متعلق بہت سی نادر معلومات سامنے آ ئین گی نیز جب بھی علماء ہنود سے مناظرہ یا گفتگو کا موقع ہوگا تو یہ کتاب اس سلسلے میں کافی مدد کرے گی۔
اہم مباحث کا تجزیہ
کتاب کا پہلا باب عقیدہ توحید پر مبنی ہے۔ اس باب میں انہوں نے اسلام کا تصور توحید اور ہندو دھرم کا نظریہ توحید پیش کرنے کی جسارت کی ہے۔ اسلام نے توحید کا جو جامع اور مانع تصور پیش کیا ہے اس کے اعادہ کی یہاں ضرورت نہیں ہے۔ البتہ توحید پر ایمان و یقین لانے سے فرد و شخص کے اندر آزادی و حریت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے وہ متعدد خداؤں کی اتباع و اطاعت سے آزاد ہوتا ہے۔ اس کو صرف ایک رب کی مرضی کے مطابق اپنی زندگی کو استوار کرنا ہے۔ البتہ ہندو دھرم میں توحید کا یہ تصور قطعی نہیں پایا جاتا ہے۔ بلکہ ہر نفع اور نقصان کی چیز سے متاثر ہوکر اہل ہنود پرستش کرنا شروع کر دیتے ۔ جو نوع انسانی کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دیتا ہے۔ اب مولانا عبیداللہ کے تحقیق کو دیکھیے۔ ہندو ازم میں تصور خدا یا توحید کے حوالے سے۔ مولانا عبیداللہ رقم طراز ہیں۔ ’’جاننا چاہیے کہ از روئے دین ہندوؤں کے خدا دو طور پر ہے۔ ایک نرگن یعنی جس کی کوئی صفت نہیں۔ ۔دوسرا سر گن یعنی صفتوں والا اور کہتے ہیں کہ نرگن اس وقت ہوتا ہے جب تمام مخلوقات فنا ہوتی ہے اور اس کی اس حالت کا بیان کچھ بھی نہیں ہوسکتا اور سرگن اس وقت ہوتا ہے جب اس کا پیدا کرنے کا ارادہ ہوتا ہے۔ اور مایا کی جنبش ہوتی ہے۔ تو تین گن یعنی رج ( रज) اور ست ( सत) اور تم (तम) اس میں ظاہر ہوتی ہیں۔ رج کی جہت سے بشن (وشنو)کی صورت میں ظاہر ہوکر خلقت کو پیدا کرتا ہے۔ اور ست کی جہت سے ظاہر کور شیو کی صورت میں خلقت کو پالتا ہے۔ اور تم کی رو سے مہادیو کی صورت میں ظاہر ہوکر خلقت کو فنا کرتا ہے۔ گویا برہما، وشنو اور مہادیو یہ تینوں دیوتے بقول ہندوؤں کے مظہراور نائب خدا بلکہ ایک خدا کے تین خدا اور بالکل حاکم و مختار سارے جہاں کے ہیں ‘‘ (تحفة الھند صفحہ 15-16) یہ تصور ہے ہندو ازم میں خدا کا ۔ یعنی پیدا کرنے والا الگ ہے، ہلاک کرنے والا الگ اور رزق دینے والا الگ، ان کو بعض دیگر مآخذ میں برہما ، وشنو اور شیو بھی کہا گیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ان تینوں دیوتاؤں کے متعلق ہندو ازم کے مصادر میں کیا لکھا ہے اس پر گفتگو کی جائے۔ فاضل مصنف نے شیو پران کے حوالے سے وشنو دیوتا کے بارے میں درج ذیل حقائق کا انکشاف کیا ہے۔ سب سے پہلے وشنو کی ناف سے کنول کا پھول نکلا اسی میں سے برہما پیدا ہوا، برہما اور وشنو آ پس میں جھگڑنے لگے، برہما نے کہا تجھ کو میں نے پیدا کیا ہے ، وشنو نے کہا میں نے تجھ کو پیدا کیا ہے،اتنے میں آسمان سے ایک دھواں ظاہر ہوا اس دھوئیں میں سے برہما کو خطاب ہوا کہ تو برہما اور یہ وشنو ہے۔ جس کی ناف سے کنول نکلا اور اس سے نگاہ کی تو اس میں سے ایک لنگ یعنی آلت نظر آئیں، برہما ہنس کی شکل اس لنگ کی پیمائش کےلیے اوپر کو اُڑا کر اور وشنو سور (خوک) بن کر پاتال کو گیا ۔ دس ہزار برس تک دونوں دوڑے گئے پر اس لنگ کا انتہاء نہ پایا پس برہما نے جان لیا کہ میرا مالک اور پیدا کرنے والا یہی ہے۔ اس وقت سے اس لنگ کی پوجا شروع کی کہ آج تک ہوتی ہے۔‘‘ (ایضا 23) اس اقتباس کے ذیل میں مولانا عبیداللہ نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے اس کو قارئین کی دلچسپی کےلیے ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔
’’اس سے معلوم ہوا کہ برہما اور وشنو ایسے تھے جو آپس میں جھگڑنے لگے اور ہر کوئی اپنے آپ کو دوسرے کا پیدا کرنے والا جاننے لگا اور پھر برہما نے اپنے خالق کو پہچانا تو اس طرح پہچانا کہ ایک بڑے آلت کو بسبب درازی اس کے اپنا خالق سمجھ لیا اور دونوں مل کر اس آلت کی مقدار دریافت کرنے سے عاجز ہوگئے۔ اور آلت کا دریافت کرنا اور اس ناپنے میں اہتمام کرنا عقلمندوں کا کام نہیں بلکہ مسخروں اور بڑے بے حیاوں کا کام ہے۔ غرض ایسے شخصوں کو مظہر خدا بلکہ خدا کہنا محض گمراہی ہے۔‘‘ (ایضا)
اسی طرح بعض شا ستروں میں ان تینوں کے متعلق غیر مناسب الفاظ کا بھی استعمال کیا گیا ہے۔
چنانچہ اسگند پران کے حوالے سے فاضل مصنف رقم طراز ہیں۔ وشنو کے درشن سے شیو یعنی مہادیو خفاہوتا ہے۔ اور مہا دیو کی خفگی سے بلاشک بڑی دوزخ میں جاتا ہے۔ میمانس شاستر میں لکھا ہے کہ خدا خالق نہیں بلکہ پیدا ہونا جہان کا کام یعنی اعمال سے جانتے ہیں اور بعضوں کے نزدیک یعنی زمانہ سے پیدا ہونا جہان کا ہے ۔ (ایضا صفحہ 24)
اسی طرح خدا کے متعلق ہندو ازم کے شاستروں ، اور دیگر مآخذ میں لکھا ہے کہ ’’جب کوئی شخص باغی اور متکبر سر کشی شروع کرکے دیوتا وغیرہ کو تکلیف دیتا ہے تو خدا ایک شکل اختیار کرتا ہے۔ یعنی ایک جسم میں اترتا ہے۔ اس واسطے اس کو اوتار کہتے ہیں سو بعضے کہتے ہیں کہ چوبیس مرتبہ خدا نے جسم اختیار کیا اسی وجہ سے ہندو ازم میں دس اوتار بہت مشہور ہیں ۔‘‘ (ایضا صفحہ 27) اب یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں ہے کہ ہندو ازم میں خدا کا متعلق جو عقیدہ ہے وہ نہایت بودا اور کمزور ہے۔ لیکن اسلام نے توحید کا جو جامع تصور پیش کیا وہ اپنی جگہ آپ ہے اس کےلیے قرآن کی سورہ اخلاص وغیرہ کو دیکھا جاسکتا ہے۔
کتاب کی عصری ضرورت
اس کتاب کی اہمیت کئی اعتبار سے دو چند ہے۔ ایک تو یہ کہ فاضل مصنف نے دونوں مذاہب کے بنیادی مسائل پر گفتگو کی ہے۔ پھر دونوں میں باہم تقابل کرکے وجہ ترجیح اور ہندو ازم کے کمزور نکات کو بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ خط کشیدہ الفاظ میں جو اپنا نظریہ یا تنقید پیش کی ہے وہ انتہائی اہم بلکہ بحث کا لب لباب ہے۔ اسی طرح اس کتاب کے مطالعہ سے اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ہندو دھرم کی بھی اہم اور بنیادی تعلیمات سمجھنا بہت آسان ہوگا۔ اس کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ فاضل مصنف نے ان چیزوں کو پیش کیا ہے جن کا تعلق روز مرہ کی زندگی سے ہے۔ کیونکہ عقائد، عبادات، معاملات یہ زندگی کے وہ شعبے ہیں جن کو کسی وقت بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔ لہذا یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ اس کتاب کے مطالعہ سے ہندو دھرم کی بنیادی تعلیمات کا احاطہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح یہ کتاب فاضل مصنف کے ذاتی تجربات پر مبنی ہے۔ کیونکہ انہوں نے زندگی کا ایک حصہ اسی دھرم کا فرد ہوکر گزارا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت کائنات کا ایک بڑا طبقہ درست اور صالح رہنمائی کا منتظر ہے۔ اس لیے ہمیں خود بھی اور اپنی نسلوں کو تیار کرنا ہوگا جو عوام کی پاکیزہ خطوط پر رہنمائی کر سکیں۔ نیز بھٹکتے ہوئے افراد کو منزل مقصود تک پہنچا سکیں۔ یہی ہماری ذمہ داری اور یہی ہمارا بنیادی و آئینہ حق بھی ہے۔ آخر میں یہ عرض کردوں کہ اسی کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد مولانا عبیداللہ سندھی اسلام میں
داخل ہوئے تھے۔
***

اس کتاب کی اہمیت کئی اعتبار سے دو چند ہے۔ ایک تو یہ کہ فاضل مصنف نے دونوں مذاہب کے بنیادی مسائل پر گفتگو کی ہے۔ پھر دونوں میں باہم تقابل کرکے وجہ ترجیح اور ہندو ازم کے کمزور نکات کو بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ خط کشیدہ الفاظ میں جو اپنا نظریہ یا تنقید پیش کی ہے وہ انتہائی اہم بلکہ بحث کا لب لباب ہے۔ اسی طرح اس کتاب کے مطالعہ سے اسلامی تعلیمات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ ہندو دھرم کی بھی اہم اور بنیادی تعلیمات سمجھنا بہت آسان ہوگا۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ یکم تا 7 نومبر، 2020