معیشت کمزور،فرقہ پرستی کا زور

گلوبل ہنگر انڈیکس میں پڑوسی ممالک نے ہمیں پیچھے چھوڑا

پروفیسر ظفیر احمد، کولکاتا

 

جہاں تک بھارتی معیشت کا تعلق ہے وہ ابھی تک لڑکھڑا رہی ہے جاریہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اس کا فیصد منفی 23.9رہا۔ کئی ماہرین اقتصادیات نے معیشت کی بہتری کے لیے حکومت کو بے شمار مفید مشورے دیے لیکن حکومت نے اسے وقعت نہیں دی۔ عالمی اداروں نے ایک کے بعد ایک بیمار معیشت کے چہرے سے نقاب ہٹانا شروع کردیا ہے چنانچہ 107ممالک کے عالمی بھوک انڈیکس Global Hunger انڈیکس 2020کی درجہ بندی میں بھارت کا مقام 94واں ہے۔ ہمارے ملک کو بھوک کے سنگین زمرے میں شامل کیا گیا جو ہمارے پڑوسی ممالک کے مقابلے میں کافی پیچھے ہے۔ بھوک انڈیکس کو ناپنے کے چند پیمانے ہیں۔ 5سال سے کم عمر کے بچوں کے شرح اموات، بچوں کی بربادی (جس میں 5سے کم عمر کے بچوں کی اونچائی کے اوسط سے کم وزن کا ہونا) اور بچوں کے نشو و نما کا رک جانا (5سال سے کم عمر کے بچوں کی اونچائی کا کم ہونا) وغیرہ۔ آئرلینڈ ہومینیٹرین ایجنسی (Ireland Humanitarian agency Concern Worldwide) اور جرمنی کی ایڈ ایجنسی وتھنگر لائف کے شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کے بچوں کی بربادی جس میں 2015-19کے درمیان بچوں میں تغذیہ کے فقدان کو بہت سنگین طریقے کی زیادتی کو ظاہر کرتا ہے ۔ ماہرین نے اس کے نفاذ کے ناقص طریقہ کار موثر نگرانی کی کمی، غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے مایوس کن نقطہ نظر اور ملک کی بڑی ریاستوں کے فرسودہ کارکردگی کو ذمہ دار ٹھیرایا ہے۔ اس انڈیکس میں جو مقام سوڈان کا ہے وہی ہمارا ہے۔ 17ملکوں میں بھوک انڈیکس کا حال بھارت سے بھی برا ہے وہ ہے شمالی کوریا، روانڈا، نائیجیریا، افغانستان، لیسو تھو اور سیرالیون قابل ذکر ہیں۔ جی ایچ آئی میں جن ممالک کا 9.9اسکور ہوتا ہے وہ بھوکے کم ہوتے ہیں۔ 10-19.9کا اسکور اوسط ، 20-34.9 سنگین اور 35-49.9سنگین تر اور 50سے اوپر کا اسکور سنگین اور بہت خطرناک ہوتا ہے۔ بھارت جی ایچ آئی اسکور 2000میں38.9اور 2006میں 37.5اور20212 میں 29.3تھا۔ گزشتہ سال ہمارا مقام 117ممالک میں 102واں تھا۔ 2018میں 119ممالک میں 103واں تھا۔ پڑوسی ممالک بنگلہ دیش، میانمار 78ویں اور پاکستان 88ویں مقام پر ہے جبکہ نیپال 73ویں اور سری لنکا 64ویں نمبر پر ہے۔ چین، بیلا روس، یوکرین، ترکی، کیوبا اور کویت اس پورٹ کے مطابق بھارت کی 14فیصد آبادی ناقص غذائیت کا شکار ہیں جے این یو کے اسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر ہمانسو نے کہا کہ غربت اور نابرابری کی وجہ سے بھارتی عوام تک ملکی معیشت کی ترقی کا فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔ نابرابری کی وجہ سے سماج کے چنندہ افراد ہی تمام فائدہ لوٹ لے جاتے ہیں۔ مسٹر ہمانسو نے بتایا کہ ہماری حکومت عوامی تعلیم، صحت، غذائیت، سماجی سلامتی پر بہت کم خرچ کرتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5سال عمر کے بچوں میں شرح اموات 3.7فیصد ہے جبکہ ایسے بچوں کی شرح 37.4فیصد ہے جو ناقص غذائیت کی وجہ سے بڑھ نہیں پاتے ہیں۔ نتیجتاً برصغیر کے پڑوسی ملکوں میں بچوں کا قد چھوٹا ہوتا ہے۔ اس کے دیگر وجوہات میں مناسب غدائیت کا فقدان، زچگی کی خراب حالت اور غربت شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق قبل از وقت پیدائش اور کم وزنی کی وجہ سے بچوں کی اموات میں اضافہ ہوتا ہے خاص طور پر غریب ریاستوں، یو پی، بہار، مدھیہ پردیش وغیر اور ملک کے دیہی علاقوں میں بین الاقوامی خوراک پالیسی ریسرچ تنظیم نئی دلی میں ریسرچ اسکالر پورنیما منن نے بتایا کہ مذکورہ بڑی ریاستوں میں بہتری ضروری ہے تاکہ بھارت کے بھوک انڈیکس کی اوسط میں بہتری آسکے۔
کمزور اور نحیف معیشت کی دوسری مثال ہمارے سامنے ہے۔ پسماندہ ملکوں میں شمار ہونے والے بنگلہ دیش کی Per Capita(فی کس) جی ڈی پی بھارت کے فی کس جی ڈی پی سے اس کیلنڈرسال میں زیادہ ہوسکتی ہے۔ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ بنگلہ دیش کی فی کس جی ڈی پی 1888ڈالر (تقریباً 138400روپے) ہوسکتی ہے جبکہ یہ بھارت میں 1877ڈالر (تقریباً 137594روپے) ہوسکتی ہے۔ کانگریس کے سابق صدر نے طنزیہ ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ بھاجپا کے نفرت کے زہر سے 6سال کی تہذیبی وطن پرستی کا ٹھوس انعام ہے، امسال کورونا قہر کی وجہ سے بھارت کی جی ڈی پی میں منفی 10.3فیصد کی تنزلی ہے جبکہ اس دوران معیشت میں 3.8فیصد کے حساب سے بہتری آئی ہے۔ درمیان میں بھارت کی فی کس جی ڈی پی میں بہتری کا انداہ ہے مگر 2025میں بنگلہ دیش کی فی کس جی ڈی پی 2756.1ڈالر اور بھارت کی فی کس جی ڈی پی 2739.1ڈالر ہوجائے گی۔ کورنیل یونیورسٹی کے اکانومکس کے پروفیسر اور ورلڈ بینک کے سابق چیف اکانومسٹ پروفیسر کوشک باسو نے کہا ہے کہ بنگلہ دیش غریب ملک کا فی کس جی ڈی پی کے بارے میں آئی ایم کا اندازہ ہے کہ وہ بھارت کے فی کس جی ڈی پی سے بڑھ جائے گا حالانکہ 5 سال قبل بھارت اس محاذ پر 25فیصد بنگلہ دیش سے زیادہ بہتر تھی جو بہت ہی افسوسناک ہے۔ اس کے لیے بہت ہی حوصلہ مند مالی پالیسی تیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کے ڈاٹا کو غور سے دیکھا ہے جس میں آئی ایم ایف نے اندازہ لگایا ہے کہ 2021میں بھارت کی فی کس جی ڈی پی بنگلہ دیش سے زیادہ ہوجائے گی۔ ابھرتی ہوئی معیشت کی یہ بہتری خوش آئند ہے لیکن یہ شرمناک ہے کہ بھارت نے جو 5 سال قبل 25فیصد کی بڑھت بنائے ہوئے تھا اب پیچھے جارہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش کی پوری توجہ ترقی پر اور ہماری توجہ فرقہ پرستی، مندر ، مسجد، الیکشن جیتنے اور لو جہاد پر ہے۔
معیشت کی بہتری کے لیے مرکزی حکومت نے اپنے ملازمین کو چھٹی سفر رعایت (ایل ٹی سی) کے عوض نقد ووچر اور پوجا ایڈوانس کے طور پر 10000روپے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح کے نقد ووچر کا استعمال صرف غیر خوردنی اشیا خریدنے کے لیے کیا جاسکتا ہے جن پر کم از کم 12فیصد جی ایس ٹی کا نفاذہوتا ہے اسے 31مارچ 2021 تک خرچ کرنا ہوگا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ اس قدم سے 19000کروڑ روپے کی طلب پیدا ہوئی۔ اگر نصف ریاستوں نے اس ہدایت پر عمل کیا تو 9000کروڑ روپے کی طلب مزید بڑھ جائے گی۔ ایل ٹی سی پر حکومت کو 5675کروڑ روپے کا صرفہ آئے گا۔ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انوسٹرس سروس نے کہا ہے کہ حکومت کو نئی راحتی پیکیج سے معاشی ترقی میں محدود مدد لے گی حالانکہ اس سے مستقبل قریب میں خریداری کے ذریعے خرچ ضرور بڑھے گا۔ مالی راحت کا لمبے عرصہ سے مطالعہ کے درمیان حکومت نے 12اکتوبر کو سرکاری ملازمین اور ریاستوں کے لیے راحت مالی معاونت اور طلب بڑھانے کے وسائل کا اعلان کیا ہے۔ مرکز نے ریاستوں کو 12ہزار کروڑ روپے بغیر سود اور مزید 2500کروڑ روپے بلاسودی دینے کا اعلان کیا ہے۔ موڈیز نے کہا ہے کہ یہ راحتی پیکیج 45700کروڑ روپے کا جاریہ مال سے حقیقی جو ڈی پی کا مقصد تیوہار کے ایام میں خریداروں کے طلب کو بڑھانا ہے۔ ایجنسی کے مطابق امسال حکومت کے بقیہ راحتی پیکیج میں سے 3 لاکھ کروڑ روپے مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹر پرائزیز(ایم ایس ایم ای) کے لیے ایمرجنسی کریڈٹ لائن گارنٹی اسکیم (ای سی ایل جی ایس) بھی شروع کی گئی اور قرض دیے جارہے ہیں تاکہ معاشی ترقی تیزی سے گھمانے میں مدد ملے ۔ اس کے علاوہ وزیر خزانہ نے مزید راحتی پیکیج کا عندیہ دیا ہے۔

غربت اور نابرابری کی وجہ سے بھارتی عوام تک ملکی معیشت کی ترقی کا فائدہ نہیں پہنچ پاتا۔ نابرابری کی وجہ سے سماج کے چنندہ افراد ہی تمام فائدہ لوٹ لے جاتے ہیں

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ یکم تا 7 نومبر، 2020