طلب میں اضافہ کے بغیر بے روزگاری کم ہوگی اور نہ معیشت مستحکم

لاک ڈاون سے ریاستوں کی معیشت کو 5.5 لاکھ کروڑ روپے کے خسارہ کا امکان

پروفیسر ظفیر احمد، کولکاتا

 

کورونا کے قہر کی دوسری لہر سے طلب کی حالت گمبھیر ہوچکی ہے جس کی تصدیق آر بی آئی نے کردی ہے جس سے معیشت پر اثر پڑنا لازمی ہے۔ آر بی آئی نے اپنے ماہانہ بلیٹن میں کہا ہے کہ کورونا وبا کی شدت بڑھ جانے کی وجہ سے جاریہ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معاشی سرگرمیاں زیادہ ہی زخم کھائی ہیں۔ اس دوسری لہر نے بھارت کے ساتھ ساتھ ساری دنیا میں مصائب کا انبار لگا دیا ہے۔ ماہانہ بلیٹن کے مطابق اپریل اور مئی میں اکانومی انڈیکیٹر کمزور ہوا ہے جس سے طلب سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ حمل ونقل، خرچ وار روزگار میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جب کہ انوینٹری میں اضافہ ہوا ہے۔ طلب کے کم ہونے سے سپلائی چین بھی متاثر ہوئی ہے۔ معاشی سرگرمیاں بہت کمزور ہوئی ہیں مگر یہ کمزوری گزشتہ سال مالی سال کے مقابلے نسبتاً کم ہے۔ آر بی آئی نے ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے رقیقیت (Liquidity) بڑھانے کی ترکیب کی ہے۔ صنعتی شعبہ خصوصاً ایم ایس ایم ای انڈسٹریز کو حالیہ وبا سے زبردست نقصان برداشت کرنا پڑا ہے جس سے این بی ایف سی کی کریڈٹ گروتھ میں کمی واقع ہوئی ہے۔ این بی ایف سی کا خسارہ معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ یہ مارکٹ میں کریڈٹ فلو کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔
ایس بی آئی ایکوراپ (Ecowrap) کی رپورٹ کے مطابق کورونا قہر کی دوسری لہر سے متاثرہ 19ریاستوں میں نافذ لاک ڈاون کے جون تک جاری رہنے سے ان ریاستوں کی معیشت کو 5.5 لاکھ کروڑ روپے کا خسارہ ہو سکتا ہے فی الحال معیشت میں بہتری کا امکان بہت کم ہے۔ گزشتہ دو ماہ میں دیہی بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 14.34 فیصد اور شہری بیروزگاری کی شرح 14.71فیصد ہو گئی ہے۔ اس لیے لاک ڈاون جیسا بھی ہو روزگار کا جانا فطری ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں کارخانے بند ہوئے ہیں جس سے ملک کی گھریلو صنعتیں بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔ منظم سیکٹر کو بھی لاک ڈاون نے کافی متاثر کیا ہے جہاں ہائر اور فائر کا نظام نافذ ہے جس سے کام نہ رہنے پر کارخانہ دار ملازمین کو باہر کا راستہ دکھانے میں تاخیر نہیں کرتے۔ روزگار کے جانے سے مزدوروں کی شہر سے نقل مکانی بھی شروع ہوئی اس بار لوگوں کے اندر زیادہ ہی خوف وہراس نے روزگار کے شعبہ کو متاثر کیا ہے۔ مزدوروں کی نقل مکانی بغیر طبی جانچ کے ہی دیہی علاقوں کی طرف ہوئی۔ اس لیے اس بار وائرس گاوں گاوں پھیل گیا ہے جس سے لاکھوں کی تعداد میں اموات ہوئیں۔ ان سب باتوں کا خیال رکھتے ہوئے ایک بڑی ٹریجڈی کے مد نظر حکومت نے مختلف طرح کے اقدام معیشت کو سہارا دینے کے لیے شروع کیے ہیں۔ دیہی علاقوں میں غریب اور مزدوروں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ حاشیے پر پڑی 80 کروڑ آبادی کو غذائی راحت پہونچانے کا پروگرام بنایا ہے۔ ماہرین اقتصادیات اور حزب اختلاف کے 6000 روپے ماہانہ ہر خاندان کو نقد دینے کے مطالبہ پر اب تک عمل نہیں ہوا ہے۔ آر بی آئی نے سستی میں مبتلا معیشت کو راحت دینے کے لیے مالی سال 21-2020 کے لیے 99122 کروڑ روپے کا سرپلس دے کر حکومت کو چونکا دیا ہے کیونکہ مالی سال 2020 میں ٹیکس کی وصولی سے آئی کمی کی ایک حد تک تلافی ہو سکے گی اور حکومت کے پاس امسال خرچ کرنے کے لیے وسائل ہوں گے جس سے معیشت کو رفتار دی جاسکے گی۔ یہ حقیقت ہے کہ حالت جیسے ہی معمول پر آئے گی ہماری معیشت کو بہتر ہونے میں تاخیر نہیں ہوگی کیونکہ ہماری معیشت کی بنیاد مضبوط ہے۔ مزدور شہروں سے نکل کر گاوں کی طرف آئے جہاں منریگا ان کے لیے ایک بڑا سہارا تھا لیکن امسال کے بجٹ میں منریگا کے بجٹ کو ایک لاکھ 10 ہزار کروڑ سے کم کر کے 70ہزار کروڑ کردیا گیا ہے جو کہ نا مناسب ہے اور مزدوروں پر سراسر ظلم ہے۔ چونکہ انفیکشن دیہی علاقوں تک پھیل گیا ہے اس لیے ضروری ہے کہ انہیں چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کو حسب ضرورت سپورٹ دینا ہو گا۔ اس لیے دیگر مدات سے کٹوتی کر کے اس سمت میں حکومت کو توجہ دینا چاہیے، اس سے مالی خسارہ کو قابو میں رکھا جا سکے گا۔ ڈاکٹروں، طبی ماہرین اور سائنس دانوں نے کورونا کی تیسری لہر کا زبردست اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ جس کی وجہ سے عوام الناس بہت سوچ سمجھ کر خرچ کر رہے ہیں۔ آر بی آئی نے کہا ہے کہ لوگ نقدی جمع کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ مصیبت کے وقت وہ رقم کام آ سکے۔ اس سے ہماری کھپت میں بڑی تنزلی آئی ہے کھپت کے گرنے سے پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔ پیداوار کم ہونے سے نئی سرمایہ کاری رک جاتی ہے یہ بھی روزگار کو منفی طور پر متاثر کرتا ہے۔
معیشت کے لیے مثبت اور اچھی خبر ہے کہ بھارتی برآمدات میں چند ماہ سے اچھا خاصہ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ جو ماقبل کورونا قہر کی سطح پر آگیا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی تجارتی ماہرین کے مطابق ہمارے برآمدات کا شعبہ کافی بہتر ہے کیونکہ ایکسپورٹرس کا کورونا کی وجہ سے آرڈر متاثر ہونے کا اندیشہ فی الحال نہیں ہے۔ انجینئرنگ گڈس کے جالندھر ایکسپورٹر اشونی کمار نے بتایا کہ کورونا کی وجہ سے محنت کشوں کی تعداد میں 30 تا 40 فیصد کی کمی ضرور ہوئی ہے مگر ایسکپورٹر بروقت ڈیلیوری دینے کی پوری کوششیں کر رہے ہیں۔ دوسری طرف کورونا وبا سے نجات پانے کی کوشش میں مشغول عالمی معیشت ان دنوں ایک نئے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے اس کی وجہ سے کمپنیاں ضرورت سے زیادہ خام مال اور دیگر اشیا کی بے تحاشہ خریداری کر کے ذخیرہ اندوزی کر رہی ہیں جس سے سپلائی چین پر دباو بڑھنا لازمی ہے اس سے اشیا کی قیمتیں بھی بڑھیں گی۔ ایسے حالات میں مالی خسارہ کا اندیشہ بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ اگر جلدی اس افراتفری پر قابو نہیں پایا گیا تو قہر اور سستی سے نبرد آزما معیشت مزید مصیبت کا شکار ہو جائے گی۔ لوہا، تانبا، سویا بین، گیہوں پلاسٹک کے اشیا اور کارڈ بورڈ کی چیزوں کی قلت ہو جائے گی۔ اس لیے معیشت میں چہار طرفہ ترقی کے لیے پیداوار، طلب، قیمت، روزگار اور آمدنی میں مطابقت ضروری ہے۔
گزشتہ دو مہینوں میں ہونے والے جان ومال کے نقصانات اور تباہی نے واضح کر دیا ہے کہ حکومت کی بڑی لاپروائی اور مجرمانہ غفلت نے باشندگان ملک کو کہیں کا نہیں چھوڑا۔ گزشتہ سال کی آخری اور اس سال کے ابتدائی مہینوں میں دور اندیشی اور ہوشیاری میں لاپروائی نہیں ہوئی تو کورونا کی دوسری لہر کا حملہ اتنا شدید نہیں ہوتا۔ فی الوقت کورونا کے ساتھ ساتھ بلیک فنگس، یلو فنگس، وائٹ فنگس کے بڑھتے معاملے بہت ہی تشویشناک ہیں۔ ایسے حالات میں حکومت کو بلا تاخیر ٹیکہ کاری پر کافی زور دینا ہوگا تاکہ ملک کو معاشی، سماجی، طبی، تعلیمی اور انسانی بحران سے بچایا جا سکے۔ ہماری حکومت کے پاس ٹیکہ کاری کے لیے کوئی واضح پالیسی نہیں ہے۔ دنیا کی بڑی معیشتوں میں برطانیہ اور امریکہ نے اپنے عوام کے واسطے ٹیکہ کاری کے سلسلے میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں کی اس لیے وہاں کی 80 فیصد آبادی کو ویکسین کا پورا ڈوز دیا جا چکا ہے۔ مگر ہمارے یہاں ایسا نہیں ہے۔ ہمیں ٹیکہ کاری کے لیے 170 کروڑ خوراکوں کی ضرورت ہے مگر ملک میں ٹیکہ ندارد۔ موڈرنا، فائزر اور بائیوٹیک نے ہماری حکومت سے کسی طرح کا آرڈر لینے سے انکار کر دیا ہے۔ جملہ باز حکومت نے سیرم انسٹیٹیوٹ اور بھارت بائیوٹیک کو اپریل میں مالی معاونت کے ساتھ آرڈر دیا ہے۔ اب ٹیکہ کاری کی ذمہ داری ریاستوں کے حوالے کردی گئی ہے۔ 900 سائنس دانوں نے وزیر اعظم سے خط لکھ کر مطالبہ کیا ہے کہ ہمیں ملک میں ہونے والے اموات کا صحیح ڈاٹا دیا جائے تاکہ وائرس کے بدلتے ہوئے میوٹنٹ کا بروقت اور پیشگی مطالعہ کیا جا سکے اور سائنسی بنیاد پر پالیسی بنے۔ مگر جملہ باز حکومت گھڑیال کی طرح آنسو بہانے والے وزیر اعظم نے محض اپنی شخصیت سازی کے خاطر سارے ملک کو جہنم میں دھکیل دیا ہے۔ اب خدا ہی ملک کو آسمانی اور زعفرانی آفت سے بچائے۔ الیکشن لڑنے میں ماہر مودی کی قیادت میں 2022 میں اسمبلیوں کے الیکشن کی تیاری شرع کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی ماب لنچنگ اور مسجد کے انہدام کی بھی شروعات ہو گئی ہے۔ بقول ہائی کورٹ کے جسٹس ہمارے ملک اور یہاں کا نظم بھگوان بھروسے ہے۔
***

گزشتہ دو ماہ میں دیہی بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 14.34 فیصد اور شہری بیروزگاری کی شرح 14.71 فیصد ہو گئی ہے۔ اس لیے لاک ڈاون جیسا بھی ہو روزگار کا جانا فطری ہے کیونکہ مختلف علاقوں میں کارخانے بند ہوئے ہیں جس سے ملک کی گھریلو صنعتیں بہت زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 29 مئی تا 05 جون 2021