شمس الرحمن فاروقی دنیائے ادب کو ویران کرگئے

ایک عہد کا خاتمہ ۔اردو دنیا کا ناقابل تلافی نقصان

(دعوت نیوز ڈیسک)

 

اردو کے مشہور نقاد اور ناول نگار، شمس الرحمن فاروقی کا طویل علالت کے بعد 25دسمبر کی صبح الٰہ آباد میں انتقال ہوگیا ۔ 85سالہ شمس الرحمن فاروقی ایک ماہ قبل کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد پھیپھڑوں کے انفیکشن سے متاثر ہوگئے تھے۔ ان کی پیدائش 15 جنوری 1934کو پرتاپ گڑھ میں ہوئی تھی۔ الٰہ آباد یونیورسٹی سے 1953میں انگریزی میں ایم اے کیا، علم وفضل کی قدیم روایات باپ اور ماں دونوں سے ورثے میں ملی۔ ذریعہ معاش کے لیے سرکاری ملازمت کی۔ انہوں نے 1958یں سوِل سروس امتحان پہلی کوشش میں کامیاب کیا تھا۔
جون 1966میں شمس الرحمان فاروقی نے ایک ادبی رسالے ’شب خون‘ کی بنیاد رکھی۔ گو اس رسالے پر ان کا نام بطور مدیر شائع نہیں ہوتا تھا لیکن پوری ادبی دنیا کو علم تھا کہ اس رسالے کے روح و رواں کون ہیں۔ شب خون کے پہلے شمارے پر مدیر کی حیثیت سے ڈاکٹر سید اعجاز حسین، نائب مدیر جعفر رضا اور مرتب و منتظم کی حیثیت سے شمس الرحمان فاروقی کی اہلیہ جمیلہ فاروقی کا نام شائع کیا گیا تھا۔ شب خون کو جدیدیت کا پیش رو قرار دیا گیا اور اس نے اردو قلم کاروں کی دو نسلوں کی تربیت کی۔ شب خون 39برس تک پابندی کے ساتھ شائع ہوتا رہا۔ جون 2005 میں شب خون کا آخری شمارہ دو جلدوں میں شائع ہوا جس میں شب خون کے گزشتہ شماروں کی بہترین تخلیقات شامل
کی گئی تھیں۔
شمس الرحمان فاروقی کے تنقیدی مضامین کے متعدد مجموعے شائع ہوئے جن میں نئے نام، لفظ و معنی، فاروقی کے تبصرے، شعر غیر شعر اور نثر، عروض، آہنگ اور بیان، تنقیدی افکار، اثبات و نفی، انداز گفتگو کیا ہے، غالب پر چار تحریریں، اردو غزل کے اہم موڑ، خورشید کا سامان سفر، ہمارے لیے منٹو صاحب، اردو کا ابتدائی زمانہ اور تعبیر کی شرح کے نام سرفہرست ہیں۔ تاہم تنقید کے میدان میں ان کا سب سے معرکة الآرا کام ’شعر شور انگیز‘ کو سمجھا جاتا ہے۔ چار جلدوں پر مشتمل اس کتاب میں میر تقی میر کی تفہیم جس انداز سے کی گئی ہے اس کی کوئی مثال اردو ادب میں نہیں ملتی۔
شمس الرحمان فاروقی نے ارسطو کی بوطیقا کا بھی ازسر نو ترجمہ کیا اور اس کا بہت شاندار مقدمہ تحریر کیا۔ 1980 میں وہ کچھ عرصے کے لیے ترقی اردو بیورو سے وابستہ ہوئے، اس وابستگی نے اس ادارے میں نئی روح پھونک دی۔ ان کے دور وابستگی میں اس ادارے نے نہ صرف یہ کہ اردو کے کلاسیکی ادب اور لغات کو ازسر نو شائع کیا بلکہ کئی نئی کتابیں بھی شائع کیں۔ اس ادارے کا ایک جریدہ بھی اردو دنیا کے نام سے شائع ہونا شروع ہوا جس نے اردو کی کتابی دنیا کو آپس میں مربوط کر دیا۔
اس دوران شمس الرحمان فاروقی کی شاعری کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ ان کے کئی مجموعے شائع ہوئے جن میں گنج سوختہ، سبز اندر سبز، چار سمت کا دریا اور آسماں محراب شامل ہیں۔ ان کی تمام شاعری کی کلیات بھی ’مجلس آفاق میں پروانہ ساں‘ کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔
شمس الرحمان فاروقی کو لغت نویسی سے بھی بہت دلچسپی تھی، اس میدان میں ان کی دلچسپی کا مظہر لغات روز مرہ ہے جس کے کئی ایڈیشنز شائع ہو چکے ہیں مگر ان کا اصل میدان داستان اور افسانہ تھا جس کا اندازہ اس وقت ہوا جب انہوں نے داستان امیر حمزہ پر کام شروع کیا۔انہوں نے داستان امیر حمزہ کی تقریباً پچاس جلدیں لفظ بہ لفظ پڑھیں اور پھر ان کی معرکة الآرا کتاب ’ساحری، شاہی، صاحب قرانی، داستان امیر حمزہ کا مطالعہ‘ کے عنوان سے
منظر عام پر آئی۔
1990 کی دہائی میں شمس الرحمان فاروقی نے فرضی ناموں سے یکے بعد دیگرے چند افسانے تحریر کیے جنہیں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔بعد ازاں ان افسانوں کا مجموعہ ’سوار اور دوسرے افسانے‘ کے عنوان سے شائع ہوا تب لوگوں نے جانا کہ یہ افسانے شمس الرحمان فاروقی کے لکھے ہوئے تھے۔ سوار اور دوسرے افسانے نے انہیں مائل کیا کہ وہ برصغیر کی مغلیہ تاریخ کے پس منظر میں کوئی ناول تحریر کریں۔ یہ ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ناول 2006 میں پہلے پاکستان سے اور پھر انڈیا سے شائع ہوا۔ اس ناول نے شائع ہوتے ہی کلاسک کا درجہ حاصل کیا۔ اردو کے تمام بڑے فکشن نگاروں، نقادوں اور قارئین نے اس کا والہانہ استقبال کیا جس کا اندازہ اس ناول کے متعدد ایڈیشنز اور تراجم کی اشاعت سے لگایا جاسکتا ہے۔
اردو ادب کی تاریخ میں شمس الرحمٰن فاروقی جیسی کثیر الجہات شخصیت کی نظیر ملنا مشکل ہے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اردو اور انگریزی میں کئی اہم کتابیں لکھی ہیں۔ انہوں نے محمد حسین آزاد کی مشہور کتاب ’’آب حیات‘‘ کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔
’’گنج سوختہ‘‘ سے ان کی ایک غزل اور کچھ اشعار پیش ہیں۔

غزل
میں بھی شہید شوخی حسن نمود تھا
یعنی حریف آتش پنہان بود تھا
میں اپنے قول و فعل میں آزاد تھا مگر
منت پذیر صاحب بست و کشود تھا
سرسوں کے پیلے کھیت پہ نیلا فلک کا رنگ
گویا شراب زرد تھی، مینا کبود تھا
رکنے لگا تھا ذہن رواں کائی کی طرح
پتھر گرا نہ ایک تو کتنا جمود تھا
دروازہ وجود تھا بند آئینے کی طرح
ہر حرف ہست خاک بیابان بود تھا
اشعار
باخبر ہوں سب چراغ انجام سے اپنے تو کیا
روشنی تو اک مریض لادوائے خندہ ہے
مجھ سے صد رنگ کو دنیا نہ سمجھ پائی کہ میں
حرف تکفیر بھی تھا، نعرہ تکبیر بھی تھا
جی چاہتا ہے سینہ افلاک چیر کر
طوفان ابر و باد کو مٹھی میں بھر لیں ہم
مجھ سے شکستہ پا سے ہے شہر کی تیرے آبرو
چھوڑ گئے مرے قدم نقش کمال ہر طرف
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 3 جنوری تا 9 جنوری 2021