:2020عالم گیر وبا کا سال

عربوں کی اسرائیل سے قربت ۔ فلسطینیوں کے لیے کوئی راحت نہیں

مسعود ابدالی

 

تنازعات وعسکری تصادموں کی گھن گرج۔ بڑی طاقتیں امن عالم میں رول ادا کرنےسے قاصر
2020 کہنے کو تو ختم ہو گیا مگر اس کا عذاب ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔ ایک مدت تک دو بڑے انسانی المیے 2020کی وجہ شہرت بنے رہیں گے۔ایک تو کورونا وائرس، کہ جس سے انسانی حیات اور اسباب حیات دونوں ہی غارت ہو گئے اور دوسرا فلسطینیوں کو دیوار میں چن دینے کی تحریک، کہ جس نے 51لاکھ جیتے جاگتے انسانوں کو چڑیا گھر کے جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیا۔ غزہ کے دس لاکھ افراد بجلی اور پانی سے محروم ہیں اور بد ترین ناکہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوراک کی قلت سے لوگ بے حال اور نونہال معذوری کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔ غربِ اردن میں آباد فلسطینیوں کے گھر اسرائیلی آبادکاروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں اور اپنے ہی وطن میں بے گھر ہو جانے والوں کو اردن کی سرحد کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جہاں کاکسس بازار (بنگلہ دیش) کے برمی پناہ گزینوں کی طرز پر خیمہ بستیاں آباد ہو گئی ہیں۔
کووِڈ۔۱۹وبا:
کورونا وائرس کا آغاز 2019کے اختتام پر کچھ اس طرح ہوا کہ وسطی چین کے صوبے خوبے (Hubei) کے دارالحکومت ووہّان میں کئی لوگوں کو گلے میں شدید تکلیف کے ساتھ تیز بخار کی شکایت ہوئی۔ مقامی ڈاکٹروں نے اسے نزلہ زکام سمجھ کر نظر اندار کر دیا۔ کچھ طبی ماہرین نے اس زکام کو ایک خاص طریقے کا نمونیا قرار دے کر علاج شروع کیا لیکن مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ ایک چینی ماہر وبائی امراض ڈاکٹر لی وینلیانگ Li Wenliang نے سب سے پہلے اس نزلے کو ایک خوف ناک متعدی مرض کا آغاز قرار دیا لیکن اس بات پر کان دھرنے کے بجائے چینی حکومت نے افواہ سازی اور عوام کو خوف زدہ کرنے کے الزام میں 34 سالہ ڈاکٹر لی کو گرفتار کر لیا۔ دوسری طرف مرض بڑھتا رہا اور ہزاروں افراد ہسپتال پہنچ گئے۔ متاثرین کے لعابِ دہن، بلغم اور خون کے تفصیلی تجزیے پر ان مریضوں کے خون میں ایک مخصوص جرثومے کی علامات پائی گئیں جسے 2019-nCoV یا نویل کورونا وائرس کہتے ہیں۔ لفظ کورونا کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ خورد بینی تجزیے کے دوران اس جرثومے کے جزئیات تاج (کراون) کی شکل میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ صحت نے 2020 کے آغاز پر اسے عالمی وبا یا Pandemic تسلیم کرتے ہوئے اس مرض کو ’کووِڈ 19‘ (COVID-19) کا نام دے دیا۔ ایک سال کے دوران دنیا بھر میں آٹھ کروڑ کے قریب لوگ اس مرض سے متاثر ہوئے جن میں سے 18 لاکھ سے زیادہ کی موت واقع ہوئی۔ تباہی کے اعتبار سے امریکہ کا پہلا نمبر ہے جہاں کووڈ مریضوں تعداد 2 کروڑ ہے جن میں سے 3 لاکھ 32 ہزار افراد زندگی کی بازی ہار گئے یعنی ہر ایک ہزار امریکیوں میں سے ایک فرد کو یہ موذی مرض چاٹ گیا۔ مزید بدنصیبی کہ مرض کے متاثرین اور ہلاک ہونے والوں کی اکثریت رنگداروں اور غریبوں پر مشتمل ہے۔ آبادی کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک یعنی ہندوستان کووڈ کے حوالے سے بھی دوسرے نمبر پر ہے جہاں ایک کروڑ سے زیادہ افراد اس مرض میں مبتلا ہوئے اور ڈیڑھ لاکھ معصوم جانیں ضائع ہو گئیں۔ برازیل تیسرے اور روس چوتھے نمبر پر ہے۔ بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کا بالترتیب 27، 28 اور 90واں نمبر ہے۔ مسلمان ملکوں میں ایران سب سے زیادہ متاثر ہے۔ تہران پر عائد امریکی پابندیوں کی وجہ سے دواؤں اور طبی آلات کی بندش نے صورت حال کو انتہائی گھمبیر بنا دیا ہے۔ وہاں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 12 لاکھ ہے جن میں سے 55 ہزار افراد موت کے گھاٹ اتر گئے۔
سال کے اختتام پر دنیا کے اکثر ممالک میں جدرین کاری یا Vaccination کا آغاز ہو چکا ہے جس کی بنا پر طبی ماہرین پر امید ہیں کہ 2021 کے وسط تک صورت حال معمول پر آنا شروع ہو جائے گی۔ تاہم اس موذی نے معیشت اور اسباب حیات کو جو نقصان پہنچایا اس کے ازالے کے لیے کم از کم اٹھارہ مہینے اور کچھ ماہرین کے خیال میں ڈھائی سے تین سال درکار ہیں۔
فلسطین:
گزشتہ سال کا سب سے بڑا اخلاقی سانحہ عرب اسرائیل معاہدہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے اسے جو نام دیا ہے وہ لکھتے ہوئے بھی ہمیں شرم آتی ہے۔ نسل کشی کی اس دستاویز کو اللہ کے خلیل سے منسوب کرنا دنیا بھر کے مسلمانوں، مسیحیوں اور یہودیوں کی توہین ہے جن کے لیے حضرت ابراہیمؑ اللہ سے وفاداری اور قربانی کا استعارہ ہیں۔ اس معاہدے کا بنیادی مقصد عرب اسرائیل تعلقات کے گلے میں پھنسی فلسطین کی ہڈی کو بہت خوبصورتی سے باہر نکالنا تھا تاکہ عرب و مسلم ممالک فلسطینیوں کو اسرائیلی نسل پرستوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر اپنے محدود وطنی بلکہ حکمرانوں کے ذاتی مفادات کے مطابق فیصلے کریں۔ صدر ٹرمپ الفت وپیار، قربت کے افتخار اور ناجائز قبضے کو توثیق کے وعدے پر مسلم رہنماؤں کو اسرائیل سے سفارتی تعلقات کی صلاح دے رہے ہیں۔ اگر خرِ زمانہ کو یہ راتب پُر کشش محسوس نہ ہو تو چچا سام کے ایک ہاتھ میں گاجر کے ساتھ دوسرے ہاتھ میں موٹی سے لاٹھی بھی ہے۔ تخت کو تختہ بنا دینے کی دھمکی پر کیا وردی والے اور کیا بلڈی سویلین،
امیر و شاہ، ملوک و سلاطین سب ہی سر جھکا دیتے ہیں۔ کلائیاں مروڑ کر صدر ٹرمپ نے بحرین سے رباط اور کوسووو سے خرطوم تک سب کو اسرائیل کے آگے سجدہ ریز کردیا تاکہ فلسطینیوں کے حق میں ہلکی، روایتی اور رسمی سی آواز بھی نہ بلند ہونے پائے۔
صدر ٹرمپ کی کوششوں سے متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان، مراقش اور یورپ کے مسلم اکثریتی ملک کوسووو نے اسرائیل سے سفارتی رابطے قائم کر لیے۔ اور تو اور ترکی نے بھی اسرائیل سے سفارتی کشیدگی ختم کرتے ہوئے سفیروں کے تبادلے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ اسرائیل اور ترکی کے مابین سفارتی تعلقات تو کمال اتاترک کے شاگردِ رشید عصمت انونو کے وقت سے ہیں لیکن 2010 میں غزہ کےلیے روانہ کردہ کشتیوں کے امدادی قافلے پر اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد جناب طیب ایر دوان نے اسرائیل سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا تھا اور گزشتہ 10 سالوں سے ان دونوں ملکوں کے درمیاتی سفارتی تعلقات معطل تھے۔
بیروت بندرگاہ کی تباہی اور الحریری قتل کیس کا فیصلہ
گزشتہ سال کے دوران مشرق وسطیٰ کا بد ترین حادثہ بیروت کا خوف ناک دھماکہ تھا۔ بندرگاہ کے گودام میں ذخیرہ کیا گیا امونیم نائٹریٹ اس دھماکے کا سبب بنا جس سے 204 افراد ہلاک ہوئے۔ دھماکے سے سارے بیروت کی عمارتوں کو نقصان پہنچا اور 3 لاکھ افراد بے گھر ہو گئے۔ مالی نقصانات کا تخمینہ 20 ارب ڈاالر لگایا گیا ہے۔
لبنانی وزیر اعظم رفیق الحریری کے قتل کے پندرہ برس بعد ان کے مقدمے کا فیصلہ ہوا اور عدالت نے حزب اللہ کے سلیم عیاش کو جناب الحریری کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا۔ تاہم ملزم مفرور ہے اس لیے سزا پر عمل درآمد ممکن نظر نہیں آتا۔
تنازعات و عسکری تصادم
بین الاقوا می تنازعات کے حوالے سے اس سال کا آغاز بغداد ائیر پورٹ پر امریکہ کے ڈرون حملے سے ہوا جس میں پاسدارانِ انقلاب اسلامی ایران کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی اور عراق شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس مارے گئے۔ جواب میں ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈے پر میزائیلوں سے حملہ کیا جس میں کوئی جانی نقصاں تو نہ ہوا مگر اڈہ تباہ ہو گیا اور دھماکے کی وجہ سے درجنوں امریکی سپاہی نفسیاتی و دماغی عارضے میں مبتلا ہوئے۔ اسی دوران امریکی حملے کے شبہ میں ایرانی انقلابی گارڈ یا پاسداران نے غلطی سے یوکرین ائیر لائن کا طیارہ مار گرایا جس میں جہاز کے عملے سمیت 76 افراد ہلاک ہوئے۔
ترکی نے اقوام متحدہ کی جانب سے تسلیم شدہ لیبیا کی حکومت الوفاق الوطنی یا GNA کو عسکری مدد فراہم کی۔ لڑائی میں ترکی کے ہلاکت خیز ڈرون بے حد مؤثر ثابت ہوئے اور وفاقی حکومت نے حفتر ملیشیا کو شکست دے کر دارالحکومت طرابلس پر قبضہ کر لیا۔ ترکی و طرابلس کے دباؤ پر حفتر ملیشیا نے تیل کے میدانوں پر قبضہ ’نرم‘ کر دیا اور لیبیا سے تیل کی برآمدات 20 لاکھ بیرل روزانہ ہو گئیں۔
گزشتہ برس مئی میں چین و ہند متنازعہ سرحد پر خوف ناک عسکری تصادم درجنوں فوجیوں کی جان لے گیا۔ جھڑپ کے دوران گولوں اور گولیوں کے بجائے گھونسے، لات، کیل لگے ڈنڈے اور پتھر استعمال ہوئے۔ مکالمے اور تحمل و برداشت کے نتیجے میں یہ تصادم بڑی جنگ میں تبدیل نہیں ہوا۔ستمبر کے اختتام پر نگورنو کاراباخ میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان خوف ناک جنگ ہوئی۔ 14 روز جاری رہنے والی لڑائی میں دونوں جانب کے 5700 فوجی اور لا تعداد نہتے شہری مارے گئے۔ لیبیا کی طرح یہاں بھی ترک ساختہ ڈرونز کے مؤثر استعمال نے جنگ کا پانسہ آذربائیجان کے حق میں پلٹ دیا اور بھاری عسکری نقصان کے نتیجے میں آرمینیا نگورنو کاراباخ کا بڑا علاقہ خالی کرنے پر تیار ہو گیا۔ آرمینیائی فوجی انخلا کے بعد اس علاقے میں روس کی امن فوج تعینات کر دی گئی ہے۔
افغان امن مذاکرات
اس سال کی ایک مثبت خبر طالبان اور امریکہ کے درمیان معاہدہ ہے، جس پر 29 فروری کو دستخط ہوئے۔ یہ معاہدہ امن نہیں بلکہ امریکہ اور طالبان کی جانب سے اظہارِ عزمِ امن ہے۔ طالبان نے اس بات کا یقین دلایا ہے کہ افغانستان سے واپس ہونے والی نیٹو فوج کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے گا، افغان سرزمین کو امریکہ یا کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا اور بین الافغان مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کی راہ ہموار کی جائے گی جس کے عوض امریکہ 21ماہ کے دوران فوجی انخلا پر آمادہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے افغانستان میں اپنے فوجیوں کی تعداد 2500 کر دی ہے۔ دوسری طرف کئی ماہ سے جاری بین الافغان امن مذاکرات کا تعطل ہنوز ختم ہوتا نظر نہیں آتا۔ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ 20 جنوری کو حلف اٹھانے کے بعد افغانستان کے معاملے میں بائیڈن انتظامیہ کا رویہ کیسا ہو گا؟
بین الاقوامی تعلقات و معاہدات
بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے اس سال کی بڑی خبر یورپی یونین اور یورپی اٹامک انرجی کمیونٹی سے برطانیہ کی علیحدگی یا BREXIT ہے۔ برطانیہ یکم جنوری 1973 کو یونین کا رکن بنا اور 47 سال بعد 31 جنوری 2020 کو یورپی برادری سے الگ ہوگیا۔ برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہونے والا پہلا ملک ہے۔ یورپی یونین سے نکلنے کے بعد اسکاٹ لینڈ میں علیحدگی کی تحریک ایک بار پھر سر اٹھاتی نظر آ رہی ہے۔ یہاں آزادی کے معاملے پر 2014 میں استصواب رائے ہو چکا ہے جس میں 55.3 فیصد عوام نے علیحدگی کی تجویز مسترد کر دی تھی۔ اسکاٹ لینڈ کی وزیر اعلٰی یا First Minister محترمہ نکولا اسٹرجین کا موقف ہے کہ یورپی یونین سے الگ ہو جانے کے بعد زمینی حقائق تبدیل ہو چکے ہیں چنانچہ برطانیہ سے وابستگی پر اسکاٹ عوام کی دوبارہ رائے لینے کی ضرورت ہے۔ وزیر اعظم بورس جانسن نے نئے ریفرنڈم کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد شمالی آئرلینڈ میں بھی علیحدگی کے لیے چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ یہ خطہ 1960سے 2003 تک بد امنی اور دہشت گردی کا شکار رہ چکا ہے۔
مئی کے اختتام پر چینی کمیونسٹ پارٹی نے قانون سازی کے ذریعے ہانگ کانگ کے شہری حقوق معطل کر دیے۔ 1997میں جب تاجِ برطانیہ نے ہانگ کانگ کو چین کے حوالے کیا تو اس وقت بیجنگ نے عالمی برادری کو یہ یقین دلایا تھا کہ چین کا حصہ ہوتے ہوئے ہانگ کانگ میں آزادانہ تجارتی نظام، غیر جانب دار عدلیہ، منتخب انتظامیہ اور شہری آزادیاں برقرار رہیں گی۔ اس بندوبست کے لیے ‘ایک ملک دو نظام’ یا One Country, two systems کی اصطلاح وضع کی گئی۔ لیکن تحویل مجرمان کے معاملے پر کھڑے ہونے والے تنازعے اور ہانگ کانگ میں کمیونسٹ مخالف مظاہروں کے بعد چین کی عوامی اسمبلی نے ہانگ کانگ کو چینی قوانین کا پابند کر دیا ہے جس کی بنا پر ہانگ کانگ کی منفرد حیثیت اب عملاً ختم ہو چکی ہے۔
امریکہ نے 14دسمبر کو ترکی پر پابندیاں لگا دیں۔ خفگی و ناراضگی بظاہر تو روس سے میزائیل شکن نظام S-400خریدنے پر ہے، لیکن لیبیا میں وفاقی حکومت کی مدد، فلسطینیوں کے حق میں جناب ایردوان کا دو ٹوک موقف اور آرمینیا آذربائیجان تنازعے کے حل کے لیے روس سے براہ راست مذاکرات پر واشنگٹن کو سخت تحفظات ہیں۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ترکی نے دفاعی پیداوار کے میدان میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اس پر بھی امریکہ اور اسرائیل کو تشویش ہے۔ ان پابندیوں کے نتیجے میں ترکی کو F-35 طیاروں کے ترقیاتی پروگرام سے علیحدہ کر دیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب نیٹو کے کسی رکن نے اپنے دوسرے اتحادی پر تادیبی پابندیاں عائد کی ہیں۔
ائے ماوؤ، بہنو، بیٹیو ۔۔ قوموں کی عزت تم سے ہے
سال کے دوران دنیا بھر میں قومی، صوبائی اور مقامی نوعیت کے 200سے زیادہ انتخابات اور برما و مصر میں انتخابی ڈرامے ہوئے۔ برما میں مسلمانوں کو انتخابی سرگرمیوں سے لا تعلق رکھا گیا جبکہ مصری پارلیمان کے انتخابات میں ان امیدواروں کو نا اہل قرار دے دیا گیا جنہوں نے جنرل السیسی کی غیر مشروط حمایت کا وعدہ کرنے سے انکار کیا۔
ہندوستان میں دلی اور بہار کی ریاستی (صوبائی) قانون ساز اسمبلیوں کے انتخابات ہوئے۔ دلی کے انتخابات میں اروند کیجریوال کی عام آدمی پارٹی نے 70میں سے 67 نشستیں جیت لیں جبکہ بی جے پی کے قومی جمہوری اتحاد کو 3 سیٹوں پر کامیابی نصیب ہوئی۔ بہار میں بی جے پی اور اس کی اتحادی جنتا دل مجموعی طور پر آگے رہی۔نیوزی لینڈ کے انتخابات میں وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کی لیبر پارٹی نے شاندار کامیابی حاصل کی اور 120کے ایوان میں 65نشستیں جیت کر واضح اکثریت حاصل کر لی۔ جیسندا نے کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملے کے بعد جس پر جوش انداز میں مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا اس کی وجہ سے وہ دنیا بھر کے مسلمانوں میں بہت مقبول ہیں۔ نیوزی لینڈ کے انتخابات کی دلچسپ بات یہ ہے کہ پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر آنے والی لیبر، نیشنل اور گرین تینوں جماعتوں کی قیادت خواتین کر رہی ہیں۔گزشتہ سال اس لحاظ سے تاریخی ثابت ہوا کہ پہلی بار ایک ہند نژاد خاتون کملا دیوی ہیرس امریکہ کی نائب صدر منتخب ہو گئیں۔ امریکی خواتین نے 1920میں ووٹ دینے کا حق حاصل کیا تھا جس کے پورے سوسال بعد حوا کی ایک بیٹی کو نائب صدارت کا منصب عطا ہوا۔ اس کے مقابلے میں تیسری دنیا کی خواتین نے صنفی مساوات کا سفر کئی دہائی پہلے طئے کر لیا۔ 1960 میں سری لنکا نے بندرا نائیکے کو وزیر اعظم منتخب کیا۔ 1966 میں اندرا گاندھی ہندوستان کی وزیر اعظم منتخب ہوئیں۔1988میں بے نظیر بھٹو نے پاکستانی وزیر اعظم کا حلف اٹھایا جبکہ 1993میں تانسو چلر ترکی کی وزیر اعظم مقرر ہوئیں۔دلچسپ بات کہ تین سال بعد تانسو چلر نے ’مولوی‘ وزیراعظم پروفیسر نجم الدین اربکان کی کابینہ میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کا حلف اٹھایا۔
امریکی انتخابات کی ضمن میں یہ بات بہت اہم ہے کہ امریکی تاریخ میں پہلی بار ایک برسراقتدار صدر نے دھاندلی کا الزام لگاکر نتائج تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔دلچسپ بات کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے دائر کی جانے والے دو درجن سے زیادہ انتخابی عذر داریاں پہلی ہی سماعت میں مسترد کر دی گئی۔
ہوائی حادثات
برصغیر میں اس سال ہوائی جہاز کے دو بڑے حادثات ہوئے۔ رمضان میں کراچی ائیرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا طیارہ گرنے سے 99 افراد جاں بحق ہوئے۔ حادثے کے بعد وفاقی وزیر شہری ہوا بازی غلام سرور خان نے پی آئی اے کے بہت سے افسران کے جعلی لائیسینس کا انکشاف کیا جس کی وجہ سے یورپی ممالک نے پی آئی اے کی پروازوں پر پابندی لگا دی۔
اگست میں ائیر انڈیا کے طیارے کو کالی کٹ (کیرالا) ائیرپورٹ پر حادثہ پیش آیا جس میں 19 افراد ہلاک ہوئے
انتقال اور سبکدوشی
عمان کے سلطان قابوس بن سعید 10 جنوری کو انتقال کر گئے۔ وہ 1970 سے برسر اقتدار تھے، یعنی نصف صدی کے بعد عمان میں نئی قیادت سامنے آئی ہے۔
امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح کا 91 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے 14 سال حکومت کی۔ پاکستان میں تحریک لببیک کے سربراہ علامہ خادم حسین رضوی، ممتاز عالم دین علامہ زرولی اور پرویز مشرف کو سزائے موت سنانے والے جسٹس وقار احمد سیٹھ کا انتقال ہوا۔
جاپان کے وزیر اعظم شینزو ایبے Shinzo Abe نے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ موصوف 2012سے برسر اقتدار تھے جو جاپان میں بطور وزیر اعظم سب سے طویل مدت ہے۔
پولیس تشدد اور نسلی امتیاز
امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منیاپولس میں پولیس کے ہاتھوں ایک سیاہ فام، جارج فلائیڈ کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو سماجی ذرائع ابلاغ پر چار سُو پھیل گئی جس کے نتیجے میں سارے ملک میں ہنگامے ہوئے اور سماجی انصاف و نسلی مساوات کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ حالیہ انتخابی مہم کے دوران اس نکتے پر کھل کر بحث ہوئی۔ نو منتخب صدر جو بائیڈن نے وعدہ کیا ہے کہ وہ کابینہ اور وفاقی مناصب پر سیاہ فام اور دوسری اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دیں گے۔
مواخذہ اور احتساب
صدر ٹرمپ کا اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال پر مواخذہ کیا گیا۔ امریکی صدر پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے سیاسی مخالف یعنی جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے یوکرین کی حکومت پر دباو ڈالا اور بات نہ ماننے کی صورت میں ملک کے لیے امریکی امداد روک دینے کی دھمکی دی۔ یہ امریکہ کی 244سالہ تاریخ میں تیسرا اور اس صدی کا پہلا صدارتی مواخذہ تھا۔ اس سے پہلے 1858میں صدر اینڈریو جانسن اور اس کے بعد 1998 میں صدر کلنٹن کے خلاف مواخذے کی تحریک ناکام ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ بھی بری ہو گئے۔
ملائشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق پر بے ایمانی اور مالی بد عنوانیوں کے الزامات ثابت ہو گئے۔ 25جولائی کو انہیں 12سال قید اور کروڑوں ڈالر جرمانے کی سزا سنائی گئی۔
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے
یہ سال صحافیوں کے لیے بہت خراب رہا اور 21 صحافی قتل کیے گئے، 2019 میں 10 صحافی مارے گئے تھے۔ میکسیکو 5 کے ساتھ پہلے نمبر پر اور افغانستان دوسرے نمبر پر ہے جہاں ایک جواں سال خاتون ملالہ مومند سمیت 4 صحافی مارے گئے۔
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
متنازعہ زرعی قوانین کی ہندوستانی پارلیمان سے منظوری کے خلاف کسانوں کی، دارالحکومت کے گھیراو کے لیے دلی چلو تحریک جاری ہے۔ پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش میں زبردست مظاہرے ہوئے۔ ادھر کچھ دنوں سےکرناٹکا، تمل ناڈو، اڑیسہ، کیرالا اور دوسری ریاستوں میں بھی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کا موقف ہے کہ نئے قوانین کسانوں کے مفاد میں ہیں اور وہ انہیں واپس لینے پر آمادہ نہیں ہے۔ کسان اندولن (تحریک) کےقائدین کو شکایت ہے کہ ملکی ذرائع ابلاغ نے جنہیں وہ گودی میڈیا کہتے ہیں، تحریک کا منظم انداز میں بائیکاٹ کیا ہوا ہے۔ ’زبان غیر سے کیا شرحِ آزو کرتے‘ کے مصداق انہوں نے ٹرالی ٹائمز کے نام سے اپنا ایک اخبار بھی نکال لیا ہے یعنی
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو ۔۔ جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو۔

آخر میں ایک اچھی اور دلچسپ خبر یہ ہے کہ فروری سے یورپ کے 6 لاکھ نفوس پر مشتمل ملک لکسمبرگ (Luxemberg) میں پبلک ٹرانسپورٹ یعنی بس ٹرام اور ریل مفت کر دی گئی ہے۔ اس کا مقصد نجی کاروں کی حوصلہ شکنی ہے تاکہ ماحولیاتی کثافت کو کم کیا جا سکے۔

(مسعود ابدالی معروف کالم نویس ہیں جو مشرق وسطیٰ ، مسلم دنیا اور عالمی سیاست پر لکھتے رہے ہیں)
[email protected]
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 3 جنوری تا 9 جنوری 2021