شاہين باغ کے خلاف غلط پروپيگنڈا اسمبلی انتخابات ميں بی جے پی کو مہنگا پڑا

افرو ساحل

دہلی اسمبلی اليکشن ميں سياست کا سب سے اہم موضوع شاہين باغ تھا، بلکہ يوں کہيں کہ بی جے پی نے شاہين باغ کو دہلی اسمبلی اليکشن کا سب سے بڑا مسئلہ بنا ديا تھا۔ اب جبکہ نتائج آچکے ہيں اور عام آدمی پارٹی کے سپريمو اروند کيجريوال تيسری بار دہلی کے وزير اعليٰ کے طور پر حلف لے چکے ہيں، يہ سمجھنا ضروری ہے کہ شاہين باغ کا فائدہ کس پارٹی کو ملا اور يہ کہ شاہين باغ يا اس تحريک کے بارے ميں لوگ اب کيا سوچتے ہيں يا شاہين باغ پر بی جے پی ليڈروں کے بيانات کسی سازش کے تحت ايک پريوگ تھے يا محض ايک سنجوگ؟
جي! يہ وہی شاہين باغ ہے جسے دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی نے اپنی انتخابی تشہير ميں خوب اچھالا اور اس کے ذريعہ ووٹوں کی صف بندی کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ وزير اعظم نريندر مودی اور وزير داخلہ امت شاہ سے لے کر پارٹی کے ہر چھوٹے بڑے ليڈر نے شاہين باغ احتجاج کو اپنے حق ميں بھنانے کی کوشش کی اور يہ پيغام دينا چاہا کہ اس احتجاج کے پيچھے عام آدمی پارٹی اور کانگريس کا ہاتھ ہے۔ شاہين باغ کے احتجاجيوں کو ملک مخالف اور غدار وطن ثابت کرنے کی بھی بھرپور کوشش کی گئی۔ کرنٹ شاہين باغ ميں دوڑانے کی کوشش کی گئی ليکن بی جے پی کی بدقسمتی سے کرنٹ کا فلو الٹا ہوگيا اور بی جے پی کو صرف 8 سيٹوں پر اکتفا کرنا پڑا جبکہ عام آدمی پارٹی نے 62 سيٹيں اپنے نام کرليں۔
شاہين باغ ميں رہنے والے قمر عالم کہتے ہيں ’شاہين باغ نے بی جے پی کو ايسا کرنٹ ديا ہے جو پوری پارٹی کو ہی بلاسٹ کر گيا اروند کيجريوال کو اس شارٹ سرکٹ کا پورا فائدہ ملا ہے۔ ايسے ميں يہ ضروری ہو گيا ہے کہ وہ شاہين باغ بلکہ پوری دلی ميں شاہين باغ کی طرز پر چل رہے شہريت ترميمی قانون (سی اے اے) کے خلاف مظاہروں پر اپنی رائے واضح کريں اور جلد از جلد اين پی آر کو دہلی اسمبلی کے ذريعہ خارج کريں، جيسا کہ کيرالا اور پڈوچيری کی حکومتوں نے کيا ہے۔‘
شاہين باغ تحريک ميں حصہ لينے والی سماجی کارکن کارتيکے شکلا کا کہنا ہے کہ’پوری انتخابی تشہير ميں اروند کيجريوال سی اے اے پر کچھ خاص اسٹينڈ لينے سے بچتے رہے، اس کے باوجود ملک کا آئين بچانے کے ليے سڑکوں پر اترے لوگوں نے پوری طرح سے ان کا ساتھ ديا، يہاں تک کہ لگاتار سی اے اے کے خلاف بول رہے کانگريس کو درکنارکر کے عام آدمی پارٹی کو اقتدار تک پہنچايا۔ ايسے ميں ضروری ہے کہ سی اے اے اور خاص طور پر اين پی آر پر کيجريوال اپنا منھ کھوليں۔‘
شکلا يہ بھی کہتی ہيں کہ کيجريوال کو حلف برداری کے بعد شاہين باغ بھی آنا چاہيے تاکہ جن ووٹروں نے آپ کو دل کھول کر اپنا ووٹ ديا ہے، ان کا شکريہ ادا کريں۔ اگر کيجريوال ايسا نہيں کرتے ہيں تو پھر مستقبل ميں ووٹ دينے والے تمام ووٹروں کو ان سے اپنا رشتہ ختم کر لينا چاہيے۔ اس ليے کہ پھر بی جے پی اور اس ميں کوئی فرق نہيں رہ جائے گا۔ ويسے بھی شاہين باغ پر اگر بی جے پی سياست کر رہی تھی تو کيجريوال بھی کہيں نہ کہيں يہی کر رہے تھے۔ وہ بار بار مرکزی حکومت کے ليڈروں کو اکسا رہے تھے کہ وہ شاہين باغ تحريک کو ختم کرائيں۔
ابوالفضل انکليو ميں رہنے والے شارق نديم کہتے ہيں کہ شاہين باغ کا سب سے زيادہ فائدہ عام آدمی پارٹی کو ہی ملا ہے۔ جن لوگوں نے کانگريس کو ووٹ دينے کا موڈ بناليا تھا انہوں نے بھی عام آدمی پارٹی کو ہی ووٹ ديا۔ جبکہ سچائی يہ بھی ہے کہ اس پارٹی کے لوگوں نے ہی شاہين باغ کی تحريک کو ختم کرانے کی بھرپور کوشش کی تھی۔
ويلفیر پارٹی آف انڈيا کے قومی صدر ڈاکٹر قاسم رسول الياس کہتے ہيں ’يہ اليکشن بی جے پی نے بنيادی طور پر سی اے اے اور شاہين باغ کو ہی موضوع بنا کر لڑا تھا۔ ايسے ميں ہم کہہ سکتے ہيں کہ دلی اسمبلی اليکشن کے نتائج سی اے اے، اين آرسی اور اين پی آر کے خلاف ايک ريفرنڈم ہے۔ شاہين باغ کا اثر يہ رہا کہ اس اليکشن ميں مسلمانوں کا ووٹنگ فیصد کافی بڑھا ہے۔ وہيں بی جے پی اپنی پوری طاقت جھونک دينے کے باوجود پوری طرح سے ناکام رہی۔‘
سماجی کارکن و کالم نگار آصف اقبال بھی مانتے ہيں کہ شاہين باغ کا اس اليکشن پر کافی گہرا اثر پڑا ہے۔ مسلمانوں نے عام آدمی پارٹی کو يکطرفہ طور پر ووٹ ديا ہے۔ اگر شاہين باغ کا مسئلہ نہ ہوتا تو مسلمانوں کا ووٹ عام آدمی پارٹی اور کانگريس کے درميان تقسيم ہو جاتا۔
ايڈوکيٹ معاذ کا خيال ہے کہ شاہين باغ کا مسئلہ بی جے پی نے کافی سوچ سمجھ کر اٹھايا تھا، يہی وجہ ہے کہ پولنگ والے دن بھی صبح سے ہی ہر چينل پر شاہين باغ ميں لگی لمبی لمبی قطاروں کو دکھايا گيا اور ان کی تصاوير خوب ٹوئٹ کی گئيں، جس سے فرقہ وارانہ منافرت ميں مزيد اضافہ بھی ہوا۔ اس کا بی جے پی کو بھرپور فائدہ بھی ملتا ليکن کانگريس نے اس کا سارا کھيل خراب کر ديا۔ سچ تو يہ ہے کہ اليکشن کے تين دن پہلے ہی کانگريس نے ايک طرح سے خود کو الگ کر ليا۔ جس کا فائدہ پوری طرح سے عام آدمی پارٹی کو ملا۔ ذرا سوچيے کہ اگر کانگريس پوری طاقت سے لڑتی اور جتنا فیصد ووٹ 2019 کے عام انتخابات ميں حا صل کيا تھا اتنا حاصل کر ليتی تو پھر کيا ہوتا؟ ان سب کے باوجود بی جے پی کو شاہين باغ کا کافی فائدہ ملا۔ اس کے ووٹ شيئر ميں 4 فیصد سے زيادہ کا اضافہ ہوا ہے۔
اس سلسلے ميں ڈاکٹر قاسم رسول الياس کا کہنا ہے کہ 2015 کے دہلی اسمبلی اليکشن سے تو بی جے پی کا ووٹنگ فیصد بڑھا ہے، ليکن اگر 2019 کے عام انتخابات کا ووٹنگ فیصد ديکھيں تو کافی گھٹا ہے۔
ان نتائج کے بعد ايک انٹرويو ميں دہلی بی جے پی صدر منوج تيواری نے اعتراف کيا ہے کہ انتخابی نتائج کی وجہ سے کرنٹ اصل ميں بی جے پی کو ہی لگا ہے۔ اس سے قبل وزير داخلہ امت شاہ نے بھی ايک پروگرام ميں تسليم کيا کہ نفرت انگيز بيانات کی وجہ سے دہلی ميں بی جے پی کو نقصان ہوا ہے۔ اب ديکھنا يہ ہے کہ کيجريوال مستقبل ميں سی اےاے، اين آر سی اور اين پی آر پر کيا موقف اختيار کرتے ہيں؟