سوٹ بوٹ والی سرکار کی سرمایہ داروں کے ساتھ سازبازآشکار

زرعی قوانین کے خلاف غم و غصہ ابال پر، ہوش کے ناخن لے سرکار،من کی بات سے دل بہلانے کی باتیںبے اثر

ڈاکٹر سلیم خان،دوبئی

 

بھارتیہ جنتا پارٹی اٹل بہاری واجپائی کے زمانے میں برہمن اور مہاجن (بنیا) پارٹی تھی۔ اٹل بہاری خود برہمن تھے اور پرمود مہاجن کاتو نام ہی مہاجن تھا لیکن اب مودی شاہ کے زمانے میں وہ صرف اور صرف بَنیا پارٹی بن کر رہ گئی ہے اس لیے کہ اس کا کام سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرنے اور انہیں زیادہ سے زیادہ سہولتیں مہیا کرنے تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ سرمایہ داروں کو عوام کا جی بھر کے خون چوسنے کا موقع اسی لیے دیا جاتا ہے کہ وہ سیاست دانوں کو انتخانی تشہیرکے لیے بھرپور چندہ دے سکیں ۔ اسی سرمائے سے ’’گودی میڈیا‘‘ کو پالا پوسا جاتا ہےجو صبح سے شام تک تلوے چاٹتا ہے اور پھر رات گئے تک بھونکتا رہتا ہے۔ موجودہ بی جے پی کو ایسا لگتا ہے کہ اس حکمت عملی سے وہ تاقیامت اقتدار پر قابض رہے گی لیکن کسانوں نے دہلی پر یلغار کرکے اس کی چولیں ہلا کر رکھ دیں ۔
سنگھ کا بلند بانگ دعویٰ دھرا کا دھرا رہ گیا کہ وہ بڑی دیش بھکت اور بہت دلیر جماعت ہے۔ ان کے اندر اگر ہمت ہوتی تو اپنی ہمنوا پولیس کی آڑ میں سہی ،گھروں سے نکل کر آتے اور ان کسانوں کو روکنے کی کوشش کرتے۔ اس طرح ہر صبح شاکھاؤں میں سکھائی جانے والی لاٹھی بازی کا پول بھی کھل جاتا ۔ چین سے مقابلہ کرنے کا دعویٰ کرنے والے سنگھ کو میڈیا کے پیچھے بیٹھ کر جھوٹ پھیلانا زیب نہیں دیتا ۔ ویسے وہ کر بھی کیا سکتے ہیں جبکہ ان کاپردھان سیوک سائنسدان بن کر کسانوں کی تحریک سے نبرد آزما ہونے کے بجائے کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے سنجیونی بوٹی تلاش کرنے نکل کھڑا ہوا ہے۔ سال 2014کے انتخاب سے قبل ایک ویڈیو بنائی گئی تھی جس میں ایک بزرگ اپنے سامنے بیٹھے نوجوان سے پوچھتا ہے بیٹے آگے کیا ارادہ ہے؟نوجوان جواب دیتا ہے کسان کا بیٹا ہوں کھیتی کروں گا۔ اس پر بوڑھا باپ کہتا ہے کسان تو صرف جوجھنے کے لیے پیدا ہوا ہے اسے اپنی محنت کا پھل نہیں ملتا۔ اس پر نوجوان بڑے جوش وخروش میں بولتا ہے بہت جلد ملے گا فصل اگانے کا صحیح گیان (معلومات) بھی فصل کا صحیح دام بھی اور کسان ہونے کا صحیح مان (احترام) بھی۔ اچھے دن آنے والے ہیں بابا۔ بزرگ حیرت سے پوچھتا ہے وہ کیسے؟ تو جواب ملتا ہے۔ اچھے دن آنے والے ہیں بابا ،مودی جی کو جِتائیں گے بی جے پی کو اکثریت دلائیں گے تبھی اچھے دن آئیں گے۔
اشتہاری ایجنسی سے ویڈیو بناکر آئی ٹی سیل کے ذریعہ اسے وائرل کرادینا جس قدر آسان ہے اچھے دن لانا اتنا ہی مشکل ہے۔ اس لیے کہ مودی جی توجیت گئے، بی جے پی کو اکثریت بھی مل گئی۔ لیکن اچھے دنوں کا کہیں دور دور تک نام و نشان دکھائی نہیں دیتا ۔ اچھے دن تو دور اب کسان اپنے وجود کی جنگ لڑنے پر مجبور کردیا گیا ہے ۔ اس کے سامنے سرمایہ داروں کی غلامی منہ کھولے کھڑی ہے۔ اس کو اپنے ہی کھیت میں مالک سے بندھوا مزدور بنانے کی سازش رچی جارہی ہے اوراس کے خلاف وہ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ وزیر اعظم بن جانے کے بعد اقتدار کی کرسی کے ساتھ اپنے بیاہ کا ہنی مون رچانے کے لیے مودی جی دنیا بھر کی سیر پر نکل کھڑے ہوئے اور یہ سلسلہ ایک سال تک چلا ۔ اس کے بعد جن سرمایہ داروں نے جہیز کا انتظام کرکے یہ بیاہ رچایا تھا وہ اپنا قرض وصول کرنے کا تقاضہ کرنے لگے تو مودی جی نے کسانوں کے کھیت پر ڈاکہ ڈال کر اسے لوٹانے کی کوشش کی ۔
یہ 2015کی بات ہے جب کھیتی خرید و فروخت کے قانون میں زبردست ترمیمات پیش کی گئیں ۔ اس طرح سوٹ بوٹ والی سرکار کا سرمایہ داروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آیا ۔ مدھیہ پردیش کے مندسور میں کسان احتجاج کرنے کے لیے میدان میں آئے تو شیوراج چوہان کی انتظامیہ نے ان کو گولیوں سے بھون دیا تھا۔ اس کے خلاف ملک بھر کے کسانوں کو میدان میں آنا پڑا تھا۔ پارلیمانی انتخابات میں جوق در جوق بھارتیہ جنتا پارٹی کو ووٹ دے کر کامیاب کرنے والا کسان یہ دیکھ کر ہکا بکا رہ گیا۔ وہ ایک ایسا وقت تھا جب بارش نہ ہونے کےسبب ملک میں قحط سالی منڈلا رہی تھی ایسے برے وقت میں کسانوں کے زخموں پر مرہم رکھ کر انہیں راحت دینے کے بجائے ان کو اپنی زمین سے بے دخل کرنے کا نیا قانون بناکر نمک پاشی کی گئی۔ دیہی زمینوں پر نئے شہروں کی آبادکاری اور صنعتی ترقی کا بہانہ بنا کر زمین کی سرکاری خرید کے قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں۔ اس کے خلاف سڑک سے لے کر َسنسد (ایوانِ پارلیمان) تک حکومت کو متحدہ اپوزیشن کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اور بالآخر سرکار اس کے آگے جھک گئی ۔ مودی سرکار نے رسوا ہوکر ساری نجی زمین کے بِل سے نئی ترمیمات ہٹا تو دیں لیکن حالیہ واقعات شاہد ہیں کہ اس ذلت سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔
عوام کو سمجھانے بجھانے کے لیے اس وقت اپنے من کی بات میں وزیر اعظم نریندر مودی نے کسانوں سے اپیل کی تھی کہ وہ زمینوں کی خرید کے حکومتی بل کی مخالفت نہ کریں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ صنعتی ترقی کے لیے کسانوں کی زمین خریدنا آخری حربہ ہے لیکن اس جھانسے میں کوئی نہیں آیا۔ اس لیے کہ مودی حکومت کے مجوزہ بل میں زرعی زمین کو صنعتی مقصد کے لیے فروخت کرنے کا پابند کیا گیا تھا۔ اس قانون کی زد میں ملک کے 80 فیصد کسان آسکتے تھے ایسے میں غریبوں کے مفادات کی بلی چڑھا کر حاصل ہونے والی اقتصادی ترقی سرمایہ داروں کے تو مفاد میں تھی لیکن عوام الناس کے لیے َسمِ قاتل سے کم نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ راہل گاندھی نے اعلان کیا تھا کہ یہ غریبوں کی نہیں بلکہ صنعت کاروں کی حکومت ہےکیونکہ مودی جی نے ان سے ہزاروں کروڑ کا قرض لے کر انتخاب جیتا ہے۔ اس قرض کو ملک کی بنیادیں کمزور کر کے، چکا نے کی ناکام کوشش کی گئی۔ پانچ سال پہلے جو صورتحال تھی وہی پھر سے لوٹ آئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب بی جے پی والے کہہ رہے ہیں کسانوں کے اچھے دن کا وعدہ تو 2014 میں تھا 2019 میں نہیں۔ اس لیے اب ہم اس کے پابند نہیں ہیں۔ گویا اب انہیں کسانوں کو لوٹنے کی کھلی چھوٹ ہے۔ ابتدا میں جس ویڈیو کا ذکر کیا گیا اس میں سب سے پہلے گیان کا ذکر تھا۔ مودی جی بہت گیانی آدمی ہیں اور اپنا گیان موقع بے موقع بانٹتے رہتے ہیں ۔ 2015 کے بدنام زمانہ قانون کو واپس لینے کے بعد بنگلورو میں انہوں نے فرمایا تھا جھوٹ پھیلا نے والوں کو نہیں پتہ کہ کسانوں کے مفادات کی حفاظت کیسے کی جائے؟ کسان اپنی زمین کیسے گنواتا ہے؟ اور وہ کہاں جاتی ہے؟ مودی جی شاید یہ کہنا چاہتے تھے وہ دوسرے کسان کے پاس چلی جاتی ہے اور اب ان کے دوست سرمایہ داروں کے پاس چلی جائےگی، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ وہ آگے بولے، میں آسمان سے نہیں ٹپکا بلکہ گاوں میں پلا بڑھا ہوں ۔ میں ان کے مسائل جانتا ہوں ۔ مجھے پتہ ہے کہ ایک کسان اپنے بیٹے کو اَردلی یا ڈرائیور کی ملازمت دلانے کے لیے رشوت کی خاطر کھیت بیچنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ مودی جی یہی صورتحال اب بھی ہے اور ان کے راج میں حالیہ بین الاقوامی جائزے مطابق رشوت خوری کے باب میں ہندوستان نے ایشیا کے سارے ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
مودی جی نے اپنی مذکورہ تقریر میں سوال کیا تھا کسان حکومت کو زمین فروخت کرنے پر مجبور کیے جاتے ہیں، کیا ان کا تحفظ نہیں ہونا چاہیے ؟ان کے تحفظ کا طریقہ پیدوار بڑھانے کے لیےدرست مشورہ دینا، سینچائی کا بندوبست کرنا اور بہترین بازار کا اہتمام کرنا ہے۔ یہ ساری باتیں درست ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے بجائے وہ کسانوں کا گلا کاٹنے کے لیے نت نئے قانون بنانے میں مصروفِ رہتے ہیں ۔ وزیراعظم کو کسانوں کے مسائل کا علم تو ہے لیکن وہ انہیں حل کرنے کے بجائے اپنے محسن سرمایہ داروں کو اس سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ سجھاتے ہیں یا ان کے تجویز کردہ منصوبوں کوعملی جامہ پہناتے ہیں۔ پہلے بھی یہی ہوا اور اب پھر سے یہی ہورہا ہے ۔ بہترین بازار کا دوہرا معیار اس نئے بل میں سامنے آیا کہ سرکاری منڈی میں ٹیکس وصول کیا جائے گا اور باہر اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا ۔حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس سرکاری منڈی میں کم ازکم بازار بھاؤ (ایم ایس پی) کالحاظ کرکے کسانوں کو زیادہ قیمت دی جاتی ہے، وہاں چھوٹ دی جاتی اور باہر استحصال کرنے والوں پر ٹیکس لگایا جاتا لیکن یہاں تو سب کچھ الٹا پلٹا چلتا ہے۔
مذکورہ ویڈیو میں گیان اور دام کے ساتھ سماّن (احترام) کا بھی ذکر ہے۔ اب آئیے دیکھیں کہ بی جے پی کسانوں کاکیسے احترام کرتی ہے۔ پنجاب کے کسان دو ماہ تک مرکزی حکومت کے نئے قانون کی مخالفت میں احتجاج کرتے ہیں تو انہیں نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ وہ یومِ آئین کے موقع پر دہلی میں آکر مظاہرہ کرنے کے لیے نکلتے ہیں تو ہریانہ کی سرحد پرخار دار تار لگا دی جاتی ہے۔ یعنی ملک کے اندر بین الاقوامی بارڈر کا منظر پیش ہوتا ہے۔ اس کے بعد راستے کھود دیے جاتے ہیں تاکہ وہ آگے نہ بڑھ سکیں ۔ مرکزی سرکار کی اس قبر کو پھلانگ کر کسان جب آگے بڑھتے ہیں تو ان کے راستے میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ۔ سردی کی ٹھنڈی راتوں میں ان پر پانی کی بوچھاڑ ماری جاتی ہے اورنَوَدیپ سنگھ نامی نوعمر کسان جب گاڑی پر چڑھ کر ’واٹر کینن‘ بند کر دیتا ہے تو اس پر قتل کی کوشش کا معاملہ درج کردیا جاتا ہے۔ یعنی کسانوں کو ٹھنڈ سے مرنے سے بچانا قتل کوشش قرار پاتا ہے۔ اس پر بھی مشتعل ہوئے بغیر نڈر نودیپ سنگھ جواب دیتا ہے کہ اسے اندیشہ ہے کہ حکومت کسانوں کو بڑے کارپوریٹس کے بھروسے چھوڑ دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ سبھی کسان سڑکوں پر اتر گئے ہیں اور اپنے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔
پولیس کے عتاب کا شکار ہونے والا انوپ تنہا نہیں ہے۔ ہریانہ پولیس نے کروکشیتر میں دہلی کوچ کرنے والے کسانوں کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ان کے خلاف باریکیڈ توڑنے کے علاوہ ڈیزازٹر منیجمنٹ ایکٹ کی دفعہ کے تحت بھی مقدمہ کیا گیا ہے۔ اقدام قتل کی دفعات میں11 کسان رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ پہواعلاقہ میں بھی 6 کسان رہنماؤں پر بیریکیڈ توڑنے کے ساتھ ساتھ افسران پر گاڑی چڑھانے اور راستہ روکنے کا الزام بھی لگایا گیا۔ ان معتوب لوگوں میں بھارتیہ کسان یونین کے ریاستی سربراہ گرنام سنگھ چڈھونی اور ریاستی ترجمان راکیش بینس کے علاوہ چار افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پنجاب سے احتجاج میں شامل ہونے والے بلبیر سنگھ راجو سمیت ہزاروں نامعلوم کسانوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعات 114، 147، 148، 149، 186، 158، 332، 375، 307، 283، 120 بی اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ کی دفعہ 51 بی اور پی ڈی پی کی دفعہ 3 عائد کرکے سرکار نے خود اپنا تمسخر اڑا لیا ہے۔ ویسے جانباز کسانوں نےوزیر اعلی کھٹر یا وزیر داخلہ شاہ کی یہ غلط فہمی ضرور دور کردی ہے کہ وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے ڈرنے یا جھکنے والے ہیں۔
کسانوں کو روکنے میں ہر محاذ پر ناکام ہونے والی سرکار نے بالآخر ان کے خلاف شک و شبہ اور نفرت کا بازار گرم کردیا ۔ اس نفسیاتی حملے کے لیے میڈیا کو آلہ کار بنایا گیا ۔ سب سے پہلے سوال آیا کہ پنجاب کا کسان ہی کیو ں احتجاج کر رہا ہے؟ یہ اس احتجاج کو سیاسی رنگ دینے کی ایک کوشش تھی۔ اس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ پنجاب کی کانگریسی حکومت کے ایما پر یہ تحریک چل رہی ہے ۔ صوبائی حکومت پر مرکز یہ الزام تو لگا سکتا ہے کہ اس کی طرح کانگریسی سرکار نے کسانوں کو جبر تشدد کاشکار کیوں نہیں کیا لیکن یہ کہنا کہ اس کی شئے پر اتنی بڑی تحریک اٹھ گئی سراسر احمقانہ دعویٰ تھا۔ ایک طرف تو یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ہندوستان کانگریس ُمکت ہوچکا اور پھر اسی جماعت کو اتنی بڑی تحریک چلانے کا کریڈٹ دینا ،دوغلا پن نہیں تو اور کیا ہے۔ ہریانہ کے بی جے پی وزیر اعلیٰ جب پنجاب کے کسانوں کو روکنے میں ناکام ہوگئے اور انہوں نے دیکھا کہ ہریانوی کسان ان کے شانہ بشانہ تحریک میں شامل ہوگئے ہیں تو نامہ نگاروں کے سامنے یہ جھوٹ بول دیا کہ یہ ہمارے کسان نہیں ہیں ۔ آر ایس ایس کی گودی میں تربیت پائے منوہر لال کھٹر جیسے بَنیا کو ابھی تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ کسان ہمارا تمہارا نہیں ہوتا، وہ تو کسان ہوتا ہے اور سب کا ہوتا ہے۔
ویسے پنجاب کا کسان کیوں پیش پیش ہے؟ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلے تو یہ کہ وہ بیدار ہے، اس کو بیوقوف بنانا ناممکن ہے۔ وہ خوشحال بھی ہے کیوں کہ اس کا مال سرکاری منڈی میں بکتا ہے اور اسے اپنی پیداوار کی اچھی قیمت ملتی ہے۔ یہی حال ہریانہ کے کسان کا ہے۔ ان لوگوں کو پتہ ہے کہ اگر براہ راست یا کسی اور طریقہ سے ان منڈیوں کو بند کردیا گیا تو وہ بھی دیگرریاستوں کے کسانوں کی مانند سرمایہ داروں کے آگے محتاج ہوجائے گا۔ غربت اور خودکشی اس کا بھی مقدر بن جائے گی۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ بھارت کے پچاس کروڑ کسان خاندانوں میں سے ۵۵ فیصد قرضدار ہیں ان پر اوسط قرض ٤٧ ہزار روپے ہے۔ اسی لیے خود کشی کے اتنے زیادہ واقعات مہاراشٹر اور آندھرا و تلنگانہ میں پیش آتے ہیں ۔ہریانہ اور پنجاب کے کسان کو اپنے پیش آئندہ نقصان کا اندازہ ہے۔ آخری وجہ یہ ہے اس نئے قانون میں کارپوریٹ کو کھیت کرایہ پر دینے کی جو بات کی کی گئی اس کو پنجاب کا کسان بھگت چکا ہے ۔ اس کو پتہ چل چکا ہے کس طرح یہ کمپنیاں کسانوں کا استحصال کرتی ہیں ۔ انہیں یہ بھی معلوم ہوگیا ہے کہ انشورنس کے نام ان کے ساتھ کیسا فریب کیا جاتا ہے۔ اس لیے وہ میدان میں اترا ہےاور سارے ملک کے کسانوں کی ہمدردیاں اس تحریک کے ساتھ ہیں ۔
سنگھی ٹولیوں کے پاس جب اور کچھ نہیں بچتا تو دہشت گردی کا الزام حرکت میں آتا ہے۔ مسلمانوں کو آئی ایس آئی کا ایجنٹ، اشتراکیوں کو شہری نکسل اور پنجابیوں کو خالصتانی قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہ فتنہ بھی منوہر لال کھٹر کا چھوڑا ہوا ہے۔ انہوں نے خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے شک کا اظہار کیا جسے میڈیا نے یقین میں بد ل دیا اور اس تحریک کو پاکستان سے جوڑ دیا۔ یہ نہایت شرم کی بات ہے کہ یہ لوگ ان پنجابی کسانوں کو خالصتانی کہہ رہے ہیں جن سے پہلے ہریانوی کسان ڈنڈے کھانے کے لیے اپنے آپ کو ڈھال بنا رہا ہے۔ جن کی حمایت میں اتر پردیش کا کسان کوچ کرچکا ہے۔ مدھیہ پردیش اور راجستھان کے کسان دہلی کی سرحد پر دستک دے رہے ہیں اور ملک بھر کا کسان مودی اور منوہر لال کھٹر کے پتلے جلا رہا ہے۔ ان احمقوں نے ملک کی نصف آبادی کے خالصتانی یا ان کا حامی ہونے کا اعلان کردیا جو پاکستان کے لیے بھی ممکن نہیں ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے ’احمق دوست سے دشمن اچھا‘۔
کسان جب آہی گئے تو دہلی کے اسٹیڈیمس کو جیل بنانے کی کوشش کی گئی۔ اس میں بھی جب ناکامی ہوئی تو وزیر زراعت نریندر سنگھ تو مر بولے وہ ۳ دسمبر کو بات کریں گے۔ یہ اس طرح کا اعلان ہے گویا وہ کسانوں پر کوئی احسان کریں گے۔ ارے بھائی جو بات ۳ دسمبر کو کرنی ہے وہ ابھی کرلو تو کیا حرج ہے۔ل لیکن یہ اس حکومت کی اکڑ ہے جو اسے بار بار ذلیل کرتی ہے۔ اس کے بعد کسانوں نے جب براڈی گاؤں میں نرنکاری بابا میدان میں جانے سے انکار کردیا اور کہا کہ وہ دہلی کو گھیرنے کے لیے آئے ہیں گھِرنے کے لیے نہیں، تو امیت شاہ کو خیال آیا کہ وہ ملک کے وزیر داخلہ ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ کسان طے شدہ مقام پر چلے جائیں تو ان سے اسی وقت بات ہوسکتی ہے۔ کسانوں کو اگر ابتدا ہی میں بغیر کسی رکاوٹ کے براڈی میں آنے دیا جاتا اور فوراً ان سے بات کی جاتی تو یہ رسوائی کیوں ہوتی لیکن جن کو اس کا شوق ہے انہیں کون منع کرسکتا ہے؟
وہ حکومت جو دو ماہ سے کمبھ کَرن کی مانند سورہی تھی وہ آہستہ آہستہ جاگ رہی ہے۔ اب تک شاہ جی تو بیدار ہوئے لیکن پردھان جی نہیں جاگے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کسانوں سے ملنے کے بجائے کورونا وبا کی ویکسین کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے احمد آباد، پونے اور حیدرآباد کی طرف چل پڑے۔ یہ عجیب حال ہے کہ کسان اپنا سیاسی مسئلہ حل کرنے کے لیے دہلی آئے تو وزیر اعظم سائنسداں بن کر ملک بھر کے دورے پر نکل کھڑے ہوئے۔ بہار کی انتخابی مہم کے دوران انہیں کورونا کا خیال نہیں آیا لیکن کسانوں نے انہیں ویکسین کے فراق میں مبتلا کردیا۔ یہ دورہ دراصل ٹیلی ویژن پر کسانوں کے بجائے ان کی یاترا کی خبر چلاکر عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا ورنہ وہ تو اپنے دفتر میں بیٹھ کر آن لائن تبادلہ خیال کرسکتے تھے ۔ ویسے بھی ان کی سائنسی معلومات دنیا بھر میں مشہور ہے۔ آبی بخارات سے پانی اور اس سے ہائیڈورجن الگ کرکے بجلی بنانے والی بات نے عالمی سائنسدانوں کو بھی حیران کر دیا تھا ۔لیکن اب انہیں چاہیے کہ یہ ڈرامہ بازی چھوڑ کر کسانوں کی پریشانی دور کریں ورنہ مستقل طور پر دہلی سے احمدآباد آکر رہنا پڑے گا۔

وزیراعظم کو کسانوں کے مسائل کا علم ہونے کا دعویٰ تو ہے لیکن وہ انہیں حل کرنے کے بجائے اپنے محسن سرمایہ داروں کو اس سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ سجھاتے ہیں یا ان کے تجویز کردہ منصوبوں کوعملی جامہ پہناتے ہیں۔ پہلے بھی یہی ہوا اور اب پھر سے یہی ہورہا ہے ۔ بہترین بازار کا دوہرا معیار اس نئے بل میں سامنے آیا کہ سرکاری منڈی میں ٹیکس وصول کیا جائے گا اور باہر اس سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جس سرکاری منڈی میں کم ازکم بازار بھاؤ (MSP) کالحاظ کرکے کسانوں کو زیادہ قیمت دی جاتی ہے وہاں چھوٹ دی جاتی اور منڈی سے باہر استحصال کرنے والوں پر ٹیکس لگایا جاتا، لیکن یہاں توالٹا پلٹا سب کچھ چلتا ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020