سرخروی کا راز :توحید پر اصرار،طاغوت سے انکار

راہ خدا میں جہد مسلسل کے ذریعہ ہی فتنے کی آگ پر قابو پایا جاسکتا ہے

پروفیسر ایاز احمد اصلاحی، لکھنو

توحید پر اصرار اور طاغوت سے انکار ، یہی مسلمان کی اصل پہچان اور اس کے مومنانہ کردار کی سب سے بڑی شان ہے کیونکہ اصل دین یہی ہے، ( فَمَن يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِن بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ ) جس نے طاغوت کا انکار کیا اور ایک اللہ پر ایمان لایا وہ گویا اللہ کی مضبوط رسی کو پکڑے ہوئے ہے (البقرة ۵۶)۔
ایک سچا مسلمان نہ تو توحیدی تقاضوں کے خلاف جاسکتا ہے اور نہ کسی قسم کے طاغوتی ظلم و عدوان پر خود کو خوش و مطمئن رکھ سکتا ہے۔ عام شکایت ہے کہ آج کا مسلمان بھیڑ میں گم ہو چکا ہے، کتاب الھدیٰ ہوتے ہوئے بھی حیران و سرگرداں پھر رہا ہے، بے قیمت و بے وقعت ہے، قرآن کریم کی روشنی کے باوجود تاریکی و پس ماندگی اس کی تقدیر بنی ہوئی ہے اور وہ ہر جگہ ظالم و جابر قوتوں کے زیر تسلط۔ ہے، اس کی وجہ کیا ہے؟
مباحثے کی میزیں سجیں تو ہمارے خیال باز دانشوروں کی کمی نہ ہو اور ہر ایک اس مسئلے کا ایسا حتمی حل لے کر ظاہر ہو کہ جہلا بھی مرعوب ہوئے بغیر نہ رہیں ۔۔ لیکن ہمیں کچھ سوالوں کا جواب سادگی و ایمانداری سے بھی ڈھونڈنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ میری نظر میں اس کا سبب بس یہی ہے کہ مسلمان نے اپنی یہ توحیدی پہچان برسوں پہلے کھو دی ہے اور کتاب اللہ میں جس فتنے کے قلع قمع کے لیے جہاد و قتال جیسی سخت چیز کو جائز ہی نہیں واجب و مستحسن قرار دیا گیا ہے وہ اسی فتنے کا شکار بھی ہے اور اس کا ایک حصہ بھی۔ حال یہ ہے کہ اس کی زندگی پر قرآن مجید کی اصلاحی و انقلابی تعلیمات کا دور دور تک کوئی اثر نہیں ہے۔ ضرورت ہے کہ وہ اس پہچان کے ساتھ ایک بار پھر جینا سیکھ لے اور یہ یقین کر لے کہ اسی میں اس کے تمام مسائل کا حل ہے۔
یہ دونوں باتیں (خدائے واحد کا اقرار اور طاغوت کا انکار) دیکھنے میں بہت سادہ ہیں لیکن حقیقتاً اسلامی تعلیمات کا خلاصہ اور مسلمانوں کے موجودہ مسائل اور ان کے حل کے تعلق سے تمام ممکنہ تجزیوں کا سر عنوان ہے۔ یہ دونوں عناصر نہ صرف اسلام و تاریخ اسلام کا شعور پانے بلکہ عالمی حالات کے موجودہ رخ کو سمجھنے کے لیے بھی سب سے اہم بنیاد ہیں، ان کے اندر ہزاروں راز اور تاریخ کی ہزاروں مثالیں چھپی ہیں، روزہ و حج کی فرضیت اور نماز و زکوٰۃ کی ادائیگی اسی ’اقرار‘ و ’انکار‘ کی تربیت اور عملی مظاہرے کی خوبصورت شکلیں ہیں۔ اگر ان واجبات کو اس پس منظر کے ساتھ ادا نہ کیا جائے تو ان کی ادائیگی کا ہماری اجتماعی زندگی پر دور دور تک کوئی اثر نہیں پڑتا۔ لبیک اللهم لبيك کہتے ہوئے حج کے لیے ہم ہر سال کعبہ کے گرد جمع ہوتے ہیں، اس کے باوجود طاغوت ہماری زندگی کے ہر گوشے میں بیٹھا ہے اور ہم اپنے تمام تر فکر و عمل سے اس سے مفاہمت کرنے پر آمادہ ہیں۔ ہم رمضان کے استقبال میں ظاہری طور سے کوئی کسر نہیں چھوڑتے اور روزہ بھی پوری تیاریوں کے ساتھ رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں لیکن ہماری تیاریاں صرف انفرادی سطح پر برکتیں سمیٹنے تک محدود رہ جاتی ہیں، اس میں اس تربیت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا جو صوم کے لغوی و اصطلاحی مفہوم میں مضمر ہے اور جو ایک مسلمان کو خشک صحراوں میں بھوکے پیاسے رہ کر دوڑنے والے وفادار گھوڑوں کی طرح قربانیاں دینے کا خوگر بناتی ہے اور اسے کڑے حالات کے بالمقابل کھڑے ہونے اور اپنا فرض ادا کرنے کے لائق بناتی ہے۔ ہر سال ہم ہر دینی رسم پوری دھوم سے پوری کرتے ہیں لیکن یہ رسمیں ہماری مومنانہ روح کو جگانے میں ناکام رہتی ہیں، اس کی وجہ یہ کہ یہ عبادتیں روح سے خالی ہیں اور اس نے دھیرے دھیرے ایسے بے روح مذہبی مراسم کی شکل اختیار کر لی ہیں جو ہم ہر روز غیر توحیدی مذاہب یا تحریف شدہ ادیان کے ماننے والوں میں دیکھتے ہیں۔
جب کہ ایمان باللہ اور انکار بالطاغوت ہماری اصل مذہبی شناخت ہے۔ اگر ہماری عبادتیں اور ہماری دین پسندی اس ایمان و انکار کا ایک ساتھ اظہار نہ کر سکیں اور ہمارے فکر اور کردار میں اس کی بے لاگ نمائندگی نہ ہو تو اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ ہم اس دین پر قائم نہیں ہیں جو دین کامل بھی ہے اور دین انقلاب بھی۔ حالانکہ اسلام کی ان دو بنیادوں پر مضبوطی سے کھڑی رہ کر ہی یہ امت دوبارہ کامیاب ہو سکتی ہے، اسی سے اس کے اندر ایک بار پھر بے لوث و بے خوف قیادت ابھرے گی، دین کا احیاء اسی سے ممکن ہے، اہل اسلام کا قبلہ اسی سے درست ہو گا، فکر و عمل کو ایک مثبت رخ اسی سے ملے گا، اعدائے اسلام سے مقابلہ اور منافقین سے نجات بھی اسی سے ملے گی، بیت المقدس کی آزادی کا امکان یہیں سے پیدا ہو گا، ہندوستان میں یہ ملت اسی راہ پر چل کر مظلوم انسانیت کی مسیحا بن کر دوبارہ ابھرے گی اور دنیا کو ظالم و طاغوتی قوتوں سے نجات بھی اسی راہ سے ملے گی۔سیسی ہو یا عبد اللہ یا محمد بن سلمان، یا محمد بن زائد یا بشارالاسد یا ہندوستان کی مسلم ملت کے بعض خود ساختہ دین فروش اور مداہنت پسند وکلاء یا لبرل اور موڈیفائیڈ اسلام کے نمائندے، سوال یہ ہے کہ آخر انہیں مسلمانوں کی دین پسندی سے اتنا خوف کیوں آتا ہے کہ وہ دشمنوں کے تو دوست ہیں لیکن اپنے امن پسند و اسلام پسند شہریوں کو اپنا پہلا دشمن سمجھتے ہیں؟ آخر کیوں انہیں نیتن یاہو اور ان کے ہم فکربھارتی حکمرانوں میں کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملتی؟ اور کس غرض سے وہ ان کی حمایت و وکالت میں اتنا آگے نکل جاتے ہیں کہ ان کے بے قصور ہونے کا سرٹیفکیٹ دے کر ان سے خود اپنی ’علمی‘ و ’دینی‘ خدمات کا صلہ حاصل کرتے ہیں؟ اس کے برخلاف ابن تیمیہ، سید مودودی یا سید قطب شہید، حسن البناء شہید اور یوسف القرضاوی جیسے محافظین اسلام کا فکری وجود انہیں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے۔ طاغوت کی گرفت جوں جوں مضبوط ہوتی ہے ان کی مصلحت پرستی کی کرشمہ سازیاں بھی بڑھتی جاتی ہیں، انہیں آر ایس ایس کی مسلم دشمن دستاویزات میں کوئی اشکال نظر نہیں آتا البتہ قرآن کریم کی بے لاگ تعلیمات میں کھوٹ دکھائی دینے لگتا ہے، اباحیت پسندی، باطل پسندی اور غیر اسلام کی بنیادیں مضبوط کرنے میں کوئی دینی غیرت ان کو نہیں روکتی، انہیں ہر ظالم کا وجود قابل قبول ہے، مغرب کا ہر حکم منظور ہے حتیٰ کہ ان کے نزدیک غیروں کا تسلط بھی محبوب ہے لیکن انہیں نہ اخوان پسند ہیں، نہ اسرائیل کے خلاف حماس کی مزاحمت، نہ تحریک اسلامی کا وجود انہیں بھا رہا ہے اور نہ کوئی دینی اتحاد یا دینی جدوجہد ان کو گوارا ہے۔ وہ اسلام کے تصور جہاد سے اس قدر خائف اور بیزار ہیں کہ ایک طرف عرب اہل اقتدار کے ہاتھوں جمعہ کے خطبوں، بچوں کی نصابی کتابوں اور ٹی وی پروگراموں تک میں جہاد کے ذکر پر پابندی لگادی گئی ہے تو دوسری طرف ہمارے بعض اصحاب قرطاس و قلم اسلامی تحریکات اور اس اسلامی افکار کو نشانہ بناتے ہوئے ایک مسخ شدہ دین، ایک غیر مزاحم اسلام اور ایک مصلحت پرست شریعت کی تصویر پیش کرنے میں مصروف ہیں۔ اس سے اہل اسلام کو جو نقصان پہنچ رہا ہے اس سے انہیں کوئی غرض نہیں کیونکہ وہ سب کچھ جان بوجھ کر کر رہے ہیں، البتہ انہیں حسب توقع اپنی اس مسلسل خدمات کے عوض سرکاری انعامات ضرور مل رہے ہیں۔
اگر یہی حال رہا تو وسیم رضوی اپنی چال میں کامیاب ہو یا نہ ہو، لیکن مجھے ڈر ہے کہ کچھ دنوں میں ہمارے حکومت نواز علماء و قائدین حالات کا حوالہ دے کر نماز و خطبات جمعہ میں آیات جہاد کی تلاوت ممنوع قرار دینے والا فتویٰ نہ صادر کر دیں۔ اسلام کو اپنی خواہشات کے مطابق ڈھالنے والے منحرف گروہ ہر دور میں پیدا ہوتے رہے ہیں اور ان کے سرخیل افراد کو خود مسلمانوں میں سے ہمنوا بھی ملتے رہے ہیں، ان منحرف گروہوں کی ایک پہچان یہ بھی رہی ہے کہ وہ اسلام کے ایک اہم رکن، جہاد کے منکر تھے، بعض نے تو کھلے عام اسے اپنے خانہ ساز دین اور بنیادی مذہبی افکار سے خارج کر دیا، جیسے بہائی فرقہ جس کا بانی علی محمد شیرازی اور قادیانی فرقہ، جس کا بانی مرزا غلام احمد ہے۔ لیکن عصر حاضر میں علماء کی ایک مخصوص تعداد ایسی بھی جس نے ان فرقوں کی طرح اس جہاد بیزاری کو اپنے مذہبی اصولوں کا حصہ بھلے ہی نہ بنایا ہو لیکن جہاد کے تعلق سے عملاٌ وہ بھی انہی کے فکر کے پیروکار ہیں۔
ایسے تمام لوگوں پر، خواہ وہ حکمراں ہوں یا ان کے ہم نوا، ہمیں آج یہ واضح کرنا چاہیے کہ جس طرح اسلامی شریعت اجتہاد سے مزید تازہ و بالیدہ ہوتی ہے اسی طرح اس شریعت کی حامل امت جہاد سے مضبوط و توانا ہوتی بے۔ اجتہاد کے بغیر ہماری تمام علمی و فکری کوششیں کار عبث یا بے مصرف ذہنی مشق بن کر رہ جاتی ہیں اسی طرح جہاد کے بغیر ہمارا پورا وجود ہی غیر محفوظ و بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس لیے حکام ہوں یا عوام انہیں یہ حق قطعاٌ نہیں ہے کہ وہ اپنی خود ساختہ منطق کے بل پر اسلام کے تن کو روح جہاد سے محروم کر دیں یا قرآن کی آیات جہاد کو امت کےدل و دماغ سے کھرچنے اور بچوں کے درسی نصاب اور تعلیمی نظام سے ان کے اثرات کو محو کرنے لگیں، یا اپنے افکار سے اسلام بدون جہاد کا نقشہ پیش کرنے کا کام کریں۔ ایسا کرنا کفر بھی ہے اور حمایتِ کفر بھی، تحریف بھی ہے اور خدا کے دین میں مداخلت بھی۔ یہ عمل خواہ وہ کسی کی طرف سے وہ رٹ کی شکل میں ظاہر ہو یا علمی مباحث کی تہ میں چھپا کر پیش کیا جائے وہ اسلام کے کسی بھی پیمانے سے تعلیم الاسلام نہیں بلکہ تعلیم الکفر مانا جائے گا۔
یہاں جہاد کے اسلامی فلسفہ پر گفتگو کرنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن میں یہاں اتنا ضرور واضح کرنا چاہوں گا کہ اسلام کے تصور جہاد کی جو ریڑھ ہے اسے قرآن مجید میں سورہ بقرہ کی ایک مختصر سی آیت سے بھی بڑی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ وہ آیت ہے ’’ الفتنة اشد من القتل‘‘ (البقرة : ۱۹۱) اسی بات کو دوسری جگہ اسی سورہ میں اس طرح کہا گیا ہے، ’’الفتنة اكبر من القتل‘‘ (البقرة : ۲۱۷) اس کا واضح مطلب یہی ہے کہ فتنہ وفساد اور ظلم و تعدی خواہ وہ کسی صورت میں ظاہر ہو رہا ہو اس کو ختم کرنا ضروری ہے چاہے اس کے لیے قتال ہی کیوں نہ کرنا پڑے کیونکہ اپنی شناعت اور اثرات بد کے لحاظ وہ جنگ و قتال کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضر اور مہلک ہے۔ یہ ایسی لوجیکل بات ہے کہ کوئی بھی صاحب عقل اور صحیح الدماغ انسان فتنہ و فساد کو بڑھنے سے روکنے کے لیے طاقت کے استعمال کو غلط کہہ ہی نہیں سکتا۔ ظلم اور فتنے کا مقابلہ قوت سے کرنا اگر غلط اور نا مناسب ہے تو پھر حکومتوں کے لیے بڑی بڑی فوجیں رکھنے کا کیا جواز ہے؟ اور مختلف بہانوں سے ان کا اپنی عسکری طاقت کے بل پر اپنے دشمنوں پر چڑھائی کرنے اور فتنہ انگیز داخلی قوتوں کے خلاف خونیں اقدام کرنا کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے؟ اگر دفاع اور قومی سرحدوں اور ’’قومی مفادات‘‘ کے نام پر حکومتوں اور عالمی قوتوں کی عسکری سرگرمیاں صحیح ہیں تو دنیا کے مسلمانوں کو بھی اپنے خلاف اٹھنے والے فتنوں اور مظالم کا منظم و متحد ہو کر مقابلہ کرنے اور اپنی جان و مال، عزت و آبرو اور دینی شعائر کے دفاع میں جہاد کرنے کا پورا حق ہے۔ اگر ان حکومتوں کی لشکر کشی غلط نہیں ہے تو پھر مظالم کے خلاف جہاد کو کیونکر غلط کہا جا سکتا ہے؟ یہاں خاص قابل غور پہلو یہ ہے کہ مذکورہ آیت الفتنة اشد من القتل کا سیاق بھی اسی سلسلہ کلام سے تعلق رکھتا ہے جس میں آگے چل کر وہ بات کہی گئی ہے جس کا ذکر اس مضمون کے آغاز میں ہوا ہے اور جس میں کہا گیا ہے ’’دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں ہے، جب کہ ہدایت کجی سے ممیز ہو چکی ہے، جس نے طاغوت کا انکار کیا اور ایک اللہ پر ایمان لایا وہ گویا اللہ کی مضبوط رسی کو پکڑے ہوئے ہے‘‘ (البقرة : ۲۵۶)۔ یہ ایک فطری امر ہے کہ فکر و عقیدہ کا معاملہ جب عقل و دل سے ہے تو اس عقل و دل کو حریت فکر سے محروم کرنا کسی بھی شکل میں مناسب نہیں ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی گروہ کسی فرد یا گروہ کے اس حق پر غارت گری کرتا ہے اور انہیں ان کے دین سے باز رکھنے کے لیے ان پر ظلم و جبر روا رکھتا ہے، یا انہیں ان کے معبد میں ذکر و عبادت کرنے سے بالجبر روکتا ہے تو اس کے خلاف جہاد کے علاوہ کوئی چارہ نہیں بچتا کیونکہ یہ وہ فتنہ ہے جس کی لگائی ہوئی آگ وقتی طور سے کی گئی جنگ سے کہیں زیادہ ہلاکت خیز ہے۔ اسی جبر و ظلم کو قرآن مجید میں اللہ تعالی نے فتنہ کہا ہے اور اس کے خلاف کمر بستہ ہونے کو جہاد کہا گیا ہے۔ اسلامی نظریہ جہاد کے اسی پہلو کو واضح کرتے ہوئے اس جہاد کا مقصد علامہ فراہی نے دو لفظوں میں سمیٹ دیا ہے ’’القتال لنفي القتال‘‘ (قتال دفع قتال کے لیے ہے) یعنی یہ قتال مقصود نہیں بلکہ مقصود تو اس کے ذریعہ اس فتنے کا خاتمہ ہے جو ایک مستقل جنگ و خوں ریزی کا سبب بنتا ہے، اس لیے اس فتنے کو روکنے کے لیے کبھی کبھی قتال لازم ہو جاتا ہے۔ اور جس فتنے کو قرآن مجید میں جنگ و قتال سے بھی زیادہ بدتر کہا گیا ہے اس کے معنی و مفہوم کا مطالعہ اس کے وسیع سیاق میں کیا جائے تو اس میں ’’کفر باللہ، اللہ کے گھر سے اس کی مخلوقات کو روکنا، وہاں سے اہل ایمان کو نکالنا، انہیں ان کے دین کی وجہ سے فتنوں کا نشانہ بنانا اور آزادی فکر و عقیدہ کو سلب کرنا‘‘ یہ سب شامل ہے اور یہی وہ فتنہ ہے جو خالق کائنات کے نزدیک سب سے زیادہ شدید و شنیع ہے، یہاں تک کہ جنگ و قتال سے بھی زیادہ، اور اس کے خلاف متحد و منظم جہاد کرنے کو قرآن میں واجب کیا گیا ہے، اور اس کے خلاف اٹھنا انکار بالطاغوت کی سب سے بڑی شکل ہے کیونکہ یہ فتنہ دین و عقیدہ کے تعلق سے انسانوں کو ملنے والی اس اختیار و آزادی کی نفی کرتا ہے جو خود ان کے رب اور خالق نے انہیں دی ہے۔ مولانا فراہی نے سورہ بقرہ کے اس سلسلہ کلام کے نظم کی روشنی میں ’’الفتنة‘‘ کی جو مختصر تشریح کی ہے وہ بڑی مناسب ہے اور وہ ہے ’’لوگوں کو ان کے اپنے دین کو زبردستی چھوڑنے پر مجبور کرنا‘‘۔ یہ ایک ایسی مذموم کوشش ہے جس کے خلاف جہاد نہ کرنا خود انسانیت کو فتنے میں جھونکنے کے برابر ہے، یہ چاہے گھر واپسی کے نام سے ہو، یا ایک خاص دین کے ماننے والوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا ہو یا ان کی شریعت میں کسی قسم کی مداخلت ہو یہ تمام حرکتیں اسی ’’ فتنہ‘‘ کے زمرے میں آتی ہیں۔
ظلم کو ظلم کہنا، فتنوں کے سد باب کے لیے جدوجہد کرنا اور اس کی راہ روکنا عین اسلام ہے، یہ جزو دین بھی اور جزوِ عبادت بھی، یہ حرمین کی توسیع و تزئین سے کہیں زیادہ اہم ہے کیوں کہ قرآن کی رو سے سر زمين اسلام سے فتنے کو دور کرنا اور اس کے لیے منظم جدوجہد کرنا صرف مسلم معاشرے میں اسلام کی بحالی نہیں بلکہ امن عالم کی بقا کے لیے بھی ضروری ہے اور جیسا کہ بتایا گیا ظلم و فتنہ کے خلاف یہ جدوجہد دنیا کے کسی بھی قانون کے لحاظ سے دہشت پسندی نہیں بلکہ انصاف پسندی ہے، یہ انسانیت دشمنی نہیں بلکہ انسانیت دوستی ہے۔ اس لیے خدا را چوروں کے ’چور چور‘ پکارنے سے خود کو چور سمجھنے اور انصاف کی راہ سے ہی پھر جانے کی غلطی نہ کیجیے اور نہ ظالموں کے دباؤ میں اسلام میں جہاد کی اہمیت و معنویت کا انکار کر بیٹھیے اور نہ ہی ان کی مرضی کے مطابق قرآن مجید کی آیات جہاد کی من مانی تاویل کیجیے۔ حق ہر حال میِں حق رہتا ہے، اسے باطل اور باطل نواز عناصر کی تائید و تصدیق کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔ وہ جو کہیں کہنے دیجیے، حق یہی ہے کہ ظلم کے خلاف جہاد اور اجتماعی مزاحمت کے بغیر اسلام کا کوئی بھی تصور مکمل نہیں ہو سکتا۔
آج کل صبرو جہاد کی دلچسپ تعبیرات میں یہ عنصر بھی دیکھنے کو مل رہا ہے کہ اسلام کے کچھ نئے ترجمان صبر کا نام لے کر مسلمانوں کے اندر سے جہاد کی روح کو ختم کرنے اور اصلاح و تبدیلی کے لیے ان کی طرف سے ہونے والی ہر اجتماعی کاوش کو منفی اور بے معنی ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم قیادت (بغیر کسی استثنا کے) صدیوں سے صرف اپنا کھویا ہوا اقتدار واپس لینے کی جدو جہد کر رہی ہے اور اپنے حکام و ملوک آور عالم مغرب سے بلا وجہ بر سر پیکار ہے، جب کہ مسلمانوں کو ہر طرف سے آنکھیں بند کر کے اہل تصوف کی طرح صرف اصلاح باطن پر توجہ دینی چاہیے، وہ یہیں رکتے بلکہ اس سے آگے یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ خود اپنے دین کا محافظ ہے اس لیے اس کے دین کے تحفظ کے لیے اجتماعی جدوجہد کرنا اور اعدائے دین کے تسلط کے خلاف تحریکیں برپا کرنا قطعاٌ درست نہیں ہے۔ یہ وہیں باتیں ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد سے فرار کے لیے اہل کتاب، خصوصاً یہود اپنے انبیاء سے کہتے رہے ہیں اور بالآخر ان کا یہی رویہ ان کے زوال کا سبب بنا۔۔ اس تعبیر جدید کے حاملین کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ تاریخی واقعات کی طرف سے آنکھیں بند کر کے خلیج عرب سے لے کر افغانستان تک پھیلی ہوئی تباہ کاریوں کا ذمہ دار صرف اہل اسلام اور تحریکات اسلامی کے قائدین کو قرار دیتے ہیں اور مسلمانوں کو ہر جگہ سپر ڈال دینے اور باطل کے تسلط کو بخوشی تسلیم کرلینے کی نصیحت کرتے ہیں۔ ان کا ایک ’کارنامہ‘ یہ بھی ہے کہ وہ صبر، جہاد، امن، اصلاح، احسان اور رجوع الی القرآن جیسی اصطلاحات کے اصل معانی و مطالب کو خلط ملط کر کے من چاہی تعبیرات کے ساتھ پیش کرتے ہیں اور قصداً یا سہواً ان اصطلاحات کے باہمی روابط کی وضاحت سے بھی گریز کرتے ہیں۔ حسن البنا سے لے کر مولانا مودودی تک اور سعید نورسی سے لے کر شبلی نعمانی تک کی اصلاحی و دعوتی کوششوں کو وہ صرف اس وجہ سے منفی اور اشتعال انگیز گردانتے ہیں کہ ان کوششوں میں باطل کی نشاندہی اور اس سے مقابلے کی رہنمائی بھی ملتی ہے جو ان کی نظر میں غیر ضروری ہے۔ یہ لوگ اپنی اس منطق کی بنیاد پر بھٹکے ہوئے مسلم ملوک و حکام کو اسلام کی روشن تعلیمات سے قریب کرنے کی بجائے الٹا ان کے منافقانہ عمل کو مثال بنا کر پیش کرتے ہیں اور وہ چاہے خونی فوجی انقلاب کے ذریعہ بر سر اقتدار آئے ہوں یا اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کر رہے ہوں ہمارے یہ دانشور ان کے مظالم کے خلاف کچھ بولنا تو دور الٹا عام مسلمانوں کو ان کی غیر مشروط اطاعت کی تعلیم دیتے ہیں۔
کچھ تو اپنی کج فکری اور شناختی بحران کے دباؤ میں اور کچھ طاغوت کی خوش نودی کی غرض سے آج کل خود مسلمانوں کا ایک طبقہ اسلام کو دوبارہ قوت نافذہ میں بدلنے والی اور جہاد کی روح مسلمانوں میں دوبارہ زندہ کرنے والی کوششوں کو فتنہ و فساد کا نام دے رہا ہے، اس طبقے کے لوگ ہندوستان میں بھی سرگرم ہیں اور ہندوستان کے باہر بھی۔ ان کی روشن خیالی کا پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ اسلام کسی قسم کی اجتماعی جدوجہد کا نام نہیں ہے بلکہ یہ محض مثبت کارکردگی اور مفاہمت پسندی کا نام ہے۔ ایسا کہتے ہوئے وہ امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کا وہ فریضہ منصبی صاف طور سے نظر انداز کر دیتے ہیں جو قرآن میں امت مسلمہ کو بحیثیت ’’خیر امت‘‘سونپا گیا ہے اور وہ وَالَّذينَ جاهَدوا فينا لَنَهدِيَنَّهُم سُبُلَنا ( العنکبوت: ۶۹) یا ’’وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ‘‘ (التوبة: ۲۰) جیسی قرآن کی ان آیات کو بھی فراموش کر دیتے ہیں جن میں مسلمانوں کو اجتماعی طور سے مخاطب کر کے اللہ کے لیے اور اللہ کی راہ میں مل کر جدوجہد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں جہاد کے بیان میں اس سوچ کو (کسی جائز اسلامی مزاحمت اور جہاد کو فتنہ کہنے اور سمجھنے والی سوچ کو) نفاق کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے خود اسے ہی اصل فتنہ کہا ہے( دیکھئےسورة التوبة: ۴۸ تا ۴۹)۔ فکر اسلامی کے عبقری شارح اور عظیم مفسر امام رازی نے متعلقہ آیات کی تفسیر میں بجا طور سے لکھا ہے کہ "آیت میں منافقین کے ایک نئے قسم کے مکر اور ان کے خبث باطن کی طرف نشاندہی کی گئی ہے”۔ مزید یہ کہ انہوں نے آیات جہاد کی روشنی میں جہاد کو فتنہ کہہ کر لوگوں کو اس سے برگشتہ کرنے والوں کو دو قسموں میں تقسیم کر کے ہمیں ان سے ہوشیار کیا ہے :ایک گروہ ان منافقون اور مداہنت پسندوں کا ہے جو اپنی بزدلی و کم ہمتی و ضعف ایمان کی وجہ سے ذاتی نفاق تک محدود رہتے ہیں اور اپنی سوچ سے فتنہ و فساد پھیلانے کا سبب نہیں بنتے، دوسرے منافقین کا وہ گروہ ہے جو خود بھی نفاق پر قائم رہتا ہے اور اپنی سرگرمیوں سے مسلمانوں میں شک و شبہہ پیدا کرکے فتنے کو مسلسل ہوا دیتا ہے
(تفسیر الرازی۔ ١٦/ ٨٥) ۔
امت کو مداہنت پسندی کا سبق پڑھانے والوں کا موقف جو بھی ہو مجھے اس سے غرض نہیں، مجھے ان کی بھی پروا نہیں جو ہر بات کو مسلکی و گروہی عینک سے ہی دیکھنے کی عادی ہیں۔۔ لیکن میں (خصوصاً ماہ رمضان میں) اپنے عام بھائیوں کو یہاں دو اہم باتیں ضرور یاد دلانا چاہوں گا، ایک یہ کہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ اس انسانی دنیا میں جہاد کے بغیر ظلم سے کلیتاً نجات کبھی ممکن نہیں ہے، ایسا نہ کبھی پہلے ہوا ہے نہ آئندہ ہوگا، کیوں کہ مظلوموں کی مدد کا یہی واحد ذریعہ ہے۔ پہلے اس کے لیے اصول و اخلاقیات سے عاری جنگیں اور خانہ جنگیاں ہوتی تھیں جس سے ظلم دور ہونے کی بجائے اور بڑھ جاتا تھا، لیکن جب اسلام آیا تو اس نے مظلوموں کی مدد اور ظلم کے ازالہ کی تدبیر جہاد کی شکل میں ڈھونڈی جو اپنے پاکیزہ اصولوں اور اعلیٰ مقاصد کی وجہ سے اسلام کا ایک مقدس فریضہ اور انسانیت کی سب سے قابل قدر خدمت بن گیا اور فی سبیل اللہ جہاد کر کے ظلم کو دفع کرنے والے مجاہدین کا رتبہ دنیا کے تمام انسانوں سے بلند و بالا کر دیا گیا۔
ظلم کو مٹانے اور فتنے کو ختم کرنے کے تعلق سے اسلام کا نظریہ یہ ہے کہ اہل اسلام پر اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد ہر حال میں واجب ہے، اس فرض کفایہ کی ادائیگی سے غفلت یا اس اس سے انکار کے سبب پوری امت مجرم ٹھہرے گی اور قرآن کی رو سے گنہگار قرار پائے گی۔۔۔ اس سلسلے میں قرآن کا موقف بہت واضح ہے جو ہمیں ہر ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کی تعلیم دیتا ہے اور جو ہم سے یہ پوچھتا ہے کہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اس بستی کی مدد کے لیے آگے نہیں بڑھتے جہاں ظالموں کا راج ہوتا ہے اور تمہارے کمزور و مظلوم بھائی تمہیں مدد کے لیے آواز دیتے ہیں، (النساء :۷۴–مفہوم)۔۔۔۔لیکن اہل مغرب اور ان کی پیروی میں ہمارے کچھ مشرقی صحافی و مصنفین اس جہاد کو "سیاسی اسلام” کا حصہ بتا کر اسے اتنا مکروہ بنا کر پیش کرتے ہیں کہ عام مسلمان اب اس لفظ کے استعمال سے بھی جھجکنے لگا ہے اور آج کل یہ لفظ قصدا اسلامی اصطلاحات میں سب سے مظلوم اصطلاح بنا دیا گیا ہے۔ میری نظر میں اسلام اور اسلام کی تہذیبی روح ہی نہیں عالم اسلام کے تحفظ کے لیے بھی عام مسلمانوں کو اس خطرناک سوچ اور اس سوچ کے حاملین اور اس کے زرخرید ہم نواوں سے محفوظ رکھنا از حد ضروری ہے۔ ہمیں اپنے آپ سےپوچھنا چاہیے کہ:کیا طاغوت سے فکری و عملی انکار کے بغیر بھی ایمان باللہ اور حق کا اقرار ممکن ہے؟ کیا اس کے عملی اظہار کے بغیر دین کے نام پر ستائے جانے والے مظلوموں اور کمزوروں کی مدد ممکن ہے؟ کیا اس کے بغیر طاغوتی لشکر میں ظاہر ہو کر خلق خدا پر ظلم ڈھانے والوں کی سر کوبی ممکن ہے؟ اگر نہیں تو یہ بھی سمجھ لیجیے جہاد فی سبیل اللہ اس انکار بالطاغوت کا عملی اظہار ہے جو فتنہ و فساد کے ازالہ کے لیے کی جانے والی منظم جدوجہد کا دوسرا نام ہے۔ کیا اس جہاد کے کے بغیر ظلم کا مقابلہ ممکن ہے؟ کیا اس جہاد کے بغیر اللہ کی زمین پر عدل و انصاف اور حقیقی امن کا قیام ممکن ہے؟ کیا مظلوموں کی داد رسی صرف ظالموں کی جھوٹی یقین دہانیوں سے کی جا سکتی ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو عراق و شام اور افغانستان اور فلسطین میں اقوام متحدہ کی نگرانی میں کب کا امن قائم ہو چکا ہوتا اور وہاں کے عوام کو ظلم سے نجات مل چکی ہوتی۔۔۔۔۔ یہ وہ جگہیں ہیں جہاں آتش ظلم دہائیوں سے بھڑک رہی ہے، جہاں پچاس لاکھ سے زائد مسلمان لقمہ اجل بن چکے ہیں اور جہاں استعماری ظالم طاقتوں کی بہیمانہ بمباری سے شادی کی تقریبات، ختم قرآن کی محفلوں اور تعلیمی اجتماعات کو بھی لاشوں کے ڈھیر میں تبدیل ہوتے دیر نہیں لگتی اور جہاں عسکری سپر پاورز نے اپنے ’ملکی مفادات‘ میں اضافے اور اپنے سکوں کی قیمت بڑھانے کے لیے انسانی خون کو ارزاں و بے قیمت بنا رکھا ہے۔ اگر ان قوتوں کا جنگ و قتال قابل اعتراض نہیں تو پھر جہاد کے لفظ کو اتنا قابل نفرت کیوں بنا دیا گیا ہے کہ اسے بعض علماء و زعما تمام بے چینیوں اور امت کی پریشانیوں کا سبب مان کر اس سے برات کا اظہار کرنے میں کیوں لگے ہیں؟ تحریک اسلامی کے اس ( مزاحمتی) پہلو سے انہیں اتنا تنفر کیوں ہے؟ اعداء اسلام کا لفظ جہاد سے بدکنا تو متوقع ہے کیونکہ وہ اس جہاد کے عظیم کارناموں سے واقف ہیں، لیکن اسلام کا دعویٰ کرنے والے کسی فرد کا اس سے بھاگنا بہر حال نا قابل فہم ہے اور یہ روش اس کی دانشوری نہیں بلکہ اس کے ضعف ایمان اور اس کے اندرونی نفاق کی دلیل ہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر جہاد کی یہ روح مسلمانوں میں تحریک اسلامی نے دہائیوں پہلے زندہ نہ کی ہوتی اور عام مسلمانوں میں باطل فتنوں کے مقابلے میں ان کی دینی غیرت سانس نہ لے رہی ہوتی تو ہمیں امت مسلمہ میں زندگی کی وہ رمق اور ہمت و اولو العزمی کی وہ جھلک بھی دکھائی نہ دیتی جو ناسازگار حالات کے باوجود اس وقت بھی ان میں موجود ہے، اور طاغوت انہیں کب کا اپنا لقمہ تر بنا چکا ہوتا۔
***

ظلم اور فتنے کا مقابلہ قوت سے کرنا اگر غلط اور نا مناسب ہے تو پھر حکومتوں کے لیے بڑی بڑی فوجیں رکھنے کا کیا جواز ہے؟ اور مختلف بہانوں سے ان کا اپنی عسکری طاقت کے بل پر اپنے دشمنوں پر چڑھائی کرنے اور فتنہ انگیز داخلی قوتوں کے خلاف خونیں اقدام کرنا کیوں کر صحیح ہو سکتا ہے؟

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 25 تا یکم مئی 2021