خبر و نظر

پرواز رحمانی

 

شاہین باغ پر اکتوبر کا فیصلہ
شہریت سے متعلق نئے ترمیمی قانون کے خلاف دلی اور ملک کے دوسرے شہروں میں جو پُر امن مظاہرے ہوئے تھے ان کے خلاف سپریم کورٹ نے اکتوبر کو یہ فیصلہ سنایا تھا کہ (شاہین باغ کے) یہ مظاہرے پبلک کے آرام میں خلل ڈال رہے تھے۔مظاہرین کو کسی قانون یا سرکاری حکم کے خلاف مظاہروں کا حق ہے لیکن اس کے نتیجے میں عوام کو پریشان نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ عوام کو شہر میں نقل و حمل کا حق حاصل ہے اور شاہین باغ کے مظاہرے عوام کی پریشانی اور تکلیف کا باعث بن گئے تھے۔ کورٹ کے مطابق وہ تو اچھا ہوا کہ کورونا وائرس کا لاک ڈاؤن ایک خدائی ہاتھ (ہینڈ آف گاڈ) کے طور پر سامنے آیا اور پولیس نے (۲۴؍مارچ کو ) مظاہرین کو ہٹا دیا….عدالت نے یہ فیصلہ دلی پولیس کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر سنایا تھا۔ اس کے بعد ہوا یہ کہ پولیس کی زیادتیاں مزید بڑھ گئیں، طلباء اور نوجوانوں کے علاوہ ان افراد کو بھی گرفتار کیا جانے لگا جن پر مظاہرے میں شامل ہونے کا شبہ تھا۔ پولیس دوسرے طریقوں سے بھی من مانی کرنے لگی۔مرکزی حکومت کے بعض وزرا کے غیر ذمہ دارانہ بیانات آنے لگے۔ جب کہ کورٹ نے جس بات کو بنیاد بنا کر فیصلہ سنایا تھا اس کی کوئی حقیقت نہیں تھی۔ فیصلے میں شاہین باغ کو خاص طور سے پیش نظر رکھا گیا ہے جب کہ شاہین باغ میں جس جگہ مظاہرین جمع ہوئے تھے وہاں نہ کہیں ٹریفک رکتی تھی نہ جانے آنے والوں کو تکلیف ہوتی تھی۔مظاہرے سے متصل دوکانداروں نے اپنی دوکانیں رضاکارانہ بند کر رکھی تھیں۔
فیصلے سے پیدا شدہ صورتحال
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال بہت سے لوگوں کے لیے خاص طور سے متاثرین کے لیے پریشان کن بن گئی تھی لہذا ان میں سے بارہ افراد نے کورٹ میں درخواست دی ہے کہ اکتوبر کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ اِن بارہ افراد میں مشہور سوشل ورکر قاضی فاطمہ بھی ہیں۔ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے اپنی درخواست میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے مظاہرین کی بات سنی ہی نہیں۔ اگر عدالت عظمیٰ پولیس کے ساتھ مظاہرین کی بات بھی سنتی تو اس کے سامنے حقائق آجاتے اور مزید زیادتیوں کے لیے پولیس کی حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ بعض مبصرین اور دانشوروں نے بھی ریویو پٹیشن کی حمایت کی ہے۔ نئے شہری قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے دلی کے شاہین باغ ہی سے شروع ہوئے تھے اور ملک بھر میں پھیلتے جا رہے تھے۔ ان میں بہت بڑی تعداد میں غیر مسلم شہری، دانشور، صحافی اور خواتین شامل ہو رہی تھیں۔سکھ برادری اور اس کی لیڈرشپ نے اس احتجاج کی سرگرم تائید کی تھی۔ مرکزی حکومت بد حواس ہوگئی تھی اس لیے دلی پولیس نے یہ طریقہ اختیار کیا کہ فروری میں ہوئے شمال مشرقی دلی کے فسادات میں ماخوذ اور غیر ماخوذ مسلم نوجوانوں کو پکڑ نا شروع کر دیا۔جامعہ ملیہ کے کئی طلبہ پکڑے گئے۔ عمر خالد کو پولیس ابھی تک پریشان کر رہی ہے حالانکہ خالد کی گرفتاری کو بڑی بڑی شخصیات اور مبصرین نے کمزور اور بے بنیاد بتایا ہے۔ِ
ِحکومت کے پٹارے میں
دلی میں نارتھ ایسٹ فسادات کے سلسلے میں ہونے والی گرفتاریاں دراصل شہری قانون کے خلاف ہونے والے احتجاج ہی سے تعلق رکھتی ہیں۔ سی اے اے علامیہ مسلم شہریوں کے خلاف ہے۔حکومت نے غیر ملکی پناہ گزیں اقلیتوں کی جو فہرست جاری کی ہے اس سے مسلمانوں کو الگ کر کے صاف ظاہر کر دیا ہے کہ حکومت کا اصل ہدف کیا ہے۔ حال ہی میں مرکزی وزیر قانون نے اعلان کیا ہے کہ سی اے اے اور دفعہ ۳۷۰؍ منسوخی کے خلاف احتجاج ملک دشمن عمل ہے۔ ملک کو متعدد سنگین مسائل درپیش ہیں، سی اے اے پر احتجاج نے بہت سے مسائل سے عوام کی توجہ ہٹادی ہے اور حکومت کی یہ بڑی کامیابی ہے۔ ریویو پٹیشن والے ۱۲؍ افراد کو اسے وسیع تر تناظر میں دیکھنا ہوگا اور کیا کیا نئے شوشے چھوڑے جاتے ہیں، اس کے امکان پر بھی نظر رکھنا ہوگا۔ اکتوبر کے فیصلے میں جج صاحبان کا یہ کہنا کہ شاہین باغ کے مظاہرین کو تتر بتر کرنے میں ’’ہینڈ آف گاڈ‘‘ نے مدد کی ہے، بہت معنی خیز جملہ ہے۔ اس حکومت کے علاوہ کسی اور حکومت میں شاید یہ بات نہیں کہی جاتی۔ ہندوتوا والے بھی خوش ہیں کہ مخالفوں کو کچلنے میں بھگوان بھی ان کی مدد کر رہا ہے۔ ابھی حکومت کے پاس بہت کچھ ہے لو جہاد کی رٹ پھر لگائی جا رہی ہے۔ پانچ ریاستوں میں اس کے خلاف قانون بنانے کی بات کہی جا رہی ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020