جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے امیتابھ ٹھاکر:سنجیو بھٹ کے بعدبھگوادہشت گردی کا نیا شکار

اقتدار کو آئینہ دکھانے والے افسروں کو لگام دینے کی ایک اور کوشش

ڈاکٹر سلیم خان،ممبئی

سیاسی نظام کے تین ستون مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ ہیں ۔ اس عمارت کو مستحکم کرنے کی خاطر ذرائع ابلاغ کا چوتھا ستون لگا یا گیا۔ یہ چوتھا ستون چونکہ سرکاری نہیں بلکہ عوام کی آواز ہونے کے سبب زیادہ قابل اعتماد تھا لیکن یہ اگلے وقتوں کی بات ہے۔ فی الحال جانب دار میڈیا کا معاملہ چائے سے گرم کیتلی کا ہوگیا ہے اور زیادہ سے زیادہ اشتہار کی خاطر سرکاری ذرائع ابلاغ سے زیادہ حکومت کا وفادار اور چاپلوس بن چکا ہے۔ خیر سیاسی نظام کی بہتر کارکردگی کے لیے ان سارے ستونوں کا ایک دوسرے کے اثر سے یعنی مقننہ جس کے پاس حکومت کی طاقت ہوتی ہے، اس کے تسلط سے انتظامیہ اور عدلیہ کا آزاد ہونا ضروری ہے۔ عدلیہ کی آزادی کا حال یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں تقرر کے لیے جسٹس عقیل قریشی کا نام بظاہر اس لیے حذف کیا گیا کیونکہ انہوں نے ۲۰۱۰ ء میں وزیر داخلہ امیت شاہ کو پولس کی تحویل میں دینے کا فیصلہ سنایا تھا حالانکہ سینیارٹی میں وہ دوسرے نمبر پر ہیں۔ ان کو الگ کرکے ۸ جونیر ججوں کا نام تجویز کردیا گیا ہے۔ جسٹس آر ایف نریمن کا اصرار تھا اس لیے ان کی سبکدوشی کے بعد یہ ناانصافی کی گئی۔ اپنے ججوں کے تقرر میں اس قدر مجبور سپریم کورٹ پر سرکاری دباو کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔
اس حقیقت سے قطع نظر پچھلے ہفتے 26 ؍اگست (2021) کو عدالت عظمیٰ نے ایک معطل آئی پی ایس افسر کو گرفتاری سے تحفظ فراہم کرنے کا ایک اہم فیصلہ سنایا ۔ چھتیس گڑھ حکومت نے سینئر آئی پی ایس افسر گرجندر پال کو ملک سے غداری اور آمدنی کے معلوم ذرائع سے زیادہ ملکیت جمع کرنے کے مجرمانہ معاملات میں معطل کررکھا ہے۔اس پر چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ نے ریاستی پولیس کو انہیں گرفتار نہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بدلنے پر کسی افسر کے خلاف ملک سے غداری کے معاملے دائر کردینا ایک ’پریشان کن رَوِش‘ ہے۔ بنچ کے مطابق پولیس محکمہ بھی اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس معاملے کو سیاست سے جوڑتے ہوئے کہا گیا کہ جب کوئی سیاسی پارٹی اقتدار میں ہوتی ہے تو پولیس افسر اس (برسراقتدار) پارٹی کا ساتھ دیتے ہیں۔ پھر جب کوئی دوسری نئی پارٹی اقتدار میں آتی ہے تو حکومت پولیس افسروں کے خلاف کارروائی کرتی ہے۔ اس سنگین صورتحال کا دوٹوک انداز میں اعتراف کرنے کے بعد عدالتِ عظمیٰ نے اسے روکنے پر زور دیا۔
کانگریس کی قیادت والی چھتیس گڑھ حکومت کے خلاف جس دن یہ فیصلہ آیا اس کے اگلے ہی دن اترپردیش کی یوگی سرکار نے سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر کو لکھنو میں گرفتار کرلیا اور ان پر عصمت دری کا شکار لڑکی کو خودکشی پرمنصوبہ بند طریقہ سے اکسا نے کا الزام لگا دیا گیا۔ اس طرح سپریم کورٹ کے اس ریمارک کی تصدیق ہوگئی جس میں مذکورہ صورتحال کے لیے خود پولیس محکمہ کو ذمہ دار ٹھیرایا گیا کیونکہ یہ مقدمہ ایس ایس آئی دیاشنکر دویدی کی شکایت پر درج کیا گیا ہے۔ امیتابھ ٹھاکر کی گرفتاری دراصل ایک طویل تنازع کی اگلی کڑی ہے۔ پانچ ماہ قبل 23؍مارچ ( 2021) کو انہیں جبراً سبکدوش کردیا گیا تھا ۔ امیتابھ ٹھاکر کو ان کی عدم کارکردگی کی بنا پر نہیں بلکہ اس بنا پر کہ وہ اکثر مفاد عامہ کےمسائل اٹھاتے رہے ہیں اور ان کی زوجہ ایڈوکیٹ نوتن ٹھاکر بھی کئی معاملوں میں اپنی مداخلت کے سبب سرخیوں میں رہتی ہیں، ہٹایا گیا ہے۔ ان کے علاوہ آئی پی ایس راجیش شنکر اور راجیش کرشن کو بھی تین مہینے کی پیشگی تنخواہ دے کر ریٹائر کردیا گیا ۔
ایک آئی جی رینک کے افسر امیتابھ ٹھاکر کے ساتھ یہ زیادتی قابلِ تشویش ہے ۔یہ دیگر باضمیر افسروں کے لیےزباں بندی کی ڈھکی چھپی دھمکی ہے۔ جہاں تک ڈی آئی جی (اسٹیبشلمنٹ) کا معاملہ ہےان پر بدنام زمانہ دیوریا شیلٹر ہوم میں مشتبہ کردار ادا کرنے کا الزام ہے اس لیے ان کو ہٹائے جانے پر لوگوں کو خوشی ہوئی ہوگی بلکہ انہیں تو سزا بھی ہونی چاہیے۔ اسی طرح راجیش کرشن پر اعظم گڑھ میں ہونے والی پولیس تقرری میں دھاندلی کا الزام ہے اس لیے ان سے بھی کسی کو ہمدردی نہیں ہےلیکن امیتابھ ٹھاکر پر ایسا کوئی سنگین الزام نہیں تھا بلکہ اتر پردیش حکومت کے چیف سکریٹری برائے داخلہ اونیش اوستھی نے لکھا تھا کہ وزارت داخلہ کے ذریعہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ لوگ مفاد عامہ میں سروس کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ تینوں ہی افسر سروس کے لیے نااہل تھے۔ ایماندار شبیہ کے حامل امیتابھ ٹھاکر کو حکومت کے خلاف کھل کر بولنے کے سبب معتوب کیا گیا ۔
اس کی ایک مثال پچھلے سال کانپور کے بیکرو گاوں میں 8 پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے والے مفرور مجرم وکاس دوبے کی گرفتار ی کے بعد امیتابھ ٹھاکر کا بلا خوف و خطر تبصرہ تھا۔ ۹؍ جولائی 2020 کو اپنے ایک ٹویٹ میں انہوں نے لکھا تھا ’’وکاس دوبے نے ہتھیار ڈال دیے۔ ہوسکتا ہے کہ کل وہ یوپی پولیس کی حراست سے بھاگنے کی کوشش کرے اور مارا جائے۔ اس طرح وکاس دوبے کا باب بند ہو جائے گا۔ لیکن میری نظر میں اصل ضرورت اس اسکینڈل سے سامنے آنے والی یو پی پولیس کی گندگی پر منصفانہ / سخت کارروائی کرنےکی ہے‘‘۔ ٹھاکر کی پیشنگوئی صد فیصد درست نکلی۔ اگلی صبح ضلع ہیڈکوارٹر سے 17 کلومیٹر دور وکاس دوبے کو لانے والی ایس ٹی ایف کی گاڑی پلٹ گئی ۔ دوبے نے پولیس اہلکار کا پستول چھین کر فرار ہونے کی کوشش کی۔ وکاس دوبے نے پولیس پر فائرنگ کی اور جوابی کارروائی میں اس کو بھون دیا گیا۔ اس کے بعد ٹھاکر نے پھر لکھاتھا ’’اتنی کیا ہڑبڑی تھی؟ کسے بچایا جا رہا ہے؟‘‘۔ خیر جسے بچانا تھا بچا لیا گیا اور آگے چل کر خود امیتابھ ٹھاکر کو پھنسا دیا گیا ۔ اسی خرابی کی جانب پہلے ٹویٹ میں اشارہ کیا گیا تھا۔
امیتابھ ٹھاکر سے بی جے پی کی کوئی نظریاتی دشمنی نہیں تھی ۔ وہ بلا تفریق پارٹی سابقہ حکومتوں کے خلاف بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں ۔ انہوں نے2015 میں اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کے خلاف فون پر دھمکی دینے کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ جولائی 2015ء میں امیتابھ ٹھاکر کو سماجوادی پارٹی کی ریاستی حکومت نے نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزام میں معطل کر دیا تھا۔ اس کے بعد اگست میں یوپی کے لوک آیوکت جسٹس (ریٹائرڈ) این کے مہروترا نے وزیر اعلیٰ کو ٹھاکر کے خلاف ای ڈی، ویجلنس محکمہ اور سی بی آئی کے اینٹی کرپشن ونگ سے جانچ کرانے کا حکم دیا ۔ 13؍ اکتوبر کو ان کے گومتی نگر میں واقع گھر پر آمدنی سے زیادہ اثاثے کے معاملے میں ویجلنس ٹیم نے چھاپہ مارا ۔ اس دوران ان کوبیوی سمیت گھر سے نکلنے کو کہا گیا تھا ۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ یہ بے شرمی کی انتہا ہےاور ایسا وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو کے اشارے پر کیا گیا ہے۔
سماجوادی پارٹی کی اس حرکت کا پہلا اثر تو یہ ہوا کہ ایک ماہ بعد امیتابھ ٹھاکر کی بیوی نوتن ٹھاکر نے بی جے پی میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا ۔ سماجی کارکن نوتن ٹھاکر نے سیاست میں آنے کے فیصلے کی بنیادی وجہ یہ بتائی تھی کہ سماج کی خدمت کرنے اور اپنی بات کو مؤثر طریقے پیش کرنے کے لیے ایک سیاسی پارٹی کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ بی جے پی میں شامل ہونے کا سبب اس میں نسل پرستی کا نہ ہونا نیز اس کے اندر داخلی جمہوریت کا ہونا اور مختلف طبقوں میں امتیاز نہ برتنا بتایا گیا تھا ۔ اس وقت بی جے پی نے مرکز میں تو اقتدار سنبھال لیا تھا مگروہ سب کا ساتھ سب کا وکاس کی بات کرتی تھی اس لیے غالباً نوتن ٹھاکر جھانسے میں آگئیں ۔ 2017میں اترپردیش میں بی جے پی کو اقتدار مل گیا اور 2019 میں مرکز میں دوبارہ حکومت بن گئی۔ اس کے بعد اس کے طور طریقوں میں جو زبردست تبدیلی آئی ہے اس کے بعد نوتن کا دماغ ٹھکانے آگیا ہوگا۔
بی جے پی نے نوتن ٹھاکر کو سماجی خدمت کا کتنا موقع دیا یہ تو وہی بتا سکتی ہیں لیکن جہاں تک نسل پرستی کا سوال ہے دلتوں پر ایسا ظلم پہلے کبھی نہیں ہوا۔ امتیاز و تفریق کی بابت مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک کو مثال کے طور پر پیش کیا جاسکتا ہے۔ داخلی آزادی کا حال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ کسی اور کی تو دور اپنے نائب وزرائے اعلیٰ کی بھی نہیں سنتے ۔ مجبوراً ارکان سمبلی کو ایوان میں احتجاج کرنا پڑتا ہے لیکن اس کو بھی نظر انداز کردیا جاتا ہے۔یوگی سرکار کے ہاتھوں امیتابھ ٹھاکر کے ساتھ ہونے والی حالیہ بدسلوکی کے بعد امید ہے نوتن ٹھاکر کو آٹے دال کا بھاو معلوم ہو گیا ہوگا۔ پہلے تو انہیں جبراً ریٹائر کیا گیا اس کے بعد گھر پر نظر بند کیا گیا ۔ آگے چل کر جب پولیس گرفتار کرنے کے لیے آئی تو اس کے پاس کوئی کاغذ نہیں تھا۔ ان کو زبردستی ایک مجرم کی مانند کھینچ کر پولیس کی گاڑی میں ٹھونس کر لے جایا گیا اور گرفتاری کے کاغذات تک نہیں دیے گئے جس سے عدالتی کارروائی کی جاسکے۔ یہ ہے تفریق و امتیاز سے بے نیاز داخلی آزادی کا ایک نمونہ۔ ایسی بڑی بڑی باتیں کرنے سے قبل نوتن ٹھاکر کو سنجیو بھٹ کا انجام دیکھ لینا چاہیے تھا۔
امیتابھ ٹھاکر نے اس وقت اپنی بیگم سے دو قدم آگے بڑھ کر آر ایس ایس میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا تھا ۔ امیتابھ ٹھاکر نے اپنے اس اقدام کے بارے میں بتایا تھا کہ یہ فیصلہ ایس ایم مشرف کے آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی وجہ سے کیا گیا تھا۔ مشرف کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ میں جتنا بھی آر ایس ایس کو جانتا ہوں اس کے مطابق یہ قومی سوچ اور ثقافتی خیالات پر مبنی ایک سماجی تنظیم ہےجو مختلف علاقوں میں کام کررہی ہے۔ ایک سماجی تنظیم کودہشت گرد تنظیم بتانا قابل مذمت ہے اور دہشت گردی کے حقیقی خطرات سے بھٹکانے کی براہ راست کوشش ہے۔ یہ ہمارے ملک اور معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔ ایک سابق اعلیٰ افسر کے رد عمل میں انہوں نے علی الاعلان آر ایس ایس کے ساتھ منسلک ہونے کا فیصلہ کرکے ریاستی حکومت کو اس بابت مطلع کر نے کی بات بھی کہی تھی ۔ حیرت کی بات یہ ہے فی الحال امیتابھ ٹھاکر آر ایس ایس کے بغل بچہ بی جے پی کے عتاب کا شکار ہوگئے ہیں اور سنگھ پریوار میں کوئی ان کی حمایت میں آگے آنے کی جرأت نہیں کر رہا ہے۔
اکھلیش کے ذریعہ اپنی معطلی کے خلاف امیتابھ ٹھاکر نے عدلیہ سے رجوع کیا اور لکھنو بنچ کے سنٹرل ایڈمنسٹریٹیو ٹریبونل نے اپریل 2016 میں معطلی کو رد کرکے اکتوبر 2015 سے تنخواہ سمیت ملازمت پر بحال کر دیا ۔ اس کے بعد ان کے خوابوں کی سرکار نے جب انہیں معطل نہیں بلکہ جبراً سبکدوش ہی کردیا تو امیتابھ ٹھاکر کا دماغ چکرا گیا اور انہوں نے کہا کہ ’’یہ حیرت انگیز ہے۔ مجھے آج دوپہر ہی میں پتہ چلا ہےکہ حکومت کو اب میری ضرورت نہیں ہے۔ میں اب یہ سوچ رہا ہوں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے۔‘‘ اس بار انہوں نے2028 تک چلنے والی ملازمت کو عدالت سے رجوع کرکے بحال کرانے کے بجائےنئی حکمت عملی بنائی ۔ 14؍ اگست کے دن جبکہ وزیر اعظم ملک کی تقسیم کا دن منارہے تھے نوتن ٹھاکر نے بتایا کہ امیتابھ آئندہ سال اسمبلی انتخابات میں چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ کے خلاف الیکشن لڑیں گے۔ انہوں نے اس مقابلہ آرائی کو اصولوں کی لڑائی قرار دیا۔ کاش کہ وہ بتاتیں کہ چھ سال قبل ان دونوں نے آر ایس ایس اور بی جے پی کی تعریف میں جو زمین وآسمان کے قلابے ملا دیے تھے اس کی حقیقت کیا تھی؟
نوتن ٹھاکر نےماضی کے اپنے موقف سے رجوع کرتے ہوئے یہ الزام لگایا تھا کہ ” شری ادتیہ ناتھ نے اپنے دور حکومت میں غیرجمہوری‘ نامناسب‘ جارحانہ اورامتیازی اقدامات اٹھائے ہیں، لہٰذا جہاں سے شری ادتیہ ناتھ مقابلہ کریں گے وہیں سے امیتابھ بھی الیکشن لڑیں گے“۔ یوگی ادتیہ ناتھ چونکہ گورکھپور سے رکن پارلیمنٹ رہے ہیں اس لیے قوی امکان یہی ہے کہ وہ وہیں سے اسمبلی کا انتخاب لڑیں گے ۔ چنانچہ جب 22؍ اگست کو امیتابھ ٹھاکر نے اپنے متوقع حلقہ انتخاب میں جانے کا ارادہ کیا تو وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ ڈر گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گورکھپور روانگی سے قبل گومتی نگر کے سرکل افیسر سمیت پولیس کی بھاری جمعیت نے ان کو وہاں جانے سے روک دیا ۔ اس کی وجوہات دریافت کرنے پر بتایا گیا کہ وہاں ان کی جان کو خطرہ ہے۔ ایک مخصوص سماج (مسلمانوں) کے غیض وغضب کا انہیں سامنا ہے ۔ ٹھاکر کے پاس اس کا جواب یہ تھاکہ ”ایسی بات ہے تو یوگی ادتیہ ناتھ کوبھی کہیں نہیں جانا چاہیے کیونکہ ان کی زندگی کو آئی ایس آئی اور دیگر کئی لوگوں سے خطرہ ہے۔ مگر وہ سکیورٹی انتظامات کے ساتھ جاتے ہیں۔ اس لیے انہیں بھی خطرے کے نام پر روکنے کے بجائے سکیورٹی دینا چاہیے ‘‘۔
یوگی سرکار کی دلیل نہایت بچکانہ تھی کیونکہ امیتابھ ٹھاکر نے یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف الیکشن لڑنے کااعلان کیا تو اپوزیشن نے اس کا خیر مقدم کیا ۔ سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی (ایس بی ایس پی) اور ڈاکٹر محمد ایوب کی پیس پارٹی نے غیر مشروط حمایت کا باضابطہ اعلان کیا ۔ اروند راج بھر نے لکھا کہ ’’اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیہ ناتھ کے خلاف اسمبلی انتخابات لڑنے کا اعلان کرنے والے سابق آئی پی ایس افسر امیتابھ ٹھاکر اور ان کی اہلیہ سماجی کارکن نوتن ٹھاکرسے ان کی رہائش گاہ پر پارٹی کے ترجمان کنوراجے سنگھ نے ملاقات کر کے ایس بی ایس پی کی پالیسی سے آگاہ کرایا اورپارٹی میں شمولیت کی دعوت دی ۔‘‘اس پرجوش حمایت کی وجہ امیتابھ ٹھاکرکا وہ بیان تھا کہ جس میں کہا گیا تھا ’’وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی مدت کار میں تمام غیر جمہوری، شر انگیز، استحصال پر مبنی، مظالم ڈھانے والے اور تقسیم کرنے والے کام کیے ہیں ۔ میں اس کی مخالفت میں وزیر اعلیٰ کے خلاف انتخاب لڑوں گا، چاہے وہ جہاں سے بھی الیکشن لڑیں۔‘‘
حقیقت تو یہ ہے کہ امیتابھ ٹھاکر کو کوئی خطرہ ہے نہ حکومت کو اس کی فکر ہے۔ اصل خطرہ یوگی کی کرسی کو ہے اور اس کے لیے وہ فکرمند ہیں۔ انہوں نے مزید کہاکہ اس سے صاف ظاہر ہے کہ یوگی ادتیہ ناتھ مجھ جیسے ”چھوٹے فرد“ سے پریشان ہیں ۔ ٹھاکر کے مطابق یہ مضحکہ خیز ہے اوردر حقیقت جمہوریت کا قتل ہے“۔ وزیر اعلیٰ یوگی ادیتیہ ناتھ نے اس خطرے کو ٹالنے کی خاطر 27؍ اگست کو حضرت گنج پولیس سے انہیں گرفتار کروادیا ۔ ان کے خلاف درج مقدمہ میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے عصمت دری سے متاثرہ لڑکی کو منصوبہ بند طریقہ پر خودکشی کے لیے اکسایا۔ اپنی گرفتاری کے بارے میں سابق آئی پی ایس امیتابھ ٹھاکر نے خود ٹویٹ کرکے بتایا کہ 21؍ اگست کو جب انہوں نے اعلان کیا کہ گورکھپور اور ایودھیا کا دورہ کرنے والے ہیں تو اس وقت سے ان کونظر بند کردیا گیا تھا ۔
اکھلیش نے تو خیر امیتابھ ٹھاکر کے خلاف ساری کارروائی ضابطے کے مطابق کی تھی اور ان پر ایسے معمولی الزامات لگائے جن سے وہ بہ آسانی بچ نکلے مگر یوگی نے بغیر کوئی کاغذ دکھائے ایسے سنگین معاملات میں پھنسایا ہےکہ اب ان کا بچنا بے حد مشکل ہوگیا ہے۔ امیتابھ ٹھاکر پر عصمت دری کے الزام میں مقید بی ایس پی رکن پارلیمنٹ اتل رائے کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام ہے ۔ اس معاملے میں عصمت دری کا شکار ہونے والی لڑکی اور اس کے دوست ستیم رائے نے 16 اگست کو سپریم کورٹ کے باہر ایک ویڈیو بنانے کے بعد امیتابھ ٹھاکر پر الزام لگا کر خود سوزی کرلی تھی۔ آگے چل کر 21؍ اگست کو گواہ ستیم رائے اور 25 ؍اگست کو زیادتی کا شکار لڑکی اسپتال میں فوت ہو گئی۔ خودکشی کرنے والوں نے رکن پارلیمان اتل رائے کے علاوہ امیتابھ ٹھاکر پر 10نومبر 2020 کو رشوت لے کر عدالت کے لیے جھوٹے شواہد تیار کرنے کا الزام لگایا تھا۔ اس کے ساتھ متوفیہ نے اسے بدنام کرنے کی سازش اور ذہنی اور جسمانی اذیت دے کر خودکشی پر مجبور کرنے کا الزام لگایا۔ ان سارے الزامات کے باوجود گجرات میں فساد اور انکاونٹر میں ملوث افسروں کی طرح انہیں بچایا جاسکتا تھا لیکن یوگی خوفزدہ ہیں کہ کہیں امیتابھ ٹھاکر انہیں الیکشن میں ہراکرامیت شاہ کی من کی مراد پوری نہ کردیں اسی لیے ان کو سنجیو بھٹ کی مانند پریشان کیا جارہا ہے۔ سنگھ پریوار کے پرانے گرویدہ امیتابھ ٹھاکر پر فی الحال ثاقب لکھنوی کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
باغباں نے آگ دی جب آشیانے کو مرے
جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے
***

 

***

 امیتابھ ٹھاکر سے بی جے پی کی کوئی نظریاتی دشمنی نہیں تھی ۔ وہ بلا تفریق پارٹی سابقہ حکومتوں کے خلاف بھی آواز اٹھاتے رہے ہیں ۔ انہوں نے2015 میں اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو کے خلاف فون پر دھمکی دینے کی ایف آئی آر درج کروائی تھی۔ جولائی 2015 میں امیتابھ ٹھاکر کو سماجوادی پارٹی کی ریاستی حکومت نے نظم وضبط کی خلاف ورزی کے الزام میں معطل کر دیا تھا۔ اس کے بعد اگست میں یوپی کے لوک آیوکت جسٹس (ریٹائرڈ) این کے مہروترا نے وزیر اعلیٰ کو ٹھاکر کے خلاف ای ڈی، ویجلنس محکمہ اور سی بی آئی کے اینٹی کرپشن ونگ سے جانچ کرانے کا حکم دیا تھا۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ 5 ستمبر تا 11 ستمبر 2021