بداعمالیاں قدرتی آفتوں کا بڑا سبب

انسانوں کو اپنے پروردگار کی طرف متوجہ کرنے اور خود احتسابی کی ضرورت کورونا وائرس کی عالمی وبا کے تناظر میں امیر جماعت اسلامی ہندکی اپیل

دعوت نیوز نیٹ ورک

امیر جماعت اسلامی ہند انجینئر سعادت اللہ حسینی نے کہا کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا پوری دنیا کی انسانی آبادی کے لیے ایک چیلنج اور امتحان ہے۔ ہمارے ملک میں بھی متاثرین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی تعداد اور مستقبل میں وبا کے پھیلاو سے متعلق اندیشے نہایت تشویشناک ہیں۔ ان حالات میں ملک کے تمام شہریوں کو چوکس رہنے کی ضرورت ہے اور حکومت اور اس کے متعلقہ محکموں اور ماہرین طب کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ضروری ہے۔
وبا کے پھیلاو کا سب سے بڑا ذریعہ انسانوں کا جمع ہونا ہے۔ اس لیے بڑے اجتماعات، مجالس اور تقریبات کے انعقاد سے موجودہ حالات میں گریز کیا جائے۔ اگر چھوٹی مجالس کا انعقاد ناگزیر ہو تو ان میں ضرروی احتیاطی تدابیر لازماً اختیار کی جائیں۔ اس دوران سفر سے بچنے کی حتی الامکان کوشش کی جائے اور لوگ اپنی اپنی جگہوں پر رہیں۔ ایسے وبائی حالات میں یہی رسول اللہ ﷺ کی ہدایت ہے۔ جمعہ کی نماز اور خطبہ مختصر ہو۔ اور نماز کے فوری بعد لوگ مننشر ہوجائیں۔ سنتیں گھروں پر ادا کریں۔ پنجگانہ نمازیں بھی مختصر ہوں اور مسجد میں صرف فرض نمازیں ادا کی جائیں۔ وضو گھر سے کرکے آٗئیں۔ مسجدوں میں صفائی کا خصوصی خیال رکھا جائے اور ممکن ہو تو سینیٹائزر کا بھی نظم کیا جائے۔ جولوگ زکام، بخار، کھانسی، چھینک وغیرہ سے دوچار ہوں وہ مسجد نہ جائیں۔ عمر دراز بزرگ، بیمار لوگ اور بچوں کو بھی گھروں میں نماز ادا کرنے کا مشورہ دیا جائے۔ سی اے اے اور این پی آر پر جو احتجاجی مہم چل رہی ہے وہ جاری رہنی چاہیے لیکن مقامی حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اسے اس طرح منظم کرنا چاہیے کہ لوگوں کی صحت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو اور محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہدایات کی خلاف ورزی نہ ہو۔ وائرس انسانوں سے انسانوں کو منتقل ہوتا ہے۔ صحت مند لوگ وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود صحت مند رہ سکتے ہیں اور دیگر کمزور انسانوں کو بیمار کرکے ان کی ہلاکت کا سبب بن سکتے ہیں۔ اپنے آپ کو نقصان میں ڈالنا یا کسی دوسرے کے لیے نقصان کا سبب بننا دونوں کی اسلام میں ممانعت ہے (لا ضرر و لا ضرار)۔ اس لیے ہر ایک کی یہ کوشش ہوکہ وہ بیماری پھیلانے کا سبب نہ بنے اور اس کے لیے ہر ممکن احتیاطی تدبیر اختیار کرے۔ دین میں جن باتوں کی حیثیت محض مباح یا مستحب کی ہے، جہاں احتیاط کا تقاضا ہو ان پر اصرار نہ کیا جائے۔ جماعت کی تمام مقامی شاخیں اور کارکنان اس معاملہ میں حکومت اور صحت سے متعلق شعبہ جات کا بھر پور تعاون کریں۔ اور عوام میں بیداری لانے کی مسلسل کوشش کریں۔ یہ سب حالات خالق کائنات کی بے پناہ قوت و قدرت کے مقابلے میں انسان کی بے چارگی وکمزوری کا احساس تازہ کرتے ہیں۔ ان حالات میں اللہ کی طرف رجوع کریں کثرت سے توبہ و استغفار کریں۔ ضرر سے بچانے والی مسنون دعاوں کا اہتمام کریں۔ اپنے خاندان، ملک اور بنی نوع انسان کی سلامتی کے لیے مسلسل دعا کرتے رہیں۔ یہ حالات ہمیں اپنی دعوتی ذمہ داری بھی یاد دلاتے ہیں اور اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم ملک کے عام انسانوں کو اپنے مالک و پروردگار کی طرف متوجہ کریں اور یہ بات یاد دلائیں کہ قدرتی آفتوں کا ایک بڑا سبب انسانوں کی بد اعمالیاں، ظلم وزیادتی اور فتنہ وفساد ہوتے ہیں چنانچہ ان حالات میں ہم سب کو اپنے احتساب کی طرف بھی مائل ہونا چاہیے۔