’’اپنی شرائط پر زندگی گزار سکتے ہیں‘‘: الہ آباد ہائی کورٹ نے بین المذاہب شادی کرنے والے جوڑے کو ساتھ رہنے کی اجازت دی

اترپردیش، دسمبر 28: الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک 21 سالہ ہندو عورت کے معاملے میں، جس نے ایک مسلمان مرد سے شادی کی ہے، مشاہدہ کیا کہ اسے ’’اپنی شرائط پر اپنی زندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے۔‘‘ وہ اب اپنے شوہر کے ساتھ دوبارہ مل گئی ہے۔

18 دسمبر کو منظور کیے گئے ایک حکم میں جسٹس پنکج نقوی اور وویک اگروال کے بنچ نے مشاہدہ کیا کہ چوں کہ مذکورہ خاتون شیکھا بالغ ہوچکی ہے اور اس نے اس مرضی اظہار کیا ہے کہ وہ اپنے شوہر سلمان عرف کرن کے ساتھ رہنا چاہتی ہے، لہذا ’’وہ کسی تیسرے کے ذریعے مداخلت کے بغیر اپنی مرضی کے مطابق عمل کے لیے آزاد ہے۔‘‘

عدالت شیکھا کے ذریعہ دائر کی جانے والی ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی، جسے ایٹا سی جے ایم نے 7 دسمبر کو چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کے حوالے کردیا تھا۔ اس کے بعد کمیٹی نے اگلے ہی دن اسے اس کے والدین کے حوالے کر دیا تھا۔ عدالت کے مطابق یہ کام ’’دماغ استعمال کیے بغیر اور اس کی خواہش کی خلاف‘‘ کیا گیا۔

عدالت نے کہا ’’سی جے ایم، ایٹہ اور سی ڈبلیو سی کا یہ کام قانونی دفعات کی قدر نہ کرنے کی عکاسی کرتا ہے۔‘‘

اس خاتون کے شوہر پر 27 ستمبر کو اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس کے خلاف درج ایف آئی آر بھی منسوخ کردی ہے۔

عدالت نے پولیس کو جوڑے کو رہائش گاہ تک پہنچنے تک سیکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔

عدالت کا یہ حکم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اترپردیش میں نئے تبدیلیِ مذہب قانون کے تحت کئی گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور ماہرین قانون نے اسے آئین مخالف اور ذاتی آزادی کے خلاف قرار دیا ہے۔