آہ! یوسف صالح قراچہ ندوی نہیں رہے

تفہیم القرآن کا ترک زبان میں ترجمہ اہم کارنامہ

مجتبیٰ فاروق

 

مولانا یوسف صالح قراچہ ترکی کے ایک معروف داعی،مصنف اور مترجم تھے۔ انہوں نے اسلامی لٹریچر کو ترکی زبان میں منتقل کرنے کا عظیم کارنامہ انجام دیا ہے۔ ان کی پیدائش ترکی کے قصبہ قیصریہ میں ہوئی۔ یہیں انہوں نے ابتدائی تعلیم بھی حاصل کی۔ انہیں شرعی علوم حاصل کرنے کی بے انتہا تڑپ تھی۔ ترکی میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے مزید تعلیم کے لیے ہندوستان آنے کا فیصلہ کیا ۔ان دنوں ترکی میں دینی تعلیم کے حصول کے لیے مواقع مفقود تھے کیوں کہ وہاں سیکولرازم کی جڑیں مضبوط ہو چکی تھیں اور اسلام کا نام لینا بھی نہایت مشکل تھا۔ اسلام کی تعلیمات پر پابندی تھی، لوگ خوف و ہراس میں زندگی گزارتے تھے۔ ان ہی ایام میں یوسف قراچہ نے دینی تعلیم کے حصول کے لیے ہندوستان کا رخ کیا اور یہاں معروف دینی درسگاہ ندوۃ العلماء لکھنو میں ۱۹۵۹ء میں داخلہ لیا۔ ۱۹۶۲ء ندوہ نے انہیں فضیلت کی سند سے نوازا۔ انہوں نے ان تین سالوں میں رات دن ایک کر علوم اسلامیہ میں مہارت حاصل کی۔ مفاز شریف ندوی صاحب لکھتے ہیں کہ ’’ان تین سالوں میں ان کا ہمیشہ یہ معمول رہا کہ وہ کئی دنوں تک نہیں سوتے تھے۔ فجر کی اذان تک مطالعے میں منہمک رہتے۔ فجر کی نماز کے بعد دو گھنٹے آرام کرتے اور پھر مدرسے کی تعلیم میں مشغول ہوجاتے تھے‘‘ انہوں نے مفکر اسلام مولانا ابو الحسن علی ندویؒ سے براہ راست فیض حاصل کیا وہ ان کے پسندیدہ شاگرد تھے۔ ان کے پاس روز آتے جاتے۔ قراچہ صاحب نے مولانا کی تقریباً بیس کتابوں کا ترکی زبان میں ترجمہ کیا ہے جن میں ان کی ایک نادر کتاب ’انسانی دنیا پر مسلمانوں کے عروج وزال کے اثرات‘ بھی شامل ہے۔ یہ کتاب ترکی میں بہت ہی دلچسپی کے ساتھ پڑھی جاتی ہے۔ مولانا علی میاں خود اس بات کا اظہار کرتے تھے کہ میری کتابیں کسی ملک میں اتنی شوق سے نہیں پڑھی جاتی ہیں جتنا کہ ترکی میں پڑھی جاتی ہیں۔ مولانا یوسف قراچہ کو مولانا علی میاں کے ساتھ گہرا تعلق تھا چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ ’’مولانا میرے والد کے مانند تھے انہوں نے ہمیشہ اپنے بیٹے کی طرح میرا خیال رکھا۔ میں خود کو ان کے بہت قریب پاتا۔ مجھے اردو لکھنے پڑھنے میں دلچسپی اور اسے سیکھنے کا آسان طریقہ علی میاں ہی نے سکھایا تھا اور میں نے بہت جلد سات ماہ میں ہی اردو بولنا سیکھ لیا تھا۔ ایک دن مولانا عبد الماجد دریا آبادیؒ علی میاں سے ملنے آئے مولانا نے ان سے میرا تعارف کرایا تو وہ بہت خوش ہوئے اور پوچھا کہ اتنے کم وقت میں اردو زبان پر یہ قدرت کیسے آئی؟ وہ مجھ سے اردو میں بات کر کے خوش ہوئے ‘‘ندوہ سے بھی انہیں گہرا تعلق تھا۔ اس سلسلے میں مولانا محمد رابع حسنی ندوی لکھتے ہیں کہ ”انہوں نے ندوۃ العلماء سے تعلیم حاصل کی پھر ترکی میں دعوت، تعلیم اور تصنیف کا کام کیا۔ ان کے شاگردوں میں کئی ایسی شخصیات ہیں جو ترکی میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ انہوں نے ترکی میں ندوہ کے منہج اور فکر کو عام کیا اور وہاں کی بعض بڑی اہم دینی و علمی شخصیات کو ندوۃ العلماء سے جوڑنے کا کام کیا ہے۔ وہ یہاں سے فارغ ہو کر ترکی جانے کے بعد بھی اپنی مادر علمی آتے رہے‘‘۔ یوسف قراچہ نے ترکی میں برصغیر کے کئی اہم مفکرین کے افکار کو متعارف کرایا اور ان کے افکار کو ترکی رنگ و آہنگ دینے کا کام بخوبی انجام دیا ہے۔ انہوں نے برصغیر کے مفکرین کی بہت سی کتابیں ترکی زبان میں نہایت آسان ترجمہ کیا ہے جن میں علامہ شبلی نعمانی ؒ، علامہ اقبالؒ ، سید سیلمان ندویؒ ، مولانا مودودیؒ اور مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒقابل ذکر ہیں۔ مولانا قراچہ کو عربی، ترکی، انگریزی اور اردو زبان پر عبورحاصل تھا۔ وہ علامہ شبلی نعمانیؒ کو اپنا روحانی استاد تصور کرتے تھے۔ انہوں نے ان کی کئی کتابوں کو ترکی زبان میں منتقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’علامہ شبلی نعمانیؒ نے اپنے شاگردوں کا ایک قافلہ چھوڑا جس کے سردار سید سلیمان ندویؒ ہیں اور ہندوستان اور پاکستان میں ایسا کوئی ادارہ نہیں ہے جہاں ان شاگردوں نے اپنے اثرات نہ چھوڑے ہوں‘‘۔ انہوں نے علامہ اقبال کی بال جبریل اور ان کی بہت سی نظمیں ترکی زبان میں پھیلائیں۔ یوسف قراچہ کو مولانا مودودی سے بھی بے حد محبت تھی وہ ان کے افکار سے برابر مستفید ہوتے تھے۔ انہوں نے ترکی میں مولانا کے افکار کو متعارف کرایا اور تفہیم القرآن سمیت ان کی کئی اہم کتابوں کو ترکی زبان میں منتقل کیا جن میں رسالہ دینیات اور رسائل و مسائل شامل ہیں۔ مولانا مودودی سے ان کی خط و خطابت بھی تھی۔ مولانا مودودی ان کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں کہ ’’مجھے یہ معلوم کر کے مزید مسرت ہوئی کہ آپ عربی اور اردو سےواقف ہیں، ندوہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے ہیں اور اپنے وطن سے اعلٰی سلامی تعلیم کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ درحقیقت آپ کے ملک میں اس طرح کے صالح نوجوانوں کی شدید ضرورت ہے جو اسلام کی صحیح تعلیمات کو اس کے اصل ماخذ سے حاصل کریں اور پھر اپنے ہم وطنوں میں اسی سرگرمی اور تندہی سے اشاعت کریں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو آپ کی قوم جو صدیوں تک اسلام کا جھنڈا اٹھا کر اعدائے اسلام کے خلاف سینہ سپر رہی ہے اس کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کے بارے میں یہ خطرہ موجود ہے کہ وہ اسلام کے نام تک سے ناآشنا ہو کر رہ جائیں گے‘‘۔ مولانا یوسف قراچہ اس ٹیم کے اہم رکن تھے جس نے ترکی زبان میں مولانا مودودیؒ کی معروف تفسیر تفہیم القرآن کا ترجمہ کیا ہے۔ اس ترجمہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ انتہائی معیاری ترجمہ ہے۔ اس ترجمہ کے سترہ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ تفہیم القرآن کو ترکی میں کتنی مقبولیت حاصل ہے۔ یوسف قراچہ کہتے ہیں کہ:
’’مولانا مودودی نے تفہیم القرآن لکھ کر امت پر بڑا احسان کیا ہے جس میں انہوں نے عام فہم اور دلکش انداز میں عصر حاضر کے مسائل کو مد نظر رکھ کر قرآنی تعلیمات کو واضح کیا ہے۔ تفہیم القرآن بیسویں صدی میں تفسیری لٹریچر میں ایک قیمتی اضافہ ہے جو متنوع خصوصیات و امتیازات کی وجہ سے عوام و خواص میں بے حد مقبول ہے۔ مولانا مودودی نے تفسیر لکھنے کے دوران فلسفہ، تاریخ، سائنس، اجتماعی علوم اور دینی علوم کی بے شمار کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ وہ ہر وقت تحقیق اور حوالوں سے ہی بات کرتے ہیں۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ کسی خاص مقام پر پہنچ کر اگر میں کسی آیت یا قرآن کے کسی بیان کو سمجھ نہیں سکا ہوں تو لکھنے کا سلسلہ روک کر اس وقت تک تحقیق و مطالعہ کرتا رہتا جب تک اطمینان نہیں ہو جاتا کہ میں نے قرآن کا صحیح مدعا سمجھ لیا ہے۔ چنانچہ ان سب چیزوں کا حاصل تفہیم القرآن میں موجود ہے۔ تفہیم القرآن کی ایک خاص بات یہ ہے کہ کتابی صورت میں طبع ہونے سے پہلے یہ ماہنامہ ترجمان القرآن میں شائع ہوتی رہی ہے۔ صاحبِ تفہیم نے اپنے معاصر علما کو اس بات کی بھی دعوت دی تھی کہ ان کو اگر کہیں اس میں کوئی غلطی نظر آئے یا کسی حذف و اضافے کی ضرورت محسوس ہو تو وہ انہیں مطلع فرمائیں۔ تفہیم القرآن قدیم و جدید علوم کا ایک عظیم خزینہ اور انسائیکلو پیڈیا ہے۔ یہ حقیقی معنوں میں ایک شاہکار (Megnum Opus) تفسیر ہے۔ چونکہ اس کا مخاطب عام تعلیم یافتہ طبقہ ہے، اس لیے سید مودودی نے نہایت ہی آسان اور عام فہم زبان استعمال کی ہے اور انداز بیان بہت ہی دلکش اور دل نشین ہے‘‘۔
یوسف قراچہ دور حاضر میں علامہ اقبال، علامہ شبلی نعمانی، مولانا مودودی اور مولانا ابو الحسن علی کے فکری ترجمان تھے۔ موصوف سبھی مفکرین کی فکر کو ایک تصور کرتے تھے اور ان کے افکار کو ایک ساتھ لے کر چلتے تھے۔ انہوں نے ترکی میں جتنا بھی علمی کام کیا وہ مثالی بن گیا اور بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں ترکی میں متذکرہ مفکرین کے افکار کو متارف کرانے میں کلیدی کرادار ادا کیا ہے۔
٢٠٢٠ کو علما کے سانحات کا سال کہا جا سکتا ہے چنانچہ یوسف قراچہ (۸۴برس) کا انتقال بھی اسی سال ٢٣ دسمبر کو ہوا۔
آسماں تیری لحد پہ شبنم افشانی کرے
(مضمون نگار مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی،
حیدرآباد سے پی ایچ ڈی اسکالرہیں)
***

۔ یوسف قراچہ نے ترکی میں برصغیر کے کئی اہم مفکرین کے افکار کو متعارف کرایا اور ان کے افکار کو ترکی رنگ و آہنگ دینے کا کام بخوبی انجام دیا ہے۔ انہوں نے برصغیر کے مفکرین کی بہت سی کتابیں ترکی زبان میں نہایت آسان ترجمہ کیا ہے جن میں علامہ شبلی نعمانی ؒ، علامہ اقبالؒ ، سید سیلمان ندویؒ ، مولانا مودودیؒ اور مولانا ابو الحسن علی ندوی ؒقابل ذکر ہیں۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 3 جنوری تا 9 جنوری 2021