آر سی ای پی تجارتی معاہدہ بین الاقوامی تجارت کا اہم سنگ میل

بھارت کے لیے معاہدے سے باہر رہ کر چینی ترقی کا مقابلہ ممکن نہیں

پروفیسر ظفیر احمد، کولکاتا

 

چند دنوں قبل ہی دنیا کے سب سے بڑے تجارتی معاہدہ Regional Comprehensive Economic Partnership (آر سی ای پی) پر 15ملکوں کے دستخط کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ بہت محتاط ہوگئے ہیں۔ اس میں 10 آسیان ممالک ویتنام، انڈونیشیا، فلپائن، سنگا پور، لاؤس، میانمار، تھائی لینڈ، کمبوڈیا اور برونئی کے علاوہ چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ شامل ہیں۔ یاد رہے کہ اس معاہدے کی تشکیل کے لیے آرسیپ سے متعلق مذاکرات 2012 میں شروع کیے گئے تھے۔ اس تجارتی اتحاد میں دنیا کی تقریباً 47.6 فیصد آبادی رہتی ہے۔ جس کا عالمی جی ڈی پی میں تقریباً 31.6 فیصد اور عالمی تجارت میں 30.8 فیصد کی حصہ داری ہے۔ آرسیپ کے معاہدے پر دستخط کے بعد اس چہار طرفہ تجارتی اتحاد کے میزبان ملک ویتنام کے وزیر اعظم گوئن جوآن فوک نے کہا کہ آٹھ سال کی محنت شاقہ کے بعد ہم 15ممالک کو دستخط تک لے آنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ آرسیپ معاہدے کے بعد اس تجارتی نظم کو حمایت دینے میں آسیان ممالک کی خصوصی اہمیت رہے گی۔ آرسیپ کی وجہ سے ایشیا بحرالکاہل خطے میں ایک ڈھانچہ تیار ہوگا اور صنعت و تجارت میں بہتری آئے گی اور کووڈ-19 سے متاثرہ سپلائی چین کو پھر سے کھڑا کیا جاسکے گا۔ آرسیپ رکن ممالک کے درمیان تجارت مزید نیچے آئے گی۔ اس معاہدے کے تحت ایشیا کے علاوہ دنیا پر بھی اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ وزیر اعظم مودی نے گزشتہ سال نومبر 2019 میں اس اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ وزیر اعظم مودی نے آرسیپ سے علیحدگی کا فیصلہ ٹرمپ کے اشارے پر چین کے ساتھ دشمنی کی بنیاد پر کیا تھا کیونکہ امریکہ چین کے ساتھ تجارتی جنگ زیادہ ہی شدت اختیار کرتی جا رہی تھی۔ نومبر 2020 میں جنوب مشرقی ممالک کی تنظیم آسیان ممالک میں وزیر اعظم مودی نے واضح کر دیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارت اس اتحاد کا رکن بننے کا خواہشمند نہیں ہے کیونکہ اتحاد میں بھارت کی پریشانیوں کا خاطر خواہ حل نہیں نکالا گیا ہے۔ بھارت کا ماننا ہے کہ آرسیپ کا بھارت پر بوجھ بن جانے کا اندیشہ تھا۔ اس میں بھارت سے متعلق کئی مشکلات تھے اور ملک کے حساس طبقہ کے روزگار پر بھی اس کا گہرا اثر پڑنے کا امکان تھا۔ وزارت صنعت وتجارت کے ذرائع کے مطابق آرسیپ میں شمولیت سے بھارت پھر مکمل طور پر موبائل فون کا درآمداتی ملک بن جاتا۔ ابھی حکومت کے مینو فیکچرنگ راحتی پیکیج کے تحت بھارت دوسرا سب سے بڑا موبائل فون تیار کرنے والا ملک بن گیا ہے اور برآمدات میں بھی لگاتار آگے بڑھ رہا ہے ۔ بھارت کی گھبراہٹ تھی کہ بنیادی ڈھانچے میں بہتری نہ ہونے کی وجہ سے چین کا سستا اور ٹکاؤ مال سارے ملک میں پھیل جاتا۔ حال ہی میں حکومت نے ٹی وی اور اے سی جیسے آئیٹمز کو گھریلو مینو فیکچرنگ کی ہمت افزائی کے لیے ان کی درآمدات کو پابندی کے دائرے میں رکھا ہے۔ وزارتی ذرائع کے مطابق آرسیپ میں شمولیت سے ان تمام کوششوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ مگر یہ خوف بے جا ہے کیونکہ گلوبلائزیشن کے بعد بھارت کو اپنے مال کو برآمدات کے ذریعہ عالمی بازار میں لے جانا تو ضروری ہے اس لیے ہم اپنی برآمدات کو سستا اور ٹکاؤ بنا کر ہی مقابلے کی دوڑ میں رہ سکتے ہیں۔ بہت دنوں سے گھریلو صنعت کار اور کسان بھی اس معاہدے کی مخالفت کرتے آرہے تھے کیونکہ انہیں فکر لاحق تھی کہ اس سے چین اور آسیان ممالک کا دبدبہ کافی بڑھ جائے گا۔ عالمی محاذوں پر بھی بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی اور تجارتی حیثیت کو چین کبھی بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور اپنے طور پر وہ ہمیشہ رکاوٹ پیدا کرتا رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے جن ممالک کے ساتھ فری ٹریڈ اگریمنٹ کیا ہے ان کے ساتھ بھی ہماری تجارت خسارے سے دوچار ہے۔ مثلاً جنوبی کوریا اور جاپان کے ساتھ اس طرح کا معاہدہ ہونے کے بعد بھی ہماری معیشت میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ واضح رہے کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی زراعت اور دودھ کی پیداوار کو بھی بھارت کا بڑا بازا مل جاتا جس سے گھریلو زراعت اور دودھ کے بازار کے سامنے مشکلات پیدا ہو جانے کا زیادہ ہی اندیشہ تھا۔ اگرچہ اب آرسیپ معاہدہ متعلقہ ملکوں میں نافذ ہوچکا ہے لیکن ہماری ابھرتی ہوئی معاشی حیثیت اور کھلے بازار کی وجہ سے اس معاہدے میں دوبارہ شمولیت کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اگر اب بھارت اس معاہدے میں شامل ہونا چاہتا ہے تو بھی وہ آسان نہیں ہوگا کیونکہ چین حسب عادت ہمارے سامنے ہر طرح کے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ دوسری طرف امریکہ بھی بھارت کے ساتھ نئے نئے سمجھوتوں اور معاہدوں کے ذریعہ چین سے تجارتی جنگ جاری رکھتے ہوئے اپنے مفاد کی خاطر بھارت کے بڑے بازار پر للچائی ہوئی نظریں رکھتا ہے۔ اس لیے آرسیپ میں بھارت کی شمولیت امریکی مفاد میں نہیں ہے۔ لہٰذا اب بھارت کو برآمدات بڑھانے کے لیے دوسرا اورنیا متبادل تلاش کرنا ہوگا۔ 15 نومبر کو اس معاہدہ سے علیحدگی کے بعد بھارت کو آسیان ملکوں کے ساتھ اس طرح تجارتی معاہدہ کرنا ہوگا کہ وہاں بھارتی برآمدات تشفی بخش مقام پر پہنچ سکے۔
ویسے آرسیپ سے دور ہو جانے کی وجہ سے بھارت امریکہ اور یوروپی یونین سے فری ٹریڈ پر بات چیت کے لیے کافی پر جوش ہے۔ واضح رہے کہ بھارت نے 2012 کے بعد کسی قسم کا ٹریڈ اگریمنٹ نہیں کیا ہے۔ ایسے میں بھارت یوروپی یونین اور امریکہ سے بھی متوقع طور پر فری ٹریڈ ایگریمنٹ (FTA) پر گفت و شنید کرنے کا خواہشمند ہے۔ آرسیپ سے باہر رہنے کے بعد حکومت دیگر معاشی بلاک سے تجارتی معاہدہ کرنے کے لیے بھی سرگرم ہے چونکہ چین کے خلاف پیدا شدہ جتھہ بندی سے بھارت کو فائدہ پہنچنے کی پوری امید ہے۔ ابھی یوروپی یونین بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس کی بھارتی ٹریڈ میں 10.7 فیصد کی شمولیت ہے۔ اس کے بعد امریکہ کا نمبر آتا ہے۔ ان دونوں کی بھارتی ٹریڈ میں 10.7 فیصد کی شرکت ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ای یو اور امریکہ کے سابقہ ایف ٹی اے سے بھارت کو ضرور فائدہ ہوگا۔ بھارت کے آرسیپ سے علیحدگی کے بعد اور بھی ضروری ہو گیا ہے۔ دوسری طرف یوروپی کمیشن کے صدر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کورونا وبا کے بعد یورپین اکانومی کو مضبوط کرنے کے لیے ہر موقع سے فائدہ حاصل کرنا ہوگا۔ فیڈریشن آف انڈین اکسپورٹ آرگنائزیشن کے صدر ایس کے صراف کا کہنا ہے کہ بھارت کو وقت ضائع کیے بغیر کسی اور ملک کی جانب سے اس معاہدہ کو پورا کرنے سے پہلے قدم اٹھانا چاہیے۔ انہوں نے کہا ہے کہ بھارت کو ایف ٹی اے پر بند پڑی گفت و شنید کو پھر سے بحال کرنا چاہیے اور عالمی جغرافیائی تبدیلی کی وجہ سے دیگر تجارتی معاہدے بھی کرنا چاہیے کیونکہ یوروپ اور امریکہ میں چین مخالف احساس پائے جانے کی وجہ سے اس معاہدے میں وہ بھارت کی مدد کر سکتا ہے۔ امریکہ اور یوروپی ملکوں سے ایف ٹی اے کا معاہدہ بھارت کے لیے ہمیشہ فائدہ مند رہے گا کیونکہ یہ ترقی یافتہ ممالک ہیں اور یہاں پر ملکی پیداوار اور خدمات کے میدان میں دیگر ممالک کے ساتھ مقابلہ کرسکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے ساتھ بھارتی برآمدات، درآمدات کے مقابلے کافی زیادہ ہے جبکہ آرسیپ سے منسلک چین کے ساتھ بھارتی برآمدات، درآمدات کے مقابلے کافی کم ہے۔ ہماری معیشت ایک چوتھائی سکڑ چکی ہے۔ تجارتی مقابلے سے فرار کے ذریعے ہم کبھی بھی 5 ٹریلین ڈالر کی معیشت اس دہائی میں نہیں ہوسکیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تجارتی فورم کی کامیابی کا انحصار خطے کے دو بڑے ممالک چین اور بھارت پر ہے۔

بھارت کو برآمدات بڑھانے کے لیے دوسرا اور نیا متبادل تلاش کرنا ہوگا۔ 15 نومبر کو اس معاہدے سے علیحدگی کے بعد بھارت کو آسیان ملکوں کے ساتھ اس طرح تجارتی معاہدہ کرنا ہوگا کہ وہاں بھارتی برآمدات تشفی بخش مقام پر پہنچ سکے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 15 تا 21 نومبر، 2020