اللہ ،اہل ایمان سے دشمنی کی دردناک سزا دیتا ہے

ابو نصر فاروق ، پٹنہ

’’مارے گئے گڑھے والے (اُس گڑھے والے) جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔ جب کہ وہ اُس گڑھے کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے۔ اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کر رہے تھے اُسے دیکھ رہے تھے۔ اور اُن اہلِ ایمان سے اُن کی دشمنی اس کے سوا کسی اور وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس خدا پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے، اور وہ خدا سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ جن لوگوں نے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں پر ظلم و ستم توڑا اور پھر اُس سے تائب نہ ہوئے، یقیناً اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور اُن کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے۔‘‘(سورۂ البروج:۴تا۱۰)
مسلم کی ایک حدیث کے مطابق کسی امت میں ایک بادشاہ تھا وہ بادشاہ ایک جادوگر سے کام لیا کرتا تھا۔ وہ جادوگر جب بوڑھا ہوگیا تو اُس نے بادشاہ سے کہا کہ میرے پاس کوئی لڑکا بھیج دو تاکہ میں اُسے جادو سکھا دوں تاکہ وہ لڑکا میرے بعد تمہارے کام آ سکے۔ جادوگر کے مشورے کے مطابق بادشا نے ایک لڑکے کو جادوگر کے پاس بھیج دیا۔ لڑکا جب جادوگر کے پاس جانے لگا تو راستے میں ایک عیسائی راہب کو دیکھتا جو عیسیٰ علیہ السلام کے اصلی دین کا پیروکار تھا اور عقیدہ توحید کا قائل تھا۔ یہ لڑکا اُس راہب کے پاس بیٹھنے لگا اور اُس کی باتیں سننے لگا۔ راہب کی باتیں اُسے اچھی لگتیں۔ ایک دن وہ جارہا تھا تو راستے میں ایک بڑا جانور نظر آیا جس نے لوگوں کا راستہ روک رکھا تھا۔ بعض روایتوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ وہ جانور شیر تھا اور لوگ اُس سے ڈر رہے تھے۔ لڑکے نے ایک پتھر اٹھایا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا اللہ! اگر راہب کی باتیں تجھے جادوگر کی باتوں سے زیادہ پسند ہیں تو میرے پتھر سے اس جانور کی جان لے لے۔ اس دعا کے بعد اُس لڑکے نے جو پتھر پھینکا تو جانور مر گیا اور لوگوں کا راستہ کھل گیا۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں کو اندازہ ہوا کہ لڑکے کے پاس کوئی خاص علم ہے۔ ایک اندھے آدمی نے اُس لڑکے سے التجا کی کہ میری آنکھیں مجھے واپس دلوا دے۔لڑکے نے کہا کہ شفا دینے والا تو اللہ تعالیٰ ہے، اگر تم وعدہ کرو کہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر ایمان لے آؤ گے تو میں اللہ تعالیٰ سے تمہارے لیے دعا کروں گا۔ نابینا آدمی نے اُس کی شرط مان لی۔ پھر لڑکے نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اُس نابینا کی آنکھوں میں روشنی لوٹا دی۔
ان باتوں کی خبر جب بادشاہ کو ملی تو اُس نے اُس نابینا کو، لڑکے کو اور راہب کو گرفتار کر لیا اور اُن سب کو عقیدۂ توحید سے پلٹ جانے کو کہا۔جب اُنہوں نے اس سے انکار کیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ نابینا اور راہب کو آرے سے چیر دیا جائے اور لڑکے کو اونچے پہاڑ سے نیچے پھینک دیا جائے۔ جب وہ لوگ لڑکے کو لے کر پہاڑ پر گئے تو لڑکے نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی جس سے پہاڑ پر زلزلہ آیا اور لڑکے کے ساتھ جتنے لوگ گئے تھے سب مر گئے، مگر لڑکا زندہ رہا۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اُس لڑکے کو کشتی پر لے جاکر سمندر میں ڈبو دیا جائے۔ لڑکے نے پھر اللہ تعالیٰ سے دعاکی جس کی وجہ سے کشتی الٹ گئی اور کشتی پر سوار سب لوگ ڈوب گئے، مگر لڑکا محفوظ رہا۔ جب بادشاہ اپنی تدبیروں سے عاجز آ گیا تو لڑکے نے بادشاہ سے کہا تم اگر مجھ کو مارنا ہی چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ تم سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جاؤ اور مجھے سولی پر چڑھا دو۔ یہ کہہ کر کہ اُس اللہ کے نام سے جو لڑکے کا پروردگار ہے تیرچلا ؤ۔ بادشاہ نے ایساہی کیا۔ تیر لڑکے کی کنپٹی پر لگا اور وہ شہید ہو گیا۔ مجمع نے جب یہ نظارہ دیکھا تو اُس میں سے بہت سے لوگ اللہ کی توحید پر ایمان لے آئے۔ باد شاہ نے اُن لوگوں کو سزا دینے کے لیے سڑک کے کنارے خندقیں کھدوائیں، اُن میں آگ بھڑکائی گئی۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ جو کوئی اللہ پر ایمان لانے یعنی دین حق سے پلٹنے کو تیار نہ ہو اُس کو ان خندقوں میں ڈال دو۔ اس طرح ایمان والوں کی ایک بڑی تعداد کو آگ میں ڈال دیا گیا۔ سورۂ بروج میں جن گڑھے والوں کا ذکر ہے اس کی صراحت نہیں ملتی ہے کہ اُس سے مراد یہی واقعہ ہے یا کوئی اور۔ تاہم ان آیات سے ثابت ہوتا ہے کہ کوئی بھی قوم یا انسانی گروہ جب اہل ایمان کا دشمن بنتا ہے تو پھر اللہ کی مشیت اُس کو انتہائی درد ناک سزا دیتی ہے اور اُس کا وجود مٹا دیا جاتا ہے۔
یو ایس ایس آر (رشیا) اپنے وقت کا سُپر پاور تھا لیکن جب اُس کی اشتراکی حکومت نے اپنے علاقے کے مسلمانوں کا شریعت پر عمل کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بنا دیا اور بے قصور افغانیوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے تو وہ پوری طرح بکھر گیا اور آج ایک معمولی سلطنت بن کر رہ گیا ہے۔ چین نے بھی ایغور مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے ہیں ۔اللہ تعالیٰ سنبھلنے کے لیے قوموں کو پہلے ہلکے جھٹکے دیتا ہے ،سنبھل جائیں تو ٹھیک ہے ورنہ وہ انہیں دیگر اقوام کے لیے نشان عبرت بنا دیتا ہے۔ مسلمانوں پر عرصئہ حیات تنگ کرنے والا چین آج ایک لا علاج مہلک وائرس کا شکار ہوچکا ہے۔ بیشمار لوگ مر رہے ہیں۔ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ دیگر مذاہب کے ماننے والے مسلمانوں کے ساتھ نماز جمعہ میں شریک ہوگئے۔ یہ ویسا ہی معاملہ ہے کہ جب فرعون پر اللہ کا عذاب آتا تھا تو وہ موسیٰ سے کہتا تھا کہ موسیٰ خدا سے دعا کر کے یہ آفت دور کراؤ، ہم ایمان لے آئیں گے۔ لیکن جب موسی علیہ السلام دعا کرتے اور وہ آفت دور کر دی جاتی تو وہ اپنے وعدے سے مکر جاتا تھا اور پھر دوسری آفت میں مبتلا ہو جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کو پانی میں غرق ہونے کا عذاب دیا اور مرنے کے بعد اُس کی لاش کو دنیا والوں کے لیے نمونہ عبرت بنا دیا۔
لیکن اسی کے ساتھ قرآن یہ بھی کہتا ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہو کر بھی سچے اور پکے اہل ایمان نہیں بننا چاہتے ہیں اور کافر و مشرک قوموں کو اپنا معیار مان کر اُن کے جیسی زندگی گزارنے لگتے ہیں تو اسلام دشمنوں کے ساتھ اُن پر بھی آفت آتی ہے اور اللہ کی زمین پر اُن کا جینا بھی دوبھر کر دیا جاتا ہے۔ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ مذہبی گروہ اور جماعتیں ایک دوسرے کی مددگار اور ہم نوا ہونے کے بجائے فریقِ مخالف بنی ہوئی ہیں اور اپنے ماننے والوں کے اندر دوسرے فرقوں سے نفرت پیدا کر رہی ہیں۔ان کی بد عقلی کو کیا کہا جائے کہ اسلام دشمن اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ملک میں نفرت کا ماحول پیدا کر رہے ہیں تو یہ فریاد و فغاں کر رہے ہیں، لیکن یہی کام جب یہ خود کر رہے ہیں تو اس کی برائی ان کو دکھائی نہیں دیتی ہے۔
قرآن کی مذکورہ آیتیں اس کا بھی درس دیتی ہیں کہ جب اہل ایمان دین کی راہ میں جان دیتے ہیں تو اُن کی قربانی سے دوسرے لوگوں کو ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ آج بھی اگر اہل ایمان دین کی راہ میں اپنی جان اور مال سے جہاد کریں یعنی اللہ کے دین کی دعوت دینے میں جان اور مال کا استعمال کریں تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جادو سیکھنے والے لڑکے کی طرح اُن کے اندر بھی کوئی کمال پیدا کر دے اور اُن کی ذات سے اللہ کے بیشمار گمراہ بندوں کو ہدایت کا راستہ مل جائے۔اور اُن کا شمار اُن صالحین میں ہونے لگے جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بہترین وعدے کیے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی بشارتیں سنائی ہیں۔