’اسی روز و شب میں الجھ کر نہ رہ جا‘

مقصدِ زندگی کا حقیقی تصور اور آج کی نوجوان نسل

مجتبیٰ فاروق ، حیدرآباد

 

ڈاکٹر ناجی ابراہیم نے اپنی کتاب Have you Discovered its Real Beauty میں ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میں نے ناروے کے ایک ہوٹل میں کرس نام کے ایک شخص سے پوچھا کہ آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ اس نے حیران ہو کر جواب دیا کہ مجھے آج تک کسی نے بھی اس طرح کا سوال نہیں کیا۔ اس کے بعد اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ "I think there is no purpose of my life” یعنی میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے اور زندگی کا کوئی مقصد بھی ہوتا ہے کیا؟ عصر جدید میں جب نوجوانوں سے پوچھا جاتا ہے کہ زندگی کا مقصد کیا ہے تو ان کا بھی جواب کرس کی طرح ہی ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک زندگی کا کوئی واضح مقصد نہیں ہوتا بس روٹین کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ مقصد زندگی کے تعلق سے تعلیم یافتہ نوجوانوں میں Drink, Eat andbe Happy اور ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ یعنی خوب عیش کر لے کیونکہ عالم دوبارہ برپا ہونے والا نہیں ہے جیسے فرسودہ اور پر فریب نعروں پر نہ صرف یقین ہے بلکہ وہ ان پر عمل پیرا بھی ہوتے ہیں۔ اچھا کیرئیر، بہترین ملازمت اور پُر تعیش زندگی، مال و جائیداد، سیر وتفریح نوجوانوں کے نزدیک زندگی کا اصل مقصد ہوتا ہے۔ اکبر الہ آبادی نے صحیح کہا تھا کہ
کیا کہیں احباب کیا کار نمایاں کر گئے
بی اے کیا نوکر ہوئے پنشن ملی اور مر گئے
اسلام میں مقصدِ زندگی واضح ہے۔ زندگی کی غرض و غایت کے متعلق قرآن وحدیث میں جگہ جگہ تذکرہ ملتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے:
إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً (البقرہ:۳۰) میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ دوسری جگہ ومَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِیَعْبُدُون (الذاریات:۵۶) میں نے جنوں اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لئے پیدا نہیں کیا کہ وہ میری بندگی کریں۔ کہہ کر اللہ تعالیٰ نے واضح الفاظ میں زندگی کا مقصد بیان کر دیا ہے۔ ایک جگہ حسن عمل کو مقصد زندگی قرار دیا ہے: الَّذِیْ خَلَق الْمَوْتَ وَالْحَیَاۃَ لِیَبْلُوَکُمْ أَیُّکُمْ أَحْسَنُ عَمَلاً (الملک:۲) جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ ایک اور جگہ مقصد اور کامیاب زندگی کو تزکیہ نفس پر موقوف ٹہرایا ہے: قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکَّی (الاعلیٰ:۱۴) فلاح پا گیا وہ جس نے پاکیزگی اختیار کی۔ زندگی کی غرض غایت کے متعلق احادیث سے بھی خوب رہنمائی ملتی ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کا ارشاد ہے: دنیا بہت میٹھی اور سر سبز و شاداب ہے اللہ تعالیٰ نے اس میں تمہیں خلافت کا منصب عطا کیا ہے تاکہ دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔ (مسلم) اللہ کے رسول ﷺ نے یہ بھی فرمایا: عقل مند وہ ہے جس نے اپنے نفس کا محاسبہ کیا اور موت کے بعد والی زندگی کے لئے عمل کیا۔ (ترمذی)
قرآن مجید نے دنیا کی زندگی کو کھیل اور تماشہ اور اخروی زندگی کو دائمی زندگی قرار دیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا ھَذِہِ الْحَیَاۃُ الدُّنْیَا إِلَّا لَھْوٌ وَلَعِبٌ وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَۃَ لَھِیَ الْحَیَوَانُ لَوْ کَانُوا یَعْلَمُون(العنکبوت:۶۴)
اور یہ دنیا کی زندگی تو صرف کھیل اور تماشہ ہے اور ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے کاش یہ لوگ سمجھتے۔
ایک مقام پر اللہ کے رسول ﷺ نے ایسی باتوں سے باخبر کیا ہے جو ہر انسان کے لئے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔ آپ نے سات چیزوں کے آنے سے پہلے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی تاکید کی۔ فرمایا:
کیا تمہیں ایسی تنگدستی کا انتظار ہے جو سب کچھ بلا دے یا ایسی مالداری کا جو سرکش بنا دے یا ایسی بیماری کا جو ناکارہ بنا دے یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل کھو دے یا ایسی موت کا جو اچانک آجائے یا دجال کا جو آنے والی چھپی ہوئی برائیوں میں بد ترین برائی ہے یا پھر قیامت کا جو بڑی سخت اور کڑوی چیز ہے۔ دنیا میں کس طرح سے رہا جائے اور کس طرح سے زندگی کے ایام گزارے جائیں، اس تعلق سے اللہ کے رسول ﷺ صحابہ کرام کو ہر وقت ذہنی طور سے بیدار کرتے تھے ۔حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ایک مرتبہ میرا شانہ پکڑ کر فرمایا: دنیا میں اس طرح رہ جیسے تو مسافر یا راستہ چلنے والا ہو (بخاری) دنیا ایک امتحان گاہ ہے اور یہاں ہر ایک کو امتحان سے گزرنا ہوگا اور اس امتحان کا نتیجہ آخرت میں نکلے گا۔ اس سلسلے میں قرآن کریم نے امتحان اور آزمائش کا تصور بھی پیش کیا ہے اور کہا کہ ہر بندہ کو اس امتحان سے گزرنا ہوگا۔ قرآن مجید نے اس کو ایک مسلمہ اصول کے طور پر پیش کیا ہے کہ پوری جانچ کے بعد ہی انسان کی حقیقی کامیابی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں سورہ عنکبوت کی یہ آیت کافی اہمیت کی حامل ہے کہ ’’کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ہم ایمان لائے اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟ حالانکہ ہم ان سب لوگوں کی آزمائیش کر چکے ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اللہ کو یہ دیکھنا ہے کہ سچے کون ہیں اور جھوٹے کون‘‘۔
امام رازیؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’کیا ان لوگوں کو یہ گمان ہے کہ ان کو صرف زبانی دعویٰ کی بنیاد پر چھوڑ دیا جائے اور ان کو جسمانی اور مالی آزمائش سے نہ آزمایا جائے‘‘
جنت جیسا عظیم اور اعلیٰ مقام محض زبانی دعوے (mere lip profession of faith) سے حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ ہر مدعی کو لازماََ آزمائشوں کی بھٹی سے گزرنا ہوگا تاکہ وہ اپنے دعوے کی حقیقت کا ثبوت دے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو سمجھاتا ہے کہ جنت اتنی سستی نہیں ہے اور نہ دنیا میں ہماری خاص عنایات ایسی ارزاں ہیں کہ تم بس زبان سے ہم پر ایمان لانے کا اعلان کرو اور وہ سب کچھ تمہیں بخش دیں، ان کے لیے تو امتحان شرط ہے۔
سورہ انفطار کی یہ آیات کہ ’’ اے انسان، کس چیز نے تجھے اپنے اُس رب کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا جس نے تجھے پیدا کیا، تجھے نک سک سے درست کیا، تجھے متناسب بنایا اور جس صورت میں چاہا تجھ کو جوڑ کر تیار کیا‘‘ انسان کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جس اللہ نے تجھے پیدا کیا اور تیرے اعضاء کو درست کیا اور جس صورت پر چاہا تجھے بنا دیا۔اتنا ہی نہیں بلکہ تجھے عقل و شعور سے نوازا اور ہر قسم کی سہولیات اور اسباب مہیا کیے، ایسے خالق و مالک کے بارے میں دھو کہ ہرگز بھی مت کھا۔ قرآن کا یہ کتنا دلکش اسلوب ہے اور کس طرح سے انسان کی غفلت کو جھنجھوڑ رہا ہے اور اس کی بے حِس زندگی میں جان ڈال رہا ہے۔ یہ قرآن کا کمال ہے۔ انسان دنیا میں اللہ کی کتنی بھی نافرمانی کرے لیکن اس کو اللہ ہی کی طرف واپسی کرنی ہے۔ مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں کہ ’’انسان کو اللہ نے پیدا کیا اور بہترین شکل و صورت میں پیدا کیا۔ اس کا قوام ایسی ترکیب سے بنایا کہ اگر چاہے تو نیکی اور بھلائی میں ترقی کر کے فرشتوں سے آگے نکل جائے پھر کوئی مخلوق اس کی ہمسری نہ کر سکے۔ لیکن انسان خود اپنی بدتمیزی اور بدعملی سے ذلت و ہلاکت کے گڑھے میں گرتا اور اپنی پیدائشی بزرگی کو گنوا دیتا ہے۔ بعض سلف اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ وہ چاہتا تو تجھے گدھے، کتے، خنزیر کی شکل و صورت میں بنا دیتا۔ باوجود اس قدرت کے محض اپنے فضل سے انسانی صورت میں رکھا۔ حضرت علیؓ نے اسی لئے ارشاد فرمایا ہے : الناس نیام فاذا ماتوا انتبھوا‘‘یعنی لوگ خواب غفلت میں ہیں جب انہیں موت آئے گی تو بیدار ہوں گے ۔‘‘مشہور جرمن مستشرق، ماہر اسلامیات اور اقبالیات ڈاکٹر این میری شمل (Annemarie Schimmel) کی جب وفات ہوئی تو ان کی قبر کے کتبہ پر حضرت علیؓ کا یہی قول لکھا گیا ہے اور کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس بارے میں وصیت کی تھی کہ جب میری موت واقع ہو تب میرے قبر کے کتبے پر یہی قول لکھا جائے تاکہ لوگ بیدار ہونے کے لئے سنجیدگی سے غور کریں۔ ہمارے ساتھ بھی یہی مسئلہ ہے کہ ہم زندگی خواب غفلت میں گزارتے ہیں، ایک ایک لمحہ گزر جاتا ہے اور ہمیں اس کا احساس بھی نہیں ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم تب ہی بیدار ہوں گے جب ہماری روح قبض کی جائے گی۔ ہم اس غفلت کی زندگی میں تب تک پڑے رہتے ہیں جب تک ہم قبر کی زیارت نہ کر لیں یعنی جب تک قبر میں نہ اتارا جائے۔ لیکن اس وقت بیدار ہونا کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ دانائی اور عقلمندی کی بات یہ ہے کہ موت سے قبل ہی یا قبر میں اتارنے سے پہلے ہی ہم بیدار ہو جائیں۔ اس غفلت والی زندگی سے اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں پہلے ہی آگاہ کر دیا ہے۔ فرمایا: حَاسِبْوا انفْسَکْم قبلَ ان تْحَاسَبْوا‘‘۔ (ترمذی)
یعنی تم خود اپنا محاسبہ کرو قبل اس کے کہ تمہارا احتساب کیا جائے۔ انسان کو ہر دن اپنا جائزہ لینا چاہیے کہ آج میں نے اپنی زندگی میں نیا کیا کِیا ہے اور اپنی عملی زندگی میں کتنا اضافہ کِیا ہے۔ اگر کوئی صحیح اضافہ نہیں کیا ہے تو اس پر اپنا زبردست احتساب کرنا چاہیے ورنہ وقت یوں ہی گزرتا رہے گا۔
صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
‏عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے
حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ کا ارشاد ملحوظ نظر رکھنا چاہیے جب انہوں نے فرمایا "میں کسی چیز پر اتنا نادم اور شرمندہ نہیں ہوا جتنا کہ ایسے دن کے گزرنے پر جس کا سورج غروب ہو گیا اور اس میں میرے عمل میں اضافہ نہ ہو سکا” حضرت ابن مسعودؓ کا ارشاد ہمارے آنکھیں کھولنے کے لئے اور ہمیں بیدار کرنے کے لئے کافی ہے۔
انسان کو دنیا میں معذرتیں پیش کرنے کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ وہ قیامت کے دن بھی اللہ کے سامنے معذرتیں پیش کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ لیکن اس وقت کوئی بھی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔ وہاں انسان کو اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے دنیا میں کیا ہو گا۔ غیر ضروری عذر پیش کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ اللہ نے قرآن ہدایت کے لیے بھیجا اور اس کے لئے ایک رہنما یعنی پیغمبر بھی ساتھ میں بھیجا تاکہ لوگ اللہ کے پیغام سے آگاہ ہو جائیں اور کسی بندے کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے۔ انسان کو حتی الامکان عذر پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اگر انسان کو معذرتیں پیش کرنے کی لت لگ جائے تو چھوٹنا بہت مشکل ہے۔ اسی لئے انگریزی میں کہا گیا ہے کہ ize it "If you have an excuse don’t util غرض کہ عذر وکہالت کی زندگی گزار نے سے بچنا چاہیے کہ یہ مقصد زندگی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے۔
(مضمون نگار مولا نا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد سے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی اسکالرہیں)
***

انسان کو دنیا میں معذرتیں پیش کرنے کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ قیامت کے دن بھی اللہ کے سامنے معذرتیں پیش کرنے سے دریغ نہیں کرے گا لیکن اس وقت کوئی بھی معذرت قبول نہیں کی جائے گی۔ وہاں انسان کو اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے دنیا میں کیا ہو گا۔ غیر ضروری عذر پیش کرنا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، خصوصی شمارہ 7 مارچ تا 13 مارچ 2021