کیا یوکرین روس کے لیے دوسرا افغانستان ثابت ہوگا ؟

جنگ خلاف توقع طول پکڑ رہی ہے۔ ماسکو میں خانہ جنگی کے اندیشے

مسعود ابدالی

مزاحمت کو ختم کرنے کے لیے روس بھرپورکارروائی کرسکتاہے۔ یورپ۔ روس کشیدگی کا چینی معیشت پر اثر
روس یوکرین جنگ دوسرے ہفتے میں داخل ہوچکی ہے۔روسی جرنیلوں نے اپنے صدر کو یقین دلایا تھا کہ ساری کارروائی 96 گھنٹے میں مکمل کرلی جائے گی۔ یہ طئے ہوا تھا کہ دارالحکومت کیف پر قبضہ کے بعد ماسکو کی منظورِ نظر حکومت کو اقتدار سونپ کر واپسی کا سفر شروع کردیا جائے گا۔ نصف صدی قبل مستقبل کی صورت گری میں کچھ ایسی ہی غلطی سوویت یونین کے سابق سربراہ لیونڈ بریزنیف سے ہوئی تھی جب 24 دسمبر 1979 کو لاکھوں روسی سپاہی افغانستان روانہ کیے گئے۔ روسی افواج نے تبدیلیِ اقتدار کا ہدف منصوبے کے مطابق صرف تین دن میں حاصل کرلیا اور تختِ کابل پر ببرک کارمل براجمان ہوگئے۔ ابتدائی کامیابی پر کریملن کے ساتھ پاکستان کے کمیونسٹوں اور قوم پرستوں نے خوب جشن منایا لیکن ائے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔۔۔ لاکھوں معصوم افغانوں کے قتل اور سارے ملک کو راکھ کا ڈھیر بنادینے کے بعد 15 فروری 1989کو شکست کا داغ سینے پر سجائے روسی فوجیں اس شان سے واپس ہوئیں کہ وسط ایشیا اور یورپ کا بڑاحصہ آزاد ہوگیااور عظیم الشان سوویت یونین سُکڑ کر صرف روس رہ گیا۔
افغان مجاہدین نے روس کا جغرافیہ تراشنے کے ساتھ کمیونسٹ طرزِ فکر کو بھی دریائے آمو میں بہادیا۔ مشرقی یورپ کی کمیونسٹ ریاستیں اشتراکیت سے توبہ کرکے آزاد تجارت اور کثیرالجماعتی سیاسی نظام کے گن گانے لگیں۔ یادش بخیر ایک زمانے تک Private Property is a theft پولینڈ، رومانیہ، ہنگری اور چیکوسلواکیہ کا قومی نعرہ ہوا کرتا تھا۔ معاملہ صرف یہیں تک نہ رہا بلکہ مشرقی یورپ کی کمیونسٹ ریاستیں نیٹو کی سامراجی چھتری تلے آگئیں۔
جیسے افغان حملے کے آغاز پر جناب بریزنیف نے کہا تھاکہ بیرونی مداخلت کاروں کے قلع قمع کے لیے، افغان حکومت کی ’درخواست‘ پر کچھ ’فوجی مشیر‘ کابل بھیجے گئے ہیں۔ بالکل اسی انداز میں صدر پیوٹن نے فرمایا کہ نازی خیالات کی حامل وفاقی حکومت مشرقی یوکرین کے علاقے دنباس (Donbas) میں مقامی لوگوں کی نسل کشی کررہی ہے اس لیے یوکرینی بھائیوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے روسی فوج کو ’محدود کارروائی‘ کا حکم دیا گیا ہے۔ انہوںنے بہت صراحت سے کہا کہ روس کسی قسم کے جارحانہ عزائم نہیں رکھتا اور ہم یوکرین کی سلامتی و خودمختاری کا احترام کرتے ہیں۔
لیکن دوسرے ہی دن یوکرین کے طول و عرض میں شدید بمباری کے ساتھ ہر جانب سے پیش قدمی کا آغاز ہوا اور جنوب میں بحر اسود کی بندرگاہ اوڈیسا پر روس کے چھاپہ مار اتر گئے۔ صدر پیوٹن نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ یوکرین کو غیر مسلح (Demilitarize)اور نازی اثرات سے پاک کرنے تک روسی فوجی آپریشن جاری رہے گا۔ انہوںنے یوکرینی سپاہیوں سےکہا کہ ’اپنی مجرم پیشہ حکومت کی بات مت مانو اور پرامن انداز میں گھر چلے جاو، ہماری تم سے کوئی لڑائی نہیں ہے لیکن جو روسی فوج کے مقابلے پر آیا اسے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے‘
شدید بمباری و گولہ باری کے باوجود تادم تحریر روسی فوجیں کیف میں داخل نہیں ہوسکیں۔صرف بارہ گھنٹے میں روسی فوج نے یوکرینی دارالحکومت کے مضافات میں مرکزی فوجی ہوائی اڈے پر قبضہ کرلیا تھا۔اینتونوو Antonovکا فوجی اڈہ دارالحکومت سے پندرہ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں تعینات لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹر روس کے تحویل میں آگئے۔ اس کامیاب کاروائی کے بعد روسیوں نے دعوی کیا کہ یوکرین کا فضائی دفاعی نظام غیر موثر کردیا گیا اور پیشقدمی کرتی روسی فوج کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں ہے۔ لیکن اب تک روسی صرف ایک بڑے شہر یعنی خیرسون (Khairson)پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یوکرین کا دوسرا بڑا شہرخارکیف (Kharkiv)بھی شدید ترین بمباری کے باوجود اب تک سرنگوں نہیں ہوا۔
اس ضمن میں کیف کی جانب پیشقدمی کرتے روس کے عظیم الشان فوجی قافلے کی سست رفتاری پر عسکری ماہرین بہت ہی متضاد نوعیت کےتجزیے پیش کررہے ہیں۔ سیٹلائٹ کی مدد سے حاصل کی گئیں تصویروں میں بتایا گیا ہے روس کا ایک بڑا فوجی قافلہ کیف کی طرف پیشقدمی کررہا ہے۔ ٹینک، بکتر بند گاڑیوں اور دورمار توپوں پر مشتمل اس قافلے کی لمبائی 40 میل بتائی جارہی ہے۔ یکم مارچ کو یہ قافلہ کیف سے تیس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا اور خیال کیا جارہا تھا کہ تین مارچ کی شام کو کیف پہنچ کر منگل چار مارچ کو دارالحکومت پر خوفناک حملے کا آغاز ہوگا لیکن گزشتہ چھ دنوں میں اس قافلے نے صرف چندکلومیٹر کا فاصلہ طئے کیاہے۔
برطانوی اور امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ کیف اور خار کیف میں روسی فوج کو جس غیر معمولی مزاحمت کا سامنا ہے اس کی وجہ سے حملہ آور فوج کے حوصلے پست اور سپاہ میں تھکن کا غلبہ نظر آرہا ہے۔ روس کے فوجی سازوسامان، خاص طور سے انکی گاڑیوں کی دیکھ بھال کا انتظام موثر نہیں ہے جس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت (Logistics)کا نظام مسائل کا شکار ہے۔ ممتاز عسکری ماہر اور برطانوی فوج کے سابق جرنیل سر رچرڈ بیرنز (Richard Barrons)کا خیال ہے کہ سست رفتاری اور ایک جگہ پر بھیڑ جمع ہو جانے سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔خوراک اور ایندھن کی فراہمی بھی نا مناسب ہے۔گاڑیوں میں جو پہیے نصب ہیں وہ بھاری وزن کے ساتھ لمبے سفر کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے کی بنیادپر جنرل بیرنز کا خیال ہے کہ بعض بہت بھاری گاڑیوں کے پہیے مٹی میں پھنس گئے ہیں۔ گاڑیوں کے درمیان فاصلہ اتنا کم ہے کہ پیچھے آنے والی گاڑیاں لین نہیں بدل سکتیں اور ’ٹریفک جام‘ کی وجہ سے قافلے کی کرین بردار گاڑیاں اور Tow Truck بھی عملاً جامد ہیں۔(بحوالہ بی بی سی)
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی بھی آزاد ذرائع سے جنرل بیرنز کے خدشات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ امریکیوں کا خیال ہے کہ دوسرے مسائل کے ساتھ روسی فوج کا ریڈیو نیٹ ورک بھی مہمل قسم کا ہے جسے یوکرینی ماہرین بار بار جام کردیتے ہیں جسکی وجہ سے قافلے کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کے نظام میں خلل پڑرہا ہے۔
یوکرین کےعسکری ماہرین کا خیال ہے کہ غیر متوقع یوکرینی مزاحمت کی بنا پر قافلے کے شرکا آگے بڑھنے سے ہچکچارہے ہیں۔ پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی وجہ سے ڈرہے کہ کہیں یوکرینی اس قافلے کو فضا سے نشانہ نہ بنائیں۔ کریملن اپنے اس دعوے پر قائم ہے کہ یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کے ساتھ انکی فضائیہ کو بھی غیر موثر کردیا گیا ہے لیکن یوکرینی فضائیہ کے پاس ترک ڈرون کی صورت میں محدود فضائی قوت اب بھی موجود ہے۔ اسی کے ساتھ برطانیہ کے فراہم کردہ NLAWٹینک شکن میزائیلوں سے بھی روسی خوفزدہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف (Igor Konashenkov)نے انکشاف کیا کہ 27 فروری تک روس کے 254 ٹینک، 31 طیارے، 164 فوجی گاڑیاں اور دوسرا جنگی سازوسامان تباہ ہوگیا۔ اٖفغانستان کی دس سالہ جنگ میں روس کے 147 ٹینک، 1314بکتر بند گاڑیاں اور 451 طیارے تباہ ہوئے تھے۔
جنگ کے متوقع نتائج پر فی الحال کچھ کہنا مشکل ہے، لیکن کئی عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ اگر اہلِ کیف اگلے دوہفتوں تک ڈٹے رہے تو یوکرین روس کا دوسرا افغانستان بن سکتا ہے۔ ہفتے کے روز خیرسون میں ہزاروں شہریوں نے زبردست مظاہرہ کیا اور روسی فوج کی فائرنگ کے باوجود آزادی کے حق میں نعرے لگائے، کچھ منچلے یوکرین کے پرچم لیے روسی بکتر بند گاڑیوں پر چڑھ گئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں مزاحمتی تحریک شروع ہوچکی ہے۔
روسی فوج کو حائل مشکلات کے بارے میں اگر امریکی و برطانوی جرنیلوں کے تجزیے درست ہوں تب بھی اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہے کہ ماسکو اپنے طئے شدہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا ہے اور یوکرین میں بھی وہی ذلت روس کا مقدر بنے گی جسکا سامنے اسے افغانستان میں کرنا پڑا تھا۔ یہ درست ہے کہ روسی افواج اس تیزی سے پیشقدمی نہیں کرپارہی ہیں جسکی روسیوں کو توقع اور نیٹو کو خدشہ تھا لیکن اب بھی کریملن کے ترکش میں بہت سے مہلک تیر موجود ہیں۔
بری فوج کی کارکردگی پر سوالات کئے جاسکتے ہیں لیکن اس کی فضائیہ پوری قوت کے ساتھ اپنے اہداف کو نشانہ بنارہی ہے۔ مستقبل میں یہ کارروائیاں مزید مہلک ہوسکتی ہیں۔ کچھ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ کیف کی جانب آنے والے قافلے کی سست رفتاری روسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ کریملن تابڑتوڑ فضائی حملوں کے ذریعے یوکرینی مزاحمت کو کچلنا چاہتا ہے۔ روس سڑکوں، پلوں، سرکاری عمارات، بجلی گھروں اور دوسری اہم تنصیبات کو تباہ کرکے شہری انتطامیہ کو مفلوج کردینے کے بعد اپنی زمینی فوج کو آگے بڑھائےگا۔ اسی کے ساتھ بینک اور دوسرے اہم قومی اداروں پر سائبر حملوں کے ذریعےبینکنگ، بجلی، گیس، پانی اور مواصلاتی نظام کو منقطع کردینا بھی خارج ازامکان نہیں۔ آزادی و استقلال کے لیےیوکرینیوں کے عزم پر کوئی شک نہیں لیکن اس نوعیت کی تباہی سے مزاحمت دم توڑ سکتی ہے۔ اس صورت میں روسی فوج کے لیے کیف پر قبضہ کرکے پیوٹن کی منظورِ نظر حکومت کا قیام ممکن ہوجائے گا۔ جسکے بعد یوکرین سے باعزت واپسی کا اعلان ہوسکتا ہے۔
اس صورت میں روسی صدر فوری فتح کا فخر تو حاصل کرلیں گے لیکن قبضہ برقرار رکھنے کے لیے انہیں فوج کی بھاری نفری لمبی مدت تک یوکرین میں تعینات رکھنی پڑے گی جس کے لیے قومی وسائل کا بڑا حصہ مختص کرنا ہوگا۔ جس انداز میں یوکرینی مزاحمت منظم ہورہی ہے اس سے لگتا ہے کہ جلد ہی روسی فوج کو بھرپور شورش یا Insurgency کا سامنا کرنا پڑےگا۔ نیٹو اور یورپ یوکرین کی حفاظت کے لیے فوج اتارنے کو تو تیار نہیں لیکن وہ اندرونی شورش کی حوصلہ افزائی کرکے صدر پیوٹن کے لیے سخت مشکلات پیدا کرسکتے ہیں۔ پولینڈ، سلواکیہ، ہنگری اور رومانیہ کی طویل سرحد یوکرین سے ملتی ہیں جہاں سے عسکری مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔ نیٹو نے اسی طرح افغانستان کو روس کے لیے دلدل بنایا تھا۔ بلاشبہ یوکرینی مزاحمت کاافغان مجاہدین کے جذ بہ جہاد سے کوئی مقابلہ نہیں لیکن یہاں سارے کا سارا نیٹو یوکرین کی دہلیز پر موجود ہے۔
روسیوں کی سب سے بڑی آزمائش معاشی پابندیاں،اقتصادی دباو اور سفارتی تنہائی ہے۔ شمالی کوریا اور وینزویلا کے علاوہ کوئی بھی ملک کھل کر یوکرینی آپریشن کی حمایت نہیں کررہا ہے۔ چین، پاکستان اور ہندوستان سمیت نیٹو سے شاکی ممالک بھی عملاًغیر جانبدار ہیں۔ سلامتی کونسل میں بحث کے دوران روس کا ساتھ دینے کے بجائے چین، متحدہ عرب امارات اور ہندوستان غیر جانبدار رہے۔ اس تنازعے میں برصغیر کے دو ‘ازلی دشمن’ یعنی پاکستان اور ہندوستان کا سرکاری موقف بالکل ایک جیسا ہے۔جنرل اسمبلی میں روس کے خلاف پیش کی جانیوالی قرارداد پررائے شماری کے دوران اسلام آباد اور نئی دہلی دونوں غیر جابندار رہے۔مالیاتی اعتبار سے چین کی احتیاط اور حفظ ما تقدم کا یہ عالم کہ اس کے دوبڑے بینکوں انڈسٹریل اینڈ کمرشل بینک (ICBC) اور بینک آف چائنانے روسی کمپنیوں کو خام مال کی خریداری کے لیے رقومات کی فراہمی محدود کردی ہے۔ (حوالہ بلوم برگ)۔
امریکا اور اس کے اتحادی روس کیخلاف سونے کی گولیاں بہت مہارت سے استعمال کررہے ہیں۔ ماسکو کی ڈالر، یورو، پونڈ اور جاپانی ین میں کاروبار کی صلاحیت بہت محدود کردی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک پر پابندیوں کی وجہ سے روسی بینکوں کے لیے بین الاقوامی لین دین ناممکن حد تک مشکل ہوگیا ہے۔ واشنگٹن، روسی حکومت میں شامل رؤسا کے یورپ میں موجود اثاثوں کو تاک تاک کر نشانہ بنانا رہا ہے۔ صدر پیوٹن کے قریبی دوستوں کی پرتعیش کشتیوں (Yacht)، محلات، لکژری گاڑیوں کے بیڑے اور دوسرے قیمتی اثاثے ضبط کیے جارہے ہیں۔
صدر پیوٹن کے لیے یوکرین پر حملہ جنگ سے زیادہ ایک جوئے کی حیثیت رکھتا ہے جسے وہ ہر قیمت پر جیتنا چاہتے ہیں کہ یہ انکی سیاسی زندگی اور موت کا معاملہ ہے۔ اگر یوکرین کی جنگ کا نتیجہ روس کی ’فتح مبیں‘ کی شکل میں نہ نکلا تو روس کا اقتدار بھی ان کے ہاتھ سے نکل جائیگا۔ اگر جنگ طول پکڑ گئی اور گلی کوچوں میں گوریلا لڑائی پھوٹ پڑی تو پابندیوں کی بنا پر دباو میں آئی روسی معیشت کے لیے اس جنگ کے اخراجات اٹھانا بہت مشکل ہوگا، اسکے مقابلے میں امریکا اور نیٹو کی جیب خاصی گہری ہے۔
اس بات کا ڈر بھی ہے کہ صدر پیوٹن اس تنازعے کو اپنی اناکا مسئلہ بناکر سب کچھ داو پر لگادینے کو تیار ہوجائیں جن میں جوہری ہتھیار اورمیدانِ جنگ میں توسیع شامل ہے۔ گزشتہ ہفتے روسی صدر نے اعلی عسکری حکام سے کہا تھا کہ وہ جوہری قوت سمیت تمام دفاعی اثاثوں کو استعمال کے لیے تیار رکھیں۔ بعض امریکی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ نوشتہ دیوار دیکھ کر صدر پیوٹن کی جانب سے جوہری ہتھیار کے بٹن کو دبادینا خارج ازامکان نہیں۔
جہاں تک جنگ کے پھیلاو کا تعلق ہے تو روسی صدر نے گزشتہ ہفتے کہا ہے کہ نیٹو کی جانب سے اقتصادی پابندیاں اور یوکرین کو اسلحے کی فراہمی کو وہ روس کے خلاف جارحیت سمجھتے ہیں۔ ماضی میں روس مالدوواMoldovaپر اپنا دعویٰ جتا چکا ہے۔ مالدووا کے آئین میں صاف صاف درج ہے کہ ریاست ہمیشہ غیر جانبدار رہیگی لہذا یہ ملک نیٹو کا رکن نہیں۔ اس کی طویل سرحدیں یوکرین سے ملتی ہیں اور بحری آمدورفت کے لیے مالدودوا یوکرین کی بندرگاہ اوڈیسا سے مستفید ہورہا ہے۔ اوڈیسا کے قریب روسی فوج کی بھاری نفری موجود ہے۔ جنگ کا دائرہ کار بڑھانے کے لیے صدر پیوٹن مالدووا کی جانب مہم جوئی کرسکتے ہیں۔ فن لینڈ اور سوئیڈن میں عوامی سطح پر روسی خطرے سے حفاظت کے لیے نیٹو میں شمولیت کی عوامی تحریک چل رہی ہے۔ اسے بنیاد بناتے ہوئے فن لینڈ کی طرف پیش قدمی بھی ممکن ہے۔
تنازعے کے ممکنہ خوفناک انجام کے ساتھ اس کے پرامن حل کی امید ختم نہیں ہوئی۔ توپوں کی گھن گرج کے دوران روس اور یوکرین کے مابین امن بات چیت کے دو دور ہوچکے ہیں۔ یہ دونوں نشستیں بے نتیجہ ختم ہوگئیں لیکن بات چیت جاری رکھنے پر ماسکو اور کیف دونوں متفق ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ گولیوں سے مطلوبہ نتائج نہ ملنے کی صورت میں صدر پیوٹن باعزت پسپائی کے لیے مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔
امن بات چیت کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں لیکن یوکرینی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق روس فائر بندی کے لیے کریمیا اور دونباس کو روس کا حصہ تسلیم کرنے کی شرط عائد کررہاہے۔ بقیہ سلسلہ صفحہ نمبر۔۱۲
اسی کے ساتھ ماسکو یوکرین سے یہ وعدہ بھی چاہتاہے کہ اس کی نیٹو رکنیت روسی توثیق سے مشروط ہوگی۔ صدر پیوٹن چاہتے ہیں کہ معاہدے کی اس شق پر نیٹو ضامن کی حیثیت سے دستخط کرے۔اب تک صدر پیوٹن اپنی عسکری فتح کے بارے میں حددرجہ پُراعتماد ہیں اس لیے روس اپنی ان شرائط پرسودے بازی کو تیار نہیں لیکن اگر زمینی صورتحال مزید خراب ہوئی تو روسی صدر کے لیے اپنے موقف میں نرمی کے علاوہ اور کوئی راستہ نہ ہوگا۔
اس میدان کا ایک اہم اور کلیدی کھلاڑی چین بھی ہے۔ بیجنگ کا خیال ہے کہ واشنگٹن چین سمیت دنیا بھر میں مداخلتِ بے جا کا مرتکب ہورہا ہے۔ روس یوکرین جنگ کے حوالے سے چین، امریکا کے رویے کو پسند نہیں کرتا جسکا بیجنگ نے کئی بار کھل کر اظہار بھی کیا ہے لیکن سرکاری طور پر چین غیر جانبدار ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے چین کی ترجیحِ اول اس کی معیشت ہے لہٰذا وہ امریکا سے اپنے اختلافات کوبیان بازی تک محدود رکھے ہوئے ہے۔یورپ، چینی مصنوعات کی بہت بڑی منڈی ہے اور یورپ روس کشیدگی سے چینی معیشت متاثر ہورہی ہے چنانچہ بیجنگ اس تنازعے پر بے حد فکر مند ہے۔اگر روس اس تنازعے کو بات چیت کے ذریعے نمٹانےپر آمادہ یا (مجبور) ہوا تو چین باعزت راستہ تلاش کرنے میں روس کی مدد کرسکتا ہے۔معاشی پابندیوں کے اگلے مرحلے میں روسی تیل صدر بائیڈن کا ہدف ہے۔ روسی معیشت کا دارومدار تیل کی برآمد پر ہے اورچین روسی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے۔
روس کے پاس ایک آزادو خودمختار ملک پر حملے اور شہری آبادی کو تاراج و بے گھر کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس بدامنی کی بنیادی وجہ، دنیا میں اپنا اقتدارو اختیار مسلط کرنے کی شیطانی خواہش اور دوسری اقوام کے قدرتی وسائل پر قبضے کی ہوس ہے۔
(مسعود ابدالی سینئر کالم نگار ہیں۔ عالم اسلام اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورت حال کا تجزیہ آپ کا خصوصی میدان ہے)
[email protected]

 

***

 یہ درست ہے کہ روسی افواج اس تیزی سے پیشقدمی نہیں کرپارہی ہیں جسکی روسیوں کو توقع اور نیٹو کو خدشہ تھا لیکن اب بھی کریملن کے ترکش میں بہت سے مہلک تیر موجود ہیں۔۔بلاشبہ یوکرینی مزاحمت کاافغان مجاہدین کے جذ بہ جہاد سے کوئی مقابلہ نہیں لیکن یہاں سارے کا سارا نیٹو یوکرین کی دہلیز پر موجود ہے۔


ہفت روزہ دعوت، شمارہ  13 تا 19 مارچ  2022