میرے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات ریٹائرڈ ہائی کورٹ جج کے ذریعے کی جائے گی: انل دیشمکھ

ممبئی، مارچ 28: اپنے خلاف بدعنوانی کے سنگین الزامات کے درمیان مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انل دیشمکھ نے آج کہا کہ ہائی کورٹ کا ایک ریٹائرڈ جج ان پر عائد بدعنوانی کے الزامات کی جانچ کرے گا۔

انھوں نے کہا ’’مہاراشٹر کے وزیر اعلی نے فیصلہ کیا ہے کہ ممبئی کے سابق پولیس کمشنر کے ذریعے میرے اوپر لگائے گئے الزامات کی تحقیقات ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کے ذریعہ کی جائے گی۔‘‘

اس سے قبل جمعرات کو دیشمکھ نے کہا تھا کہ انھوں نے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے کو خط لکھ کر ممبئی کے سابق پولیس چیف پرمبیر سنگھ کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کی تحقیقات کرنے کو کہا ہے۔

20 مارچ کو پرمبیر سنگھ نے دیشمکھ پر ممبئی میں بار، ریستوران اور حقہ پارلروں سے غیرقانونی ذرائع سے رقم وصول کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ سابق پولیس چیف نے ٹھاکرے کو لکھے گئے خط میں کہا تھا کہ کرائم برانچ کے معطل افسر سچن وازے نے انھیں بتایا ہے کہ وزیر داخلہ نے انھیں غیر قانونی ذریعے سے ہر ماہ 100 کروڑ روپے جمع کرنے کو کہا تھا۔‘‘

پرمبیر سنگھ نے وزیر داخلہ پر یہ بھی الزام لگایا تھا کہ وہ متعدد معاملات میں پولیس کی تفتیش میں کثرت سے مداخلت کرتے ہیں۔

پولیس اہلکار سچن وازے کو پچھلے ماہ انڈسٹریلسٹ مکیش امبانی کی رہائش گاہ کے باہر دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی رکھنے میں مبینہ کردار کے الزام میں قومی تفتیشی ایجنسی کی تحویل میں بھیجا گیا تھا۔ اس کارروائی کے دو دن بعد ہی پرمبیر سنگھ کو، جو اس کی تفتیش کی سربراہی کر رہے تھے، ان کے عہدے سے ریاستی حکومت نے منتقل کر کے ہوم گارڈ ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیا تھا۔

انل دیشمکھ نے سنگھ کے ذریعہ ان پرلگائے گئے الزامات کو مسترد کردیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ امبانی کیس کو غلط انداز میں پیش کرنے کے بعد پولیس افسر اسے چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔