مدھیہ پردیش: ہجوم نے ایک آدیواسی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کی، تین گرفتار

نئی دہلی، مارچ 14: ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے اتوار کو مدھیہ پردیش کے علی راج پور ضلع میں ایک آدیواسی خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں تین مردوں کو گرفتار کیا۔ یہ واقعہ جمعہ کو بھگوریا کے دوران پیش آیا، جو کہ ریاست میں آدیواسی برادریوں کی طرف سے ہولی سے ایک ہفتہ قبل منایا جاتا ہے۔

پولیس نے کہا کہ انھوں نے اس واقعے کا از خود نوٹس لیا جب اس حملے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی گئیں۔ علی راج پور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ منوج کمار سنگھ نے کہا کہ خاتون نے شکایت درج نہیں کرائی تھی۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق سنگھ نے کہا ’’ویڈیو کی بنیاد پر ہم نے ان مردوں کی شناخت کی جنھوں نے اس عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ ہم نے ان میں سے تین کو پکڑ لیا ہے جب کہ پانچ دیگر، جو ویڈیو بنا رہے تھے اور ملزم کو اکسا رہے تھے، مفرور ہیں۔ پولیس ٹیمیں انھیں پکڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘

وائرل ویڈیو میں ایک شخص کو ایک عورت کے ساتھ جنسی زیادتی کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اس سے پہلے کہ دوسرا شخص اسے دھکیل کر دور کر دے۔ چند سیکنڈ بعد ایک اور آدمی عورت کو پکڑ کر مردوں کے ایک گروپ کی طرف گھسیٹتا ہے، جو اس سے جنسی زیادتی کرتا ہے۔ کچھ دوسرے مردوں کو بھی اس واقعے کی ویڈیو بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

پولیس نے گرفتار افراد کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 354(a) (عورت پر حملہ یا اس کی عزت کو مجروح کرنے کے ارادے سے مجرمانہ طاقت کا استعمال) اور 34(a) (کئی افراد کی طرف سے مشترکہ ارادے کو آگے بڑھانے کے لیے کیے گئے اعمال) کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

سنگھ نے مزید کہا کہ پولیس اہلکاروں کو علاقے میں تعینات کر دیا گیا ہے اور وہ فرار ہونے والے ملزمان کے ممکنہ ٹھکانوں پر چھاپے مار رہے ہیں۔

اس دوران کانگریس نے کہا کہ ریاست میں آدیواسی خواتین محفوظ نہیں ہیں۔

کانگریس کے ترجمان نریندر سلوجا نے کہا ’’این سی آر بی [نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو] کے اعداد و شمار کے مطابق مدھیہ پردیش میں قبائلی خواتین کے ساتھ عصمت دری کے سب سے زیادہ واقعات درج ہوئے اور اس واقعے نے قبائلی خواتین کی حالت زار کو مزید اجاگر کیا ہے۔ شرپسندوں کو پولیس کا کوئی خوف نہیں ہے اور اسی وجہ سے انھوں نے سرعام خاتون پر حملہ کرنے کی جرات کی۔‘‘

وہیں آدیواسی حقوق کی تنظیم جے یووا آدیواسی سنگٹھن نے تہوار کے دوران امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھنے میں ناکام رہنے پر پولیس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

تنظیم کے کنوینر آنند رائے نے کہا ’’تہوار کے دوران پولیس کو خواتین کو تحفظ فراہم کرنا چاہیے تھا۔‘‘