تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت، وفاقی اقدار کو مجروح کرنا چاہتی ہے

نئی دہلی، اگست 16: تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے۔ چندر شیکھر راؤ نے پیر کے روز الزام لگایا کہ مرکزی حکومت ملک کے لیے آئین کے معماروں کی طرف سے تصور کردہ وفاقی اقدار کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اپنے یوم آزادی کے خطاب میں راؤ نے یہ بھی الزام لگایا کہ مرکز ایسی سازشوں میں مصروف ہے جس سے ریاستوں کو مالی طور پر کمزور کیا جائے۔

راؤ نے الزام لگایا کہ ’’یہ (مرکزی حکومت) ریاستوں سے مشورہ کیے بغیر کنکرنٹ لسٹ میں شامل موضوعات پر فیصلے لے کر اور اس کے بعد ریاستوں پر فیصلوں کو نافذ کرنے کے لیے دباؤ ڈال کر آئین کا مذاق اڑا رہی ہے۔‘‘

کنکرنٹ لسٹ میں ایسے مضامین کی فہرست ہوتی ہے جن پر مرکزی اور ریاستی حکومتیں قانون بنا سکتی ہیں۔

راؤ نے دعویٰ کیا کہ مرکز کے ذریعہ ٹیکس کی شکل میں جمع ہونے والی آمدنی کا 41 فیصد ریاستوں کو ادا کیا جانا چاہیے، لیکن مرکزی حکومت ریاستوں کو ادا کیے جانے والے حصے کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انھوں نے کہا ’’مرکزی حکومت کوآپریٹو فیڈرلزم کے نظریات کے بارے میں بات کرتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ اختیارات کی مرکزیت میں ملوث ہے۔ آئین کی پہلی شق، جس میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان ریاستوں کا اتحاد ہے، اس کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔‘‘

راؤ نے یہ بھی کہا کہ یہ توہین آمیز ہے کہ مرکز فلاحی اسکیموں کو ’’مفت‘‘ کہہ رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہریوں کی فلاح وبہبود حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔

راؤ نے مزید کہا ’’یہ قابلِ الزام ہے کہ مرکز، اس ذمہ داری کو صحیح طریقے سے ادا کیے بغیر، فلاحی اسکیموں کو مفت کہہ کر ان کی توہین کر رہا ہے۔‘‘

اس معاملے پر بحث اس وقت شروع ہوئی جب وزیر اعظم نریندر مودی نے 16 جولائی کو فلاحی اسکیموں کو ’’ریوڑی کلچر‘‘ قرار دیا تھا۔ ریوڑی ایک مٹھائی ہے جو گڑ اور تل سے بنتی ہے۔

10 اگست کو پانی پت میں ایک تقریب میں مودی نے مزید کہا تھا کہ اس طرح کے اعلانات ٹیکس دہندگان پر بوجھ بڑھاتے ہیں اور ملک کو خود انحصار بننے سے روکتے ہیں۔