
اسلامی نظام حیات، معاشی مساوات کا بہترین ذریعہ
اسلامی نظام حیات، معاشی مساوات کا بہترین ذریعہ
ہندوستان اور دنیا کی تازہ ترین خبریں

اسلامی نظام حیات، معاشی مساوات کا بہترین ذریعہ
تازہ ترینغزہ، حماس اور ابوعبیدہ: فلسطینی استقامت کی داستان
تازہ ترینمتنازعہ وقف ترمیمی قانون اور چند بے بنیاد الزامات
تازہ تریناے آئی کے پروجیکٹ کو، اگر مناسب شفافیت، جواب دہی اور انسانی نگرانی کے تعاون سے آگے بڑھایا جاتا ہے، تو یہ سنگین جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، اس ماڈل میں پوشیدہ تعصبات، پرائیویسی کے مسائل اور غلط نشان دہی کے خدشات کو نظرانداز کرنا نہ صرف غلط نتائج کا باعث بنے گا بلکہ سماجی بھروسے کو بھی مجروح کرے گا۔ لہٰذا پالیسی سازوں، تحقیق کاروں اور حکومتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان خطرات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے شفاف، منصفانہ اور مؤثر تعمیری حکمتِ عملی اپنائیں۔
تازہ ترینروح افزا پر کھڑے کیے گئے تنازعہ سے کئی مثبت پہلو بھی نکل کر سامنے آرہے ہیں۔ نئی نسل از سر نو روح افزا سے متعارف ہورہی ہے اور روح افزا کے ساتھ ساتھ ہمدرد کو جاننے اور اس کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ رام دیو کے منفی پروپیگنڈے نے ایک طرح سے روح افزا کو تجارتی فائدہ ہی پہنچایا ہے۔ یہ شربت ایک بار پھر نئی نسل میں مشہور ہو رہا ہے۔ روح افزا کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف ماحول بنانے کی کوشش ناکام گئی ہے۔ مذہبی منافرت کے خلاف انصاف پسند افراد کا ایک بڑا طبقہ سامنے آیا ہے۔ اس تنا
تازہ ترینفوٹو جرنلزم کے حوالے سے غزہ کے نو سالہ بچے محمود عجور کی تصویر کشی پر نیویارک ٹائمز کے فوٹو گرافر کو WORLD PRESS PHOTOکا ایوارڈ دیا گیا ہے۔اسرائیلی بمباری سے اس بچے کے دونوں بازو اڑ گئے ہیں۔ درندگی و وحشت کے اس استعارے پر انعام دینے والوں کو اس ظلمِ عظیم کی مذمت کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔سچ ہے کہ غزہ کے لہو نے مغربی تہذیب کا میک اپ دھو کر اس کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔
ہفت روزہ دعوت - شمارہ 20 اپریل تا 26 اپریل 2025
تازہ ترین
تازہ ترینایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ ستمبر-اکتوبر 2025 میں بہار اسمبلی کے انتخابات پر اس تمام صورتحال کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ روایتی طور پر مسلمانوں کی اکثریت نتیش کمار سے دور ہی رہی ہے۔ 2015 کے انتخابات کو چھوڑ کر مسلمانوں نے کبھی کھل کر انہیں ووٹ نہیں دیا، البتہ 7 سے 10 فیصد کے درمیان ووٹ ضرور ملے ہیں۔ گزشتہ 20 برسوں میں جنتا دل یو کو جو 13 سے 16 فیصد ووٹ ملے، ان میں ایک چوتھائی ووٹ مسلمانوں کے تھے۔ اب جب کہ وقف ترمیمی بل قانون بن چکا ہے، سوال یہ ہے کہ ترقی کے نام پر نتیش کمار کو ووٹ دینے والا یہ طبقہ

