
سفارتی تنہائی کا کرب اور عالمی تنقید کی ضرب
وزیر اعظم نریندر مودی اگر آپریشن سندور سے قبل کل جماعتی نشست میں شریک ہوکر حزب اختلاف سے صلاح و مشورہ کرتے تو یقیناً ان کو یہ سمجھایا جاتا کہ اقدام سے قبل رائے عامہ ہموار کی جائے لیکن وہ تو بہار چلے گئے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب مودی سرکار کو اپنی اس غلطی کا احساس ہوا ہے اور اس نے پاکستان کے بیانیے کاسدِ باب کرنے کے لیے پہلگام دہشت گرد حملے اور اس کے بعد ہونے والے ’آپریشن سندور‘ پر اپنا موقف بین الاقوامی برادری کے سامنے رکھنے کے لیے ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل نمائندہ وفود روانہ کرنے کا فیصلہ کیا










