
ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین

پونے کے سلیم مُلا، وقف جائیدادوں کے جہد کار
شمارہ 13 - 19 ستمبر 2020 - ہفت روزہ دعوت
شمارہ 6 تا 12 ستمبر 2020 - ہفت روزہ دعوت
ایک طرف ملک میں سیاسی نمائندوں کے خلاف عدالتی کارروائیوں کی سست روی کا یہ عالم ہے اور زیر التواء مقدموں کی اتنی بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف حقوقِ انسانی اور اظہار رائے کی آزادی کے جمہوری حدود میں رہتے ہوئے بات کرنے والے سماجی کارکنوں، بالخصوص غیر جانب دار صحافیوں کو دبانے اور دھمکانے کے لیے دھڑا دھڑ مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں، ان کے خلاف سیاسی قائدین بھی ضرورت سے زیادہ سرگرمی دکھاتے ہیں اور عدالتیں بھی کافی سنجیدہ ہو کر کارروائیاں کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ہفت روزہ دعوتہندوستانی سیاست کی ایک سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ مسلمانوں کی خوشنودی کے لیے راجیو گاندھی نے شاہ بانو کے معاملے میں آئینی ترمیم کروائی اور اس کے جواب میں رام مندر کی تحریک چل پڑی جس کے نتیجے میں بی جے پی برسرِ اقتدار آگئی۔ یہ جھوٹ اتنی بار بولا گیا کہ ہر کس و ناکس اس پر اعتبار کرنے لگا جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
ہفت روزہ دعوتسیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ کانگریس کو پارٹی کے بنیادی اصولوں کے مطابق اپنے ہر کارکن کو ملک میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے خلوص دل کے ساتھ وقف کرنے کی ترغیب دی جانی چاہئے۔ لیکن سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد اس بنیادی اصول پر شائد ہی کہیں عمل پیرا ہوتے ہوں۔ جب راہول گاندھی کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والے قائدین، پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں علی الاعلان شامل ہو رہے ہوں تو زمینی سطح کے کارکنوں کے دماغوں میں یقیناً کچھ نہ کچھ تو پک ہی رہا ہوگا۔
ہفت روزہ دعوتملک میں بے روزگاری کی وجہ نفسیاتی امراض اور خود کشیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق 2019میں بھارت میں روزآنہ 381لوگوں نے خود کشی کی ہے۔ اس طرح پورے سال میں ایک لاکھ 39 ہزار 123لوگوں نے خود کشی کی۔ اعداد وشمار کے مطابق 2018 کے 1.3 لاکھ کے مقابلے 2019 میں خود کشی کے معاملات میں 3.4 فیصد کا اضافہ ہوا اور 2017میں ایک لاکھ 29 ہزار 887لوگوں نے خود کو ہلاک کیا
ہفت روزہ دعوتیہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ جتنے بھی درباری قسم کے ماہرین معاشیات ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کمپنی کو کسی غیر ملکی ادارے کو بیچ دینا چاہیے ان کا اصرار اس بات پر ہے کہ اس کو کسی خانگی کمپنی کو ہی فروخت کرنا چاہیے انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ حکومت کہیں اسے انڈین آئل کو نہ پیچ دے جس سے انڈین آئل ایک بہت بڑی کمپنی ہو جائے گی جس سے خانگی کمپنیوں کو نقصان ہوگا۔ یہ ماہرین معاشیات کارپوریٹس کے منافع کی سوچ رہے ہیں عوامی فائدے کی بات ان کے دل و دماغ میں دور دور تک موجود نہیں ہے۔\r\nایسی بھاری منافع کمانے والی
ہفت روزہ دعوتمفتی نعیم الدین مرادآبادی کی کتاب احقاق حق کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت اجاگر ہوجاتی ہے کہ پنڈت سوامی دیانند نے اسلام پر جو اعتراضات کئے ہیں وہ یقینا تعصب و جانبداری پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ علمی بخل اور علمی عدم توازن کی واضح دلیل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس طرح کے اعتراضات کئے ہیں جن کا حقائق یا سنجیدگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہر اعتراض میں سوامی جی کی انتشار ذہنی اور ژولیدہ پن کا اظہار ہوتا ہے۔ مگر مفتی صاحب نے ان کے تمام اعتراضات کا انتہائی سنجیدگی اور عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں جو
ہفت روزہ دعوتہر وہ انسان جس پر ایمان کا مفہوم واضح ہو، اس کی چاہت اس کے دل میں گھر کر لے اور وہ اس کی لذت سے آشنا ہو جائے، پھر اسے اطاعت ربانی کے سوا سب کچھ پھیکا نظر آتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کا ایک متعین مقصد سامنے رکھ کر جیتا اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا پسند کرتا ہے۔

