ہفت روزہ دعوت

ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین

کل 764 مضامین
ہفت روزہ دعوت

اداریہ: داغ دار نمائندے

ایک طرف ملک میں سیاسی نمائندوں کے خلاف عدالتی کارروائیوں کی سست روی کا یہ عالم ہے اور زیر التواء مقدموں کی اتنی بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف حقوقِ انسانی اور اظہار رائے کی آزادی کے جمہوری حدود میں رہتے ہوئے بات کرنے والے سماجی کارکنوں، بالخصوص غیر جانب دار صحافیوں کو دبانے اور دھمکانے کے لیے دھڑا دھڑ مقدمات دائر کیے جا رہے ہیں، ان کے خلاف سیاسی قائدین بھی ضرورت سے زیادہ سرگرمی دکھاتے ہیں اور عدالتیں بھی کافی سنجیدہ ہو کر کارروائیاں کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔

دعوت نیوز11 ستمبر 2020
ہفت روزہ دعوت

اگر یہ رام راج ہے تو راون راج کسے کہتے ہیں؟

ہندوستانی سیاست کی ایک سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ مسلمانوں کی خوشنودی کے لیے راجیو گاندھی نے شاہ بانو کے معاملے میں آئینی ترمیم کروائی اور اس کے جواب میں رام مندر کی تحریک چل پڑی جس کے نتیجے میں بی جے پی برسرِ اقتدار آگئی۔ یہ جھوٹ اتنی بار بولا گیا کہ ہر کس و ناکس اس پر اعتبار کرنے لگا جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

دعوت نیوز11 ستمبر 2020
ہفت روزہ دعوت

کانگریس میں داخلی خلفشار، نظریہ معنویت کھوچکا

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ کانگریس کو پارٹی کے بنیادی اصولوں کے مطابق اپنے ہر کارکن کو ملک میں بسنے والے کروڑوں انسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے خلوص دل کے ساتھ وقف کرنے کی ترغیب دی جانی چاہئے۔ لیکن سیاسی جماعتوں سے وابستہ افراد اس بنیادی اصول پر شائد ہی کہیں عمل پیرا ہوتے ہوں۔ جب راہول گاندھی کے ساتھ قدم سے قدم اور کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والے قائدین، پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں علی الاعلان شامل ہو رہے ہوں تو زمینی سطح کے کارکنوں کے دماغوں میں یقیناً کچھ نہ کچھ تو پک ہی رہا ہوگا۔

دعوت نیوز11 ستمبر 2020
ہفت روزہ دعوت

معیشت کو اندھیرے غار میں دھکیل دیا گیا۔ جی ڈی پی منفی 23.9فیصد پر

ملک میں بے روزگاری کی وجہ نفسیاتی امراض اور خود کشیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کے مطابق 2019میں بھارت میں روزآنہ 381لوگوں نے خود کشی کی ہے۔ اس طرح پورے سال میں ایک لاکھ 39 ہزار 123لوگوں نے خود کشی کی۔ اعداد وشمار کے مطابق 2018 کے 1.3 لاکھ کے مقابلے 2019 میں خود کشی کے معاملات میں 3.4 فیصد کا اضافہ ہوا اور 2017میں ایک لاکھ 29 ہزار 887لوگوں نے خود کو ہلاک کیا

دعوت نیوز11 ستمبر 2020
ADAdvertisement
ہفت روزہ دعوت

بھارتی کمپنیوں کا سودا: بحران ہوگا مزید گہرا

یہ بڑی مضحکہ خیز بات ہے کہ جتنے بھی درباری قسم کے ماہرین معاشیات ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس کمپنی کو کسی غیر ملکی ادارے کو بیچ دینا چاہیے ان کا اصرار اس بات پر ہے کہ اس کو کسی خانگی کمپنی کو ہی فروخت کرنا چاہیے انہیں یہ خوف لاحق ہے کہ حکومت کہیں اسے انڈین آئل کو نہ پیچ دے جس سے انڈین آئل ایک بہت بڑی کمپنی ہو جائے گی جس سے خانگی کمپنیوں کو نقصان ہوگا۔ یہ ماہرین معاشیات کارپوریٹس کے منافع کی سوچ رہے ہیں عوامی فائدے کی بات ان کے دل و دماغ میں دور دور تک موجود نہیں ہے۔\r\nایسی بھاری منافع کمانے والی

دعوت نیوز11 ستمبر 2020
ہفت روزہ دعوت

مفتی نعیم الدین مرادآبادی کی تصنیف ’’احقاق حق ‘‘کی عصری افادیت

مفتی نعیم الدین مرادآبادی کی کتاب احقاق حق کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت اجاگر ہوجاتی ہے کہ پنڈت سوامی دیانند نے اسلام پر جو اعتراضات کئے ہیں وہ یقینا تعصب و جانبداری پر مبنی ہونے کے ساتھ ساتھ علمی بخل اور علمی عدم توازن کی واضح دلیل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس طرح کے اعتراضات کئے ہیں جن کا حقائق یا سنجیدگی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ ہر اعتراض میں سوامی جی کی انتشار ذہنی اور ژولیدہ پن کا اظہار ہوتا ہے۔ مگر مفتی صاحب نے ان کے تمام اعتراضات کا انتہائی سنجیدگی اور عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں جو

دعوت نیوز11 ستمبر 2020
ہفت روزہ دعوت

اے مومنو! مومن بنو!!

ہر وہ انسان جس پر ایمان کا مفہوم واضح ہو، اس کی چاہت اس کے دل میں گھر کر لے اور وہ اس کی لذت سے آشنا ہو جائے، پھر اسے اطاعت ربانی کے سوا سب کچھ پھیکا نظر آتا ہے۔ وہ اپنی زندگی کا ایک متعین مقصد سامنے رکھ کر جیتا اور ایمان کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہونا پسند کرتا ہے۔

دعوت نیوز11 ستمبر 2020
ADAdvertisement