ہفت روزہ دعوت

ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین

کل 764 مضامین
ہفت روزہ دعوت

افغانستان اور مشرق وسطیٰ:کل کے 'دہشت گرد' طالبان آج امن کے نقیب!

مذاکرات کے آغاز کی تاریخ بھی بڑی تاریخی نوعیت کی ہے کہ 12 ستمبر 2001 کو امریکی صدر بش نے افغانستان کے خلاف اعلان جنگ کیا تھا اور اس کے ٹھیک 19 سال بعد 12 ستمبر 2020 کو امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو نے (سابق دہشت گرد) ملا عبدالغنی برادر کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر افغانستان میں قیام امن کے لیے امریکی عزم کا اظہار کیا ہے۔

دعوت نیوز25 ستمبر 2020
ہفت روزہ دعوت

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں

\r\nآج سے 20 سال پہلے کون سوچ سکتا تھا جن افغانیوں کو آپس میں لڑاکر فرنگیوں نے غلام بنانے کی سازش رچی تھی وہ بالآخر حاشیے پر پہنچا دیے جائیں گے اور ایمانی بھائی پھر سے اسلام کی سربلندی کے لیے آپس میں شیر و شکر ہو جائیں گے۔ فی الحال عالم اسلام اور افغانستان کے حالات پر نظر رکھنے والے بڑے بڑے دانشوروں کی آنکھیں خیرہ ہیں۔\r\n

دعوت نیوز25 ستمبر 2020
ہفت روزہ دعوت

معیشت میں سدھار کےلیے حکومت کرشمہ کی منتظر !

ملکی معیشت کی بڑی تباہی کے درمیان ملک کی تجارتی تنظیم، کنفڈریشن آف آل انڈیا(CAIT)نے پریشان کن رپورٹ پیش کی ہے۔ کیٹ کا کہنا ہے کہ کووڈ 19قہر کی وجہ سے چھوٹی دکان اور کاروبار بہت بری حالت میں ہے۔ اس میں سے تقریباً 25فیصد 1.75کروڑ چھوٹے کاروبار بند ہونے کی حالت میں ہیں۔ کیٹ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کورونا قہر کی وجہ سے ملک کا گھریلو کاروبار اس دہائی میں سب سے خراب دنوں کا سامنا کررہا ہے۔ مستقبل قریب میں ان آفتوں سے راحت ملنے کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا ہے۔ کیٹ نے کہا کہ 7کروڑ س

دعوت نیوز25 ستمبر 2020
ہفت روزہ دعوت

حکومت کے نشانے پر سماج کے کمزور طبقات ہی کیوں؟

مسلمانوں یا محروم طبقات کو مایوس ہو نے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ حق وانصاف کے لیے جو آواز اٹھا رہے ہیں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ظلم کی اندھیری رات ہمیشہ نہیں رہتی صبح ضرور ہوتی ہے۔ عمر خالد کی مظلوم ماں کا آواز اٹھا نا کہ ہم خالد کے ساتھ ہیں، مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہیں بہت معنی رکھتا ہے۔

دعوت نیوز25 ستمبر 2020
ADAdvertisement
ہفت روزہ دعوت

آل انڈیا کشمیر کمیٹی۔۔ قادیانی ایجنڈا!

تاریخ دان اس امر پر متفق ہیں کہ قادیانیوں کے زیر اثر ’’کشمیر کمیٹی‘‘ محض ایک چھلاوا تھا، جب کہ اس کے پسِ پردہ ان کا مقصد یہ تھا کہ اُنہیں مسلم اکثریتی کشمیر میں اپنے قدم جمانے کا موقع ملے۔ اصل میں قادیانیوں کی اوپری قیادت ملک میں نئی سیاسی کروٹوں کے بیچ اپنے لیے ایک سیاسی پناہ گاہ کی متلاشی تھی۔ اُن کی نظریں کشمیر پر پڑیں تو منہ میں یہ سوچ کر رال ٹپکی کہ ہو نہ ہو کشمیر میں وہ اپنی ایک جداگانہ ریاست قائم کر سکیں گے۔

دعوت نیوز25 ستمبر 2020
ہفت روزہ دعوت

الزامات کو عدالت میں ثابت کرنا ممکن نہیں

سی اے اے کی مخالفت ایک عوامی تحریک تھی اسے ملک کے نوجوانوں اور خواتین نے چلایا تھا۔ اگر حکومت دوبارہ این پی آر یا این آر سی کے بارے میں کچھ کرنے کی سوچ رکھتی ہے تو امید ہے کہ یہ عوامی تحریک خود بخود دوبارہ شروع ہو جائے گی۔

دعوت نیوز25 ستمبر 2020
ADAdvertisement