ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
انسان اپنے اعمال وعبادات سے نہیں بلکہ اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا، اعمال دخول جنت کی قیمت یا بدل نہیں بلکہ دخول جنت کے اسباب میں سے ہیں ورنہ ہم جنت میں صرف نیک اعمال کے ذریعے ہی داخل ہوسکتے ہیں۔رمضان المبارک میں ہم نے روزہ، تراویح، صدقہ وخیرات اور دعاء واستغفار کے ذریعے جو کمائی کی ہے اسے ضائع ہونے سے بچانے اور اس پر کاربند رہنے کے لیے کبائر سے اجتناب، اللہ ورسول کی نا فرمانی سے پرہیز، شرک وکفر اور ریاء ونمود سے دوری، قطع رحمی، والدین کی نافرمانی اور مسلمانوں کی ایذارسانی سے اپنے آپ کو بچ
2008 میں اوباما کی پہلی صدارتی مہم کے دوران تقریباً 60 فیصد سیاہ فام امریکیوں نے نسلی تعلقات کی صورتحال کو ’’عمومی طور پر خراب‘‘ قرار دیا تھا۔ ان کے انتخاب کے بعد یہ تعداد نصف ہو گئی تھی لیکن وہ ایک عارضی احساس تھا اس لیے کہ ۷ سال بعد 68 فیصد سیاہ فام امریکیوں کی رائے بدل گئی اور انہوں نے کہا کہ نسلی تعلقات خراب ہو گئے ہیں۔(2015 کی سروے رپورٹ )
جارج فلائیڈ کے قتل پر ملک گیر مظاہروں کے باوجود اس مسئلے کے حل کی کوئی امید نظر نہیں آتی کہ اب تک اس واقعے کے تمام ملزمان گرفتار نہیں ہوئے اور اصل ملزم پر جو مقدمہ بنایا گیا وہ تیسرے درجے کا قتل ہے یعنی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی بنا پر موت یا قتلِ خطا۔
بھارت کی ترقی وتعمیر میں مسلمانوں کا کردار کسی بھی طرح دوسری قوموں سے کم نہیں رہا بلکہ کچھ زیادہ ہی رہا ہے۔ آج بھی مسلمان، چاہے وہ عوامی شہریت کا مسئلہ ہو یا کرونا وائرس کی وبا کا، ہر محاذ پر وہی ڈٹے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی یہ کوششیں انشاء اللہ ضرور رنگ لائیں گی
۔حکومت نے این آر سی اور سی اے اے کے نام سے جو شوشے چھوڑ رکھے تھے ان کے خلاف پورے ملک میں مسلمان اور صاف ذہن شہری احتجاج کر رہے تھے۔ سب سے بڑا احتجاج مسلم خواتین نے جنوبی دہلی کے شاہین باغ علاقے میں شروع کیا جس میں ۲۴ گھنٹے خواتین کا مجمع رہتا تھا۔ اس قسم کے چھوٹے بڑے پروگرام پورے ملک میں ہونے لگے۔ شرارتی میڈیا نے اس کے خلاف بھی محاذ کھول رکھا تھا۔
عدالت کا میزان اگر کسی ایک جانب جھک جائے تو وہ اپنا وقار اور اعتبار دونوں کھو دیتی ہے اور ایسا ہی معاملہ فی الحال سپریم کورٹ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ کورونا وائرس کی وباء نے اس مرض کو بے نقاب کرنے کا کام کیا ہے۔ اس کا علاج لا دینی جمہوریت کے اندر نہیں ہے بلکہ اس کے لیے الہامی ہدایت سے رجوع کرنا لازم ہے۔
ملک کو عالمی قیادت کے مقام تک لے جانے کا خواب دیکھنے والے کیا آج بھی دقیانوسی سوچ کے ساتھ اپنی آبادیوں کو اندھی عقیدت میں بد مست رکھیں گے؟ طرح طرح کے ڈر، افواہیں، توہم پرستی، سماجی ومعاشی اور فکری پس ماندگی نیز نفرت انگیزی کو روکنے کے لیے ایماندارانہ اقدامات کی ضرورت ہے جو کہ ایک دستوری فریضہ بھی ہے لیکن ہم سب اس میں بھی ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔
یہاں دو مختلف دنیائیں آباد ہیں، ایک دنیا میں مظلوم اور مغلوب ومعتوب انسان بستے ہیں جو بے نوائی کی مار کھاتے ہیں، غربت کی ٹھوکریں برداشت کرتے ہیں، استحصال کے چابک سینوں پر کھاتے ہیں۔ دوسری دنیا منافرتوں کے نامی گرامی تاجروں کی ہے جو تخریب کاریوں کے سیاسی داتا ہیں، جو اپنے چہیتے امیروں کی پیالہ برداری کرتے ہیں اور غریبوں کو آپس میں دست وگریباں کیے رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے خُو چھوڑی نہ وضع۔
دوسری مثال دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہندوستان کی ہے جسے ’’وشوگرو‘‘ بننے کی تمنا ہے۔ اور اس آرزو کی تکمیل کے لیے اس نے جمہوریت کے چاروں ستونوں کو جس طرح مسمار کر کے ملبے میں تبدیل کر دیا ہے اسے دیکھ کر پورے ملک ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں ماتم بپا ہے

