ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
اہم نکات بیک نظر\n• پہلا، جمہوری نظاموں میں گفتگو، مذاکرات اور مکالمہ سیاسی طاقت اور اقتدار کے حصول کا سب سے اہم میدان ہے، جس کے پاس جتنے وسائل ہوتے ہیں وہ اتنا ہی مکالمے پر حاوی رہنے اور اسے اپنے حق میں کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مکالمے سے باہر رہنے والے جمہوری عمل سے اور جمہوری طاقت کے مقابلے سے ہی باہر ہو جاتے ہیں۔\n• دوسرا، مکالمات میں مسلمان خود اپنی غلطیوں اور کمزوریوں سے اور دوسرے فریقوں کی نوازشوں سے یا تو حاشیے پر ہیں یا دوسروں کے رحم وکرم پر ہی شریک ہو پاتے ہیں، اس کمی نے مسلمانوں کو بجائے
اس وقت سب سے اہم بات یہ ہے کہ حکومت فوری طور پر کروڑوں کسانوں، مزدوروں، چھوٹے تاجروں اور متوسط طبقات کے لوگوں کو روزی روٹی کے لیے نقد الاؤنس جاری کرے تاکہ وہ دوبارہ متحرک ہو سکیں اور منڈیوں میں طلب میں اضافہ ہو سکے۔
یہ دنگے اور فسادات اس مخصوص ایجنڈے کا حصہ ہیں جو تقسیم ہند کا منصوبہ بنانے والوں نے ملک کی سب سے بڑی مذہبی کمیونٹی کے خلاف تیار کیا ہے۔ اس لیے ملک کے سبھی دور اندیش اور شریف شہریوں کو اس طویل المدت منصوبے کی کاٹ کے لیے تیار ہو کر آگے آنا ہوگا۔
اسے ہم ذات پات پر مبنی برہمنی نظام کا پیش خیمہ سمجھیں جو انھیں بہت مرغوب ہے اور جس میں غریبوں، دلتوں اور اقلیتوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے یا اسے ملک پر سرمایہ داروں کے استحصالی تسلط کا نتیجہ جو ہمیشہ مزدوروں اور غریبوں کا حق مار کر ترقی کا منصوبہ بناتے ہیں؟ جو بھی ہو انسانوں کے بیچ کوئی ایسا نظام یا ایسا طرز حکومت بہت دنوں تک باقی نہیں رہ سکتا جو انسانی درد اور انسانی زخموں پر مرہم رکھنے والے انصاف ومساوات کے احساس سے بالکل عاری ہو۔ان حالات میں وقت کا تقاضا یہی ہے کہ مزدوروں سمیت ملک کے تمام کمزو
امریکہ میں مشتعل عوام کے جوش وجنون سے ٹرمپ کی سیاسی اور انتخابی مشکلیں یقیناً بڑھ گئی ہیں، لیکن اس وسیع البنیاد عوامی شورش سے ملک اور سماج کی نفسیات سے نسل پرستی کھرچ جائے ایسا سوچنا بھی خیال وجنون ہے۔ اصولاً اس ایجی ٹیشن کا منطقی لزوم کسی ایک شخص یا پارٹی کی کرسی چلی جانے میں مخفی نہیں بلکہ اس کے لیے قدرت نے انسانی دنیا کو جو ایک ہی ابدی نسخہ کیمیا دیا ہے اس پر تمام طبقاتِ عوام کا اجماع ہی مسئلے کا دائمی اور منصفانہ حل ہے۔ حق یہ ہے کہ زمانے کو جب کبھی واقعی کثیر مذہبی، کثیرنسلی، کثیر تہذیبی اور
ایک خاص مکتب فکر نے مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ کھول رکھا ہے جس کی میڈیا حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ تمام چینلوں پر کسی نہ کسی اہم مسئلہ پر پینل ڈیبیٹ یا اجتماعی مباحثہ میں اینکر کا رول غیر جانب دار کا نہیں بلکہ ایک فریق کا ہو جاتا ہے۔
سی آئی آئی کے صدر نے حکومت اور اراکین کے لیے ۱۰ نکات پر مشتمل ایک لائحہ عمل دیا ہے جو موجدہ چیلنجز سے نبرد آزما ہونے میں کار گر ہوسکتا ہے۔ سی آئی آئی کا یہ زمینی نقشہ یعنی انڈیا ایک ہی متبدل تصویر کو سامنے لاتا ہے جس میں حکومت سے ملی تعاون لینے سے زیادہ صحت تعلیم، غرباء کے لیے بہتر سہولت پر زیادہ زور دیا گیا ہے تاکہ وہ وہ اپنے خورد نوش کے لیے بہتر کوشش کرسکیں۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ ۸۰ فیصد روزگار غیر منظم سیکٹر میں ہے جہاں کسی طرح کی سماجی سلامتی نہیں ہے۔ غیر منظم سیکٹر کو منظم سیکٹر میں
یہ بات جہاں خوش آئند ہے کہ ملک کے بالغ ذہن افراد حالات سے شاکی اور منتظر فردا رہنے کے بجائے مشکل اور غیر یقینی حالات کا بھر پور مقابلہ اور اپنی صلاحیتوں کو عصری تقاضوں کے مطابق بنانے کے عزم وحوصلے کے ساتھ سینہ سپر ہیں وہیں ملک بھر میں کرونا وائرس کی وجہ سے تعلیمی اداروں کی مسدودی کے بعد متعارف کیا جانے والا ای لرننگ یا آن لائن ایجوکیشن سسٹم ٹکنالوجی سہولتوں کی کمی یا فقدان کے باعث تعلیم اداروں اور طلبہ کے لیے پریشانی کا باعث بن گیا ہے

