ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
ہفت روزہ دعوت – شمارہ 9 تا 15 اگست 2020
ہفت روزہ دعوتایسا نہیں ہے کہ سیکولر حکومت میں مسلمان مسائل سے دو چار نہیں تھے ۔ وطن عزیز کا المیہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد تقریباً ۶۵ سال ملک پر سیکولر کانگریس کی حکومت تھی لیکن مسلمان اس طویل مدت میں ایک دن بھی مسائل سے آزاد نہیں رہے۔ بھارت کو مسلمان اپنا وطن سمجھتے ہیں۔ اس پر جتنا دوسروں کا حق ہے اتنا ہی مسلمانوں کا حق بھی ہے اس لیے مسلمانوں نے اس ملک کی ہمہ جہت تعمیر میں اپنا خون پسینہ ایک کر کے اپنی ذمہ داری ادا کی اور اپنا رول بخوبی نبھا یا ہے ۔
ہفت روزہ دعوتتحریک مجاہدین کوئی ہنگامی حادثہ نہیں تھی بلکہ یہ ملت اسلامیہ ہندکے دو عظیم سپوتوں کی حریت پسندی، اخلاص، استقامت اور دین و ایمان کے تئیں حساسیت کا ایک نادر نمونہ تھی۔
ہفت روزہ دعوتآر ایس ایس نے ملک کی اِس حیثیت اور اس کے دستور کو عملی اعتبار سے بے کار بنا کر رکھ دیا ہے۔ کورونا وائرس کے دور میں بھی وہ اپنے ایجنڈے سے غافل نہیں ہے۔پہلے تو اس نے ایک دین اور اس کے پیروکاروں کو اس ملک اور یہاں کے باشندوں کا دشمن قرار دیا۔ پھر اس فرضی دشمن کے خلاف پاٹھ شالاؤں سے کالجوں تک کے ذریعے عوام کو اس قدر ورغلایا کہ ۵؍اگست کا میدان تیار ہوگیا۔
ہفت روزہ دعوتفی زمانہ ملک میں علی الاعلان لوٹ مار کا کاروبار جاری و ساری ہے ۔ اپنے مخالفین کو قابو میں کرنے کے لیے خوف دہشت پھیلانا عصر حاضر کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ اس وبا کے جراثیم سیاست سے نکل کر عدالت کی دہلیز پر پہنچ چکے ہیں ۔ ڈر کا کاروبار ایک دو دھاری تلوار ہے اس میں ڈرانے والا جب ناکام ہوتا ہے تو خود ڈر جاتا ہے۔ پرشانت بھوشن کے معاملے میں یہی ہوا کہ پہلے عدالت عظمیٰ نے انہیں ڈرانے کی کوشش کی لیکن جب وہ نہیں ڈرے تو عدالت خود ڈر گئی۔
ہفت روزہ دعوتملک کے مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ آفاقی دین و شریعت کے امین ہیں۔ ان کا منصبی مقام ’داعی‘ ہونے سے وابستہ ہے۔ نصح و خیرخواہی ان کا فریضہ ہے۔ اعلائے کلمۃ الحق اور انسانوں کی دنیوی و اخروی فلاح و نجات ان کا نصب العین ہے۔ اتحاد و احترام، خدمت خلق، حکمت و مؤدت، صبر و ضبط نیز امن و سلامتی کے راستے سے ان کو اپنی، ملک کی اور تمام عالم کے انسانوں کی تقدیر سنوارنے کا فریضہ سرانجام دینا ہے۔ لہذا انہیں نہ ہتھیار ڈالنا ہے نہ غافل رہنا اور جال میں پھنسنا ہے اور نہ مایوس ہونا ہے بلکہ ہر آزمائش کو من
ہفت روزہ دعوتملک کو اب اس فکر اور سوچ سے بھی آزادی دلانا لازمی ہے جو لگاتا رہماری روایات کو مخدوش و مجروح کررہی ہیں۔ اکابر و اسلاف اور مجاہدین کی قربانیوں اور ان کی روح کو سکون پہنچانے کے لیے ضروری ہیکہ ملک کے تمام طبقات کے ساتھ یکساں سلوک و برتاؤ کیا جائے تاکہ وطن عزیز کا جمہوری اور آینی نظام مستحکم ہوسکے۔
ہفت روزہ دعوتایک جائزے کے مطابق جولائی کے دوران عام گھروں میں ابھی بھی لوگ خرچ پر لگام لگائے ہوئے ہیں۔ کووڈ ۱۹ کا اثر بہت گہرا ہے۔ یہ پہلا مالی سال ہے جس کے چار ماہ گزر جانے کے باوجود ابھی تک کوئی سرکاری ایجنسی سالانہ معیشت کی ترقی کی شرح کا ہدف طے نہیں کرسکی ہے۔ امید تھی کہ جمعرات کو مالی منصوبے کے تجزیہ کے دوران اس کا اعلان آئے گا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا حالانکہ پہلی بار آر بی آئی نے تسلیم کیا ہے کہ مالی سال 21-2020 کے دوران ملکی جی ڈی پی کی شرح نمو منفی رہے گی۔
ہفت روزہ دعوتحقیقی آزادی تب ہی کہی جاسکتی ہے جب ہم پورے ہندوستان اور اس میں بسنے والے تمام طبقات کو اس راستے پر لے کر چلیں جس پر چلنے کا تقاضہ ہمارا دستور کرتا ہے۔ آزادی نے ہمیں جو خود مختاری دی تھی وہ کسی ایک مخصوص طبقے، نسل یا خطے کے لیے نہیں تھی بلکہ سب کو یکساں ترقی کے مواقع اور مساوات کا حق دیا تھا
ہفت روزہ دعوتآج لوگوں کے لیے کوئی میڈیا نہیں ہے۔ لوگ میڈیا کے لیے ہیں۔ آزادی کے بعد کی اور آج کی صحافت کے درمیان یہ سب سے بڑا فرق ہے۔میڈیا اب جیسا چاہتا ہے، اس طرح سے لوگوں کو اپنی مرضی کے مطابق اپنی دھن پر رقص کراسکتا ہے۔ کتنا ہنسنا ہے، کیا پہننا ہے،کیا کھانا ہے، کیسے رہنا ہے، آپ کو کتنا ہندو بننا ہے، کتنا مسلمان رہنا ہے،کتنا سکھ بننا ہےاور کتنا سیکولر بننا ہے، آج یہ سب کچھ میڈیاطے کرتا ہے۔ 24 گھنٹے ہم اس کی نگرانی میں رہتے ہیں۔ اس کے پاس ہمارے 24 گھنٹوں کا ایک مکمل شیڈول رہتا ہے۔ اور ہم اس کے ساتھ س

