یونین پبلک سروس کمیشن میں کامیابی چیلنج سے کم نہیں
یونین پبلک سروس کمیشن میں کامیابی چیلنج سے کم نہیں
ہفت روزہ دعوت کے شمارے اور مضامین
یونین پبلک سروس کمیشن میں کامیابی چیلنج سے کم نہیں
ہندوستا نی سنیما: مسلمانوں کی مثبت تصویر سے منفی تصویر تک کا سفر
گناہ گار: تنقید برائے اصلاح کو دبانا تشویشناک امر ہے
سوامی جی نے قرآن مجید پر 159 اعتراضات کئے ہیں مگر مولانا نے ان تمام اعتراضات کے جوابات انتہائی تسلی بخش طریقے سے دیے ہیں۔ مولانا موصوف کی یہ کتاب بھی مناظرانہ تمام اسلوب و آداب سے مزین ہے۔ خاص طور پر جب بھی انہوں نے سوامی جی کا کوئی جملہ یا تذکرہ کیا ہے تو ان کا نام انتہائی احترام سے لیا ہے۔ مولانا کے جواب میں کہیں بھی تعصب اور تنگ نظری نظر نہیں آتی ہے۔
انہوں نے اپنی تحریروں میں اصلاح اور اسلام کو سب سے اوپر رکھا۔ جس پیمانے پر ان کی تربیت و پرورش ہوئی تھی وہ اس پر ہمیشہ قائم رہے۔ انہوں نے اس سے روگردانی کی کبھی کوشش نہیں کی۔ ان کے ادب میں اصلاح معاشرہ کا پیغام نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔
کمپیوٹر کا استعمال آج کل اتنا زیادہ عام ہوگیا ہے کہ اِس کے بغیر کام ہی نہیں چل سکتا ہے۔اب کرونا وائرس کی وجہ سے تو ’’ورچوئلایزیشن‘‘ کا زمانہ آگیا ہے اور آفس کے تمام کام سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر رہے ہیں۔ اِس سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور موبائل فون کس طرح ہماری زندگی پر حاوی ہو چکے ہیں؟ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ اور موبائل سے جہاں اتنی آسانیاں پیدا ہوئی ہیں وہیں کچھ مسائل بھی نمودار ہوئے ہیں۔ جن میں ’’پرائیویسی، آن لائن فراڈ، وائرس اور ہیکنگ‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
للن بھیا! کیا تم نے لاک ڈاؤن میں لاکھوں انسانوں کو سڑکوں پر چلتے، بھوک اور پیاس سے دم توڑتے اور ریلوں اور بسوں سے کچلتے نہیں دیکھا۔ \nیہ تو ہر کسی نے دیکھا ہے کلن۔ ایسا کون انسان ہے جس نے یہ دردناک مناظر نہیں دیکھے۔\nبھائی للن! لیکن نہ تو ہماری عدالت کو وہ دکھائی دیتے ہیں اور جمہوری سرکار کو وہ لوگ نظر نہیں آتے۔ کیا سمراٹ اشوک کے زمانے میں یہ ممکن تھا ؟\nنہیں کلن بھیا۔ سمراٹ اشوک ایسا سنگدل نہیں تھا کہ اپنے لوگوں کو اس طرح بھوکا پیاسا چھوڑ کر اپنی آنکھیں موند لیتا۔
’میرے مالک نے اپنی مہربانی سے ہم پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھول دیے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ذخیرے کا ابتدائی تخمینہ 11300 ارب مکعب فٹ یا 11.3tcfہے۔ انہوں نے دعا کے انداز میں ہاتھ بلند کرتے ہوئے کہا ’اِن شاء اللہ ہمارا رب ہمیں مزید نوازے گا‘
ہمارے لیے شہادتِ حسین ؓ میں یہ پیغام ہے کہ جہاں جس جگہ جو بھی بگاڑ دیکھیں اس کی اصلاح کے لیے تن من دھن کی بازی لگادیں۔ یہی منصبِ امّتِ مسلمہ ہےجس کے لیے ہم کو اللہ تعالیٰ نے ساری انسانیت کے لیے نکالا ہے۔یہ منصب ہے امر بالمعروف و نہی عن المنکرکا۔بگاڑ آغاز میں بہت حقیر اور کمتر نظر آتا ہے لیکن اس کو نظرانداز کردیا جائے تو یہ وقت کے ساتھ قابو سے باہر ہوجاتاہے۔

