تمام مضامین

ہفت روزہ دعوت

ایماندارانہ صحافت :وقت کاتقاضا

موجودہ دور میں اس شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھتے جا رہے ہیں۔ ایک جرنلسٹ کے طور پر اخبارات، میگزین، ٹی وی چینلس، نیوز پورٹلس وغیرہ میں اچھے مواقع ہیں جب کہ ماس میڈیا میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے کانٹینٹ رائیٹنگ، ایڈور ٹائزنگ، فلم، غیر تجارتی اداروں، رابطہ عامہ، کارپوریٹ کمیونیکیشن اور دیگر میڈیا ایجنسیوں میں روزگار کے مواقع دستیاب ہیں۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

تجارت کے لیے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی کی جائے

تجارت معیشت کا بہترین ذریعہ ہے جو اگر اچھے، نیک اور خیر خواہ لوگوں کے ہاتھوں میں ہو تو اس کے بہترین اثرات معاشرے میں دکھائی دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں بڑی برکت رکھی ہے۔ یہ صبر آزما اور تسلسل کے ساتھ انجام دیا جانے والا عمل ہے۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

ٹک ٹاک پر پابندی،الجزیرہ پر شکنجہ! اظہار کی آزادی پرامریکی حملہ

خود کو عقلِ کُل سمجھنے والے صدر ٹرمپ ان باتوں پر کان نہیں دھرتے۔ 31 جولائی کو امریکی صدر نے بائٹ ڈانس کو متنبہ کیا کہ اگر اس نے اپنے ذیلی ادارے ٹک ٹاک کی امریکی شاخ مقامی سرمایہ کاروں کے ہاتھ فروخت نہ کی تو اس پر صدراتی حکم کے ذریعے پابندی لگا دی جائے گی۔ صدر ٹرمپ کی یہ دھمکی آزادی اظہار رائے پر حملے کے ساتھ آزادانہ تجارت کے اصولوں کے بھی خلاف تھی۔ آزاد تجارت سرمایہ دارانہ معیشت کی روح ہے اور امریکہ کے قدامت پسند بہت فخر سے کہتے پھرتے ہیں کہ حکومت تو بس دیانتدار ریفری ہے اور کاروبار تاجروں کا

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

خبر و نظر

ہمارے نزدیک یہ سدرشن ٹی وی اُن عناصر کا حصہ ہے جو مرکزی حکومت نے سماجی ڈھانچے میں دراڑیں ڈالنے کے لیے پورے ملک میں چھوڑ رکھی ہیں۔ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں حکومت کے ایماء پر کرتے ہیں۔ 2014 میں نئی حکومت کے آتے ہی لوگوں کو گئو کشی کے نام پر مار ڈالنے کا کام شروع کر دیا گیا، تحفظ گاؤ کا قانون بنا کر قاتلوں اور بدمعاشوں کو پوری اجازت دے دی گئی کہ وہ جو چاہیں کریں۔ حکمراں پارٹی کے لیڈروں کو اجازت ہے کہ عوام کو مشتعل کرنے کے لیے جس طرح کے بھاشن دینا چاہیں دیں۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

’’مجھے اپنی نہیں آنے والی نسلوں کی فکر ہے‘‘

جب کوئی حکومت اپنے ہی اقلیتی شہریوں کے خلاف کام کرتی ہے تو اس کے اس قدم کے خلاف بھی صدائیں ضرور بلند کی جاتی ہیں۔ اور ان صداؤں کو دنیا نہ صرف سنتی ہے بلکہ سراہتی بھی ہے۔ دادی بلقیس بھی مزاحمت کی وہ زندہ مثال ہے جسے دنیا نے نہ صرف سراہا بلکہ شاہین باغ کے پرامن احتجاج میں ان کے شانہ بشانہ ساتھ بھی دیا۔ اس احتجاج کے جو مطالبے تھے ان پر بھی دنیا نے مہر تسلیم ثبت کی۔ اب ’ٹائم میگزین‘ نے بھی دادی کو بااثر خواتین میں جگہ دے کر یہ ثابت کردیا ہے کہ شاہین باغ کی تحریک ایک انقلابی تحریک اور جائز مطالبہ ہے

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

کشمیر کی اَن کہی سرگزشت

اقبال کشمیر میں فطرت کے حسن وجمال کے پرستار ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیری مسلمانوں کی غربت، ناخواندگی، غلامانہ ذہنیت، مریضانہ عادتیں، توہمات، قبر پرستیاں، اقتصادی استحصال، سیاسی بدحالیاں وغیرہ.. غرض کشمیر کے بارے میں ہر منفی چیز اُن کے حریمِ قلب کو تڑپاتی اور آنکھوں کو خون کے آنسو رُلاتی تھی۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

پونا پیکٹ۔ ہندوستانی سیاست کا ایک اہم باب

گاندھی جی کے مرن برت کے سبب امبیڈکر ویلن بن گئے کیوں کہ ان کی ضد کے سبب فادر آف نیشن کی زندگی داؤ پر لگ گئی تھی۔ نرم اور سخت ہندوتوادی ان کے خلاف ہوگئے تھے۔ ٹیگور اور نہرو جیسے لوگ بھی گاندھی کے طرف دار ہو گئے۔ ملک کے سبھی بڑے سیاست داں امبیڈکر کے خلاف ہو گئے یہاں تک خود امبیڈکر کے ساتھی بھی ان کے خلاف ہو گئے۔ دلتوں کا احساس تھا کہ اگر گاندھی جی کو کچھ ہو جاتا ہے تو اس صورت میں دلت ذمہ دار ٹھیرائے جائیں گے اور پورا سماج گاندھی کی موت کا بدلہ دلتوں سے لے گا۔ امبیڈکر اپنی بات دلیل سے رکھنے کی کو

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

یہ ’ٹائم‘ کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

’’میں یہاں رگوں میں خون کی گردش بند ہونے تک برسر احتجاج رہوں گی تاکہ ملک کے بچوں اور دنیا کے لیے انصاف و مساوات کی پرسکون فضا قائم ہو سکے‘‘۔ عدل و امن کے اسی عظیم جذبہ کی قدر دانی کرتے ہوئے ٹائم میگزین نے شاہین باغ کی دادی کو دنیا کی 100 بااثر شخصیات میں شامل کیا ہے۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

شاہین باغ تحریک کی عالمی پذیرائی

’جمہوریت کے لیے بنیادی بات محض آزادانہ انتخابات نہیں ہیں۔ انتخابات محض یہی طے کرتے ہیں کہ کسے سب سے زیادہ ووٹ حاصل ہوئے۔ لیکن اس سے زیادہ اہمیت ان لوگوں کے حقوق کی ہے، جنہوں نے جیتنے والوں کو ووٹ نہیںدیا۔ انڈیا گزشتہ سات دہائیوں سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر برقرار ہے۔ یہاں 1.3 ارب آبادی میں مسیحی، مسلمان، سکھ، بودھ، جین اور دیگر مذاہب کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ سب انڈیا میں رہتے ہیں، جس کی دلائی لاما ہم آہنگی اور استحکام کی مثال کے طور پر تعریف کرتے ہیں۔ نریندر مودی نے ان تمام باتوں کو تشو

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

موقف: زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج کیوں ہیں؟

حکومت کا یہ کہنا غلط ہے کہ اس بل کے ذریعہ سے کسان اپنی پیداوار کسی کو بھی فرخت کر سکتے ہیں اور اسے ذخیرہ کر سکتے ہیں۔ انہیں یہ حق اس بل سے پہلے بھی حاصل تھا بلکہ اس کے برعکس اس بل سے کارپوریٹس کو اور سرمایہ داروں کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ لا محدود مقدار میں کسی روک ٹوک کے بغیر ذخیرہ اندوزی کر سکتے ہیں۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

کشمیر کی صحافت پر خوف کے سائے

مجموعی طور عوام نے جموں و کشمیر کے صحافتی ادروں سے اپنی مایوسی کا ہی اظہار کیا ہے۔ یہ مایوسی عوام میں تب اور بڑھی جب گزشتہ ماہ محرم میں وادی کی شیعہ برادری کے جلوسوں پر انتظامیہ کی قدغن اور فورسز کا جلسوں میں شریک لوگوں پر پیلٹ گنوں کے بے دریغ استعمال کو، کوئی خاص کوریج یہاں کے اخبارات نے نہیں دی۔ اسی طرح سے سوپور میں ایک نوجوان کا پولیس حراست میں ماورائے عدالت قتل جیسی خبروں کے حوالے سے بھی کشمیری عوام یہاں کے صحافتی اداروں سے نالاں نظر آرہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافتی ادارے صحافتی اُصول

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

افغان طالبان اسلامی نظام کے قیام پر اٹل

طالبان سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے العربی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ: ہم شروع سے جنگ بندی اور ملک میں امن چاہتے ہیں اور تمام لوگ جانتے ہیں کہ یہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی ہے بلکہ غیر ملکیوں نے ہم پر تھوپی ہے۔اخبار’الوسیط‘ نے اپنے ایک مضمون ’افغان حکومت اور طالبان کے درمیان تاریخی بات چیت‘ میں لکھا:’’اگرچہ طالبان اور افغان حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہو گئے ہیں لیکن اگلے مرحلہ میں کیا ہوگا اس کا علم کسی کو نہیں ہے‘‘۔کویت کے اخبار’الجریدۃ‘ نے اپنے مضمون ’دوحہ میں طالبان اور کابل کے مابین تاریخ

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
ہفت روزہ دعوت

معیشت کی تباہی کے بعد زراعت کی کمر ٹوٹی

مرکزی حکومت نے کسانوں کے متعلق مزید دو فیصلے کیے ہیں اول، زرعی پیداوار اور (تجارت میں فروغ اور سہولت) آرڈیننس 2020 لایا گیا ہے اس کے ذریعے کسان اپنی فصل اور زرعی فصل منڈیوں کے باہر تاجروں کو فروخت کر سکیں گے۔ دوم، کنٹراکٹ پر مبنی زراعت کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے۔ یہ دونوں فیصلے کسی طرح بھی کسانوں کے حق میں نہیں ہیں لیکن حکومت اپنے سرمایہ کاروں اور صنعت کار دوستوں کے مفاد کی خاطر ان کو نافذ کرنے پر مصر ہے

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
تازہ ترین

بابری مسجد کا انہدام ایک سوچی سمجھی سازش تھی: جسٹس لبرہن

سابق جج اور لبرہن کمیشن کے سربراہ جسٹس لبرہن نے آج کہا کہ بابری مسجد کا انہدام کوئی اچانک پیش آنے والا ہجومی واقعہ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے منصوبہ بند سازش تھی جسے آر ایس ایس اور اس کی ذیلی سیاسی و غیر سیاسی تنظیموں نے انجام دیا۔

دعوت نیوز1 اکتوبر 2020
سیاست

ہاتھرس: چندر شیکھر آزاد کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یوپی پولیس نے بھیم آرمی کے چیف اور اس کے دہلی یونٹ کے سربراہ کو گذشتہ رات حراست میں لیا تھا

ہاتھرس: چندر شیکھر آزاد کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ یوپی پولیس نے بھیم آرمی کے چیف اور اس کے دہلی یونٹ کے سربراہ کو گذشتہ رات حراست میں لیا تھا

دعوت نیوز30 ستمبر 2020
احوالِ وطن

2019 میں یوپی میں خواتین پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات، ہندوستان بھر میں روزانہ اوسطاً 87 عصمت دری کے معاملات درج ہوئے: این سی آر بی

2019 میں یوپی میں خواتین پر تشدد کے سب سے زیادہ واقعات، ہندوستان بھر میں روزانہ اوسطاً 87 عصمت دری کے معاملات درج ہوئے: این سی آر بی

دعوت نیوز30 ستمبر 2020