احوالِ وطنمجھے بی جے پی محبِ وطن کے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں: ممتا بنرجی
مجھے بی جے پی محبِ وطن کے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں: ممتا بنرجی
دعوت ڈیسک20 دسمبر 2019
احوالِ وطنمجھے بی جے پی محبِ وطن کے سرٹیفیکٹ حاصل کرنے کی ضرورت نہیں: ممتا بنرجی
تازہ تریناناؤ: عصمت دری معاملہ میں بی جے پی کے سابق ایم ایل اے کلدیپ سینگر کو عمرقید
احوالِ وطناے ایم یو تشدد: طلبہ یونین کے صدر سمیت 26 لوگوں کے خلاف کیس درج
احوالِ وطنبی جے پی نے اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے مسلمانوں کو بنایا بلی کا بکرا: سابق سپریم کورٹ جج
احوالِ وطنجمعہ کی نماز کے دوران شر پسندوں سے رہیں محتاط:ممتا بنرجی
احوالِ وطنگوہاٹی: ہائی کورٹ نے آسام سرکار سے موبائل انٹرنیٹ خدمات بحال کر نے کو کہا
احوالِ وطنشہریت ترمیمی قانون: اتر پردیش کے لکھنؤ اور سنبھل میں تشدد، پتھراؤ اور آگ زنی
شہریت ترمیمی قانون اور جامعہ اور اے ایم یو طلبا پر پولس تشدد کے خلاف سینکڑوں لوگوں نے کیا جامع مسجد پر جمع ہو کر احتجاج
احوالِ وطنگجرات یقنیاً نافذ کرے گا شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی: وزیراعلیٰ وجے روپانی
احوالِ وطنشہریت ترمیمی قانون: بیڑیاں پہن کر سڑک پر اترے سابق ممبر پارلیمنٹ پپو یادو
شہریت ترمیمی قانون: دہلی میں سیتا رام یچوری، پرشانت بھوشن اور ہرش مندر گرفتار، دہلی کے بعض علاقوں میں موبائل انٹرنیٹ معطل
احوالِ وطنجامعہ تشدد: دہلی ہائی کورٹ نے طلبا کو فوری راحت دینے سے کیا انکار، حکومت کو جاری کیا نوٹس
تازہ ترینشہریت ترمیمی قانون : یہ ملک کی سالمیت و اتحاد کے لیے بہت خطرناک ہے
احوالِ وطناس بار آپ ہمیں نہیں روک پائیں گے: اروندھتی رائے
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر مظاہرے، دہلی سمیت ملک بھر میں ہزاروں افراد زیرِ حراست
احوالِ وطنایودھیا: انتظامیہ نے اشفاق اللہ خاں کے یوم شہادت پر منعقد ہو نے والی تقریبات پر لگائی روک
تازہ ترین2014 کے بعد سے حالات بدل گئے ہیں۔ ہم’ہم‘ سے ’وہ‘ میں بدل دیے گئے، اب میری پہچان ’انڈین‘ نہیں، ’انڈین مسلم‘ ہوکر رہ گئی ہے۔ اب میں صرف ایک بھارتی مسلمان ہوں۔ میری ریاست سے پہلے میری شناخت میری مذہب ہے۔
کہنے کو تو بھارت تنوع میں اتحاد کا ملک ہے، لیکن اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ محض دل کو بہلانے والی بات ہے۔ ابھی حال ہی میں، راجستھان میں ایک مسلم پولیس اہل کار کو داڑھی رکھنے سے روک دیا جاتاہے، اترپردیش میں ایک مسلمان پرنسپل کو صرف اس لیے معطل کردیا جاتا ہے کہ علامہ اقبال کی لکھی اردو نظم بچوں سے پڑھوا دی۔ فارسی کے بعد اب اردو کو بھی بیرونی زبان قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔
بھارت میں اقلیتی طبقوں کے ساتھ سرکاری سطح پر جو ظلم ڈھائے گئے ہیں، ان کی نظیر کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی سرکاری سطح پر دوہرا معیار جاری رہا۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے لیے عدالتوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ یہی حال پڑوسی ملک پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں کا رہا۔ میری رائے میں برصغیر کو متمدن ہونے میں ابھی پچاس برس کا وقت درکار ہے
تازہ ترین