تمام مضامین

تازہ ترین

اب میری پہچان ’انڈین‘ نہیں، ’انڈین مسلم‘ ہوکر رہ گئی ہے۔۔۔

2014 کے بعد سے حالات بدل گئے ہیں۔ ہم’ہم‘ سے ’وہ‘ میں بدل دیے گئے، اب میری پہچان ’انڈین‘ نہیں، ’انڈین مسلم‘ ہوکر رہ گئی ہے۔ اب میں صرف ایک بھارتی مسلمان ہوں۔ میری ریاست سے پہلے میری شناخت میری مذہب ہے۔

افروز عالم ساحل18 دسمبر 2019
تازہ ترین

آگے حالات مزید خراب ہونے والے ہیں۔۔۔ 

کہنے کو تو بھارت تنوع میں اتحاد کا ملک ہے، لیکن اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ محض دل کو بہلانے والی بات ہے۔ ابھی حال ہی میں، راجستھان میں ایک مسلم پولیس اہل کار کو داڑھی رکھنے سے روک دیا جاتاہے، اترپردیش میں ایک مسلمان پرنسپل کو صرف اس لیے معطل کردیا جاتا ہے کہ علامہ اقبال کی لکھی اردو نظم بچوں سے پڑھوا دی۔ فارسی کے بعد اب اردو کو بھی بیرونی زبان قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

افروز عالم ساحل18 دسمبر 2019
تازہ ترین

کیونکہ نیت میں کھوٹ جگ ظاہر ہے۔۔۔

بھارت میں اقلیتی طبقوں کے ساتھ سرکاری سطح پر جو ظلم ڈھائے گئے ہیں، ان کی نظیر کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی سرکاری سطح پر دوہرا معیار جاری رہا۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے لیے عدالتوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ یہی حال پڑوسی ملک پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں کا رہا۔ میری رائے میں برصغیر کو متمدن ہونے میں ابھی پچاس برس کا وقت درکار ہے

دعوت ڈیسک18 دسمبر 2019