کہنے کو تو بھارت تنوع میں اتحاد کا ملک ہے، لیکن اگر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ محض دل کو بہلانے والی بات ہے۔ ابھی حال ہی میں، راجستھان میں ایک مسلم پولیس اہل کار کو داڑھی رکھنے سے روک دیا جاتاہے، اترپردیش میں ایک مسلمان پرنسپل کو صرف اس لیے معطل کردیا جاتا ہے کہ علامہ اقبال کی لکھی اردو نظم بچوں سے پڑھوا دی۔ فارسی کے بعد اب اردو کو بھی بیرونی زبان قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہزاروں ایسے واقعات دیکھنے کو مل جائیں گے اور یہ سب حکومت کی سرپرستی میں ہو رہا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ سب صرف مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے، بلکہ ہمارے ملک میں دیگر اقلیتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ایک طرف حکومت کے ذریعہ چلائے جانے والے منصوبوں اور سہولیات کے فوائد صحیح وقت پر دستیاب نہیں ہیں۔ اوپر سے وہ ادارے جسے مسلمانوں نے قائم کیا ہے، وہاں بھی مداخلت کی جا رہی ہے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کا اقلیتی کردار چھیننے کی کوشش اسی کا حصہ ہے۔ اس کے باوجود، 18 دسمبر کو یہ لوگ بھارت میں اقلیتی حقوق کا دن مناتے ہیں۔ اس موقع پر اقلیتی کمیشن سمیت مختلف تنظیمیں مختلف پروگراموں کا انعقاد کرتی ہیں۔ یہ دن اقلیتوں کو آگے لانے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے منایا جاتا ہے۔ لیکن ملک میں اقلیتیں ہی محفوظ نہیں ہیں۔ ہر وقت ڈر کے سائے میں جی رہی ہیں۔ پھر اس جشن کا کیا مطلب ؟ ضرورت ہے کہ اقلیتوں کی رہنمائی کرنے والے تمام ملی و سماجی لیڈر اس موقع پر ایک پلیٹ فارم پر آکر آگے کی حکمت عملی پر غور کریں، بصورت دیگر، آگے حالات مزید خراب ہونے والے ہیں۔


تبصرے
لائیو ورژن میں تبصرے کا سیکشن فعال ہوگا۔ دعوت نیوز کمیونٹی کے ساتھ اپنا نقطۂ نظر شیئر کرنے کے لیے سائن اِن کریں۔