برصغیر میں اکثریتی طبقے اور ان کے تعاون سے بنی حکومتیں اپنے جمہوریت پسند ہونے کا بلند بانگ دعویٰ تو بہت کرتی ہیں، تاہم غور کیجیے تو برصغیر کے تینوں ملکوں میں اقلیتی طبقہ خود کو اجنبی لوگوں میں گھرا ہوا پاتا ہے۔ عالمی یوم اقلیتی حقوق پر سرکاری سطح پر کافی شور شرابہ ہوتا ہے اور یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے گویا اقلیتوں کے حقوق مکمل طور پر محفوظ ہیں، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بھارت میں اقلیتی طبقوں کے ساتھ سرکاری سطح پر جو ظلم ڈھائے گئے ہیں، ان کی نظیر کہیں اور ملنا مشکل ہے۔ آزادی کے بعد سے ہی سرکاری سطح پر دوہرا معیار جاری رہا۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کے لیے عدالتوں کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ یہی حال پڑوسی ملک پاکستان اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں کا رہا۔ میری رائے میں برصغیر کو متمدن ہونے میں ابھی پچاس برس کا وقت درکار ہے، جب وہ اپنی اقلیتوں کو بھی اپنی طرح ہی کا انسان سمجھ سکیں گے۔ اور عدالتیں حقوق کی پامالی کرنے والوں کو خاطرخواہ سزا دے سکیں۔ ایسے میں برصغیر میں یوم اقلیتی حقوق کا مانایا جانا محض ایک سرکاری شوشہ ہے، اور سرکاری عملہ اور ان کے حواریوں کے لیے پیٹھ تھپتھپانے کا ایک موقع ہے۔ اس شوشےسے اقلیتوں کا کچھ بھلا ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے، کیونکہ نیت میں کھوٹ جگ ظاہر ہے۔