کیریئر گائڈنس: آج ہمارے لیے سِول سروسز کیوں ضروری ہیں؟

ڈاکٹر سلمان عابد

 

ہندوستان میں سرکاری ملازمت کے شعبے میں سیول سروسز سب سے بڑی خدمات ہیں جن تک پہنچنے کا خواب ہر ایک تعلیم یافتہ نوجوان کا ہوتا ہے۔ ہمارے شانہ بہ شانہ جو قومیں زندگی کے راستے پر چل رہی ہیں وہ ان خدمات کا خواب بہت پہلے سے دیکھنے لگتی ہیں۔ ان کے والدین انہیں یہ خواب دیکھنے کا ماحول فراہم کرتے ہیں اور جب یہ تعلیم کی گریجویٹ منزل تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر اپنے اس خواب کی تکمیل میں جٹ جاتے ہیں اور ان میں سے بیشتر اپنے خواب کی تعبیر بھی پا جاتے ہیں۔
آج کل مسلم نوجوان بھی دیگر نوجوانوں کے شانہ بہ شانہ ان خدمات کا خواب کم کم ہی سہی لیکن دیکھ رہے ہیں اور تعبیر بھی پا رہے ہیں۔ یہاں اس خوشی کا اظہار بھی ضروری ہے کیوں کہ یہ بات نہایت حوصلہ افزا ہے کہ ہماری بہت ہی کم تعداد ان امتحانوں کی طرف راغب ہو رہی ہے مگر اس کم کم تعداد کے باوجود کامیابی کا جو فیصد ہر سال ہمارے سامنے آ رہا ہے وہ دیگر اقوام کے تناسب کے مقابلے میں بہت ہی حوصلہ افزا ہے۔ فرض کیجیے کہ 5000 طلبا نے سیول سروسز کا پہلا امتحان لکھا اس میں 500 طلبا نے کامیابی حاصل کی اور ان امتحانوں کے دوسرے مرحلے یعنی مین امتحان کے لیے منتخب کیے گئے۔ یہ مرحلہ بھی کوئی نصف تعداد نے کامیاب کر لیا اور ان امتحانوں کے آخری مرحلے یعنی انٹرویو کے لیے منتخب کیے گئے اور ان میں سے 50 طلبا کو انٹرویو کے لیے طلب کیا گیا جن میں 42 طلبا نے کامیابی حاصل کی اور سِول سروسز کی کسی نہ کسی خدمت سے منسلک ہو گئے۔ چنانچہ سال 2019 میں یہی ہوا جب 42 مسلم نوجوانوں نے سِول سروسز میں کامیابی حاصل کی۔ جن میں سے آج کئی آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی آر ایس وغیرہ ہو گئے ہیں۔
سیول سروسز کیا ہے؟
سیول سروسس ایک ایسی سرکاری ملازمت ہے جو ہندوستان کی تمام ملازمتوں میں سب سے اوپر ہے۔ یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان خدمات میں ایک طرح کی آن، بان اور شان ہے۔ جب تک خدمت سے وابستہ رہیں گے عزت، وقار، شان و شوکت اور تزک و احتشام سبھی کچھ ملتا رہے گا اور ممکن ہے کہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بھی ملتا رہے۔ یہ شان و شوکت نہ صرف فردِ واحد تک محدود رہتی ہے بلکہ یہ اس کے افراد خاندان میں بھی تقسیم ہوتی ہے۔ ان خدمات میں تین بڑی سروسز عام طور پر بہت مشہور اور طلبا میں مرغوب ہیں۔ آئی اے ایس، آئی پی ایس اور آئی ایف ایس۔ آئی اے ایس (کلکٹر، کمشنر) کسی بھی ضلع کا گویا کہ بادشاہ ہوتا ہے۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس عہدے کی کیا شان اور کیا اہمیت ہوتی ہے۔
سِول سروسز کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ یہ انسان کو خلاق بناتی ہے اور خلاقی کی صفت قدرتی وصف سے قریب ہوتی ہے۔ یعنی وہ ایسے عہدوں پر ہوتا ہے جہاں نہ صرف وہ اپنا کیریئر بنا چکا ہوتا ہے بلکہ اپنے حاصل شدہ اختیارات کی بدولت بہ یک جنبش قلم کئی ضرورت مندوں کا کیریئر بھی بنا سکتا ہے۔
کیسے بن سکتے ہیں آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس وغیرہ:
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بہترین اور پُر کشش خدمات پر کیسے فائز ہوا جا سکتا ہے اور کیسے بنا جا سکتا ہے آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس اور آئی آر ایس۔ وغیرہ۔ اس کے لیے تین بنیادی شرائط ہیں جو لازمی ہیں اور ان میں وقتاََ فوقتاََ ہلکی سی تبدیلیاں بھی کی جاتی رہتی ہیں۔
(۱) گریجویٹ ہوں (کسی بھی میڈیم، کسی بھی اسٹریم سے کامیاب ہوں۔ ان میں ایسے گریجویٹ بھی شامل ہیں جن کی مدت چار یا پانچ سال یا اس سے زیادہ ہو جیسے ایم بی بی ایس وغیرہ۔
(۲) حد عمر 32 سال ہو (محفوظ زمروں کے طلبا کے لیے یہ مدت زیادہ ہوگی)
(۳) یہ امتحان صرف 4 بار لکھا جا سکتا ہے۔ (اس سال تک یہ سہولت باقی ہے۔ اس میں رد و بدل اور تکثیر و تخفیف ہوتی رہتی ہے)
کب، کیسے اور کہاں تیاری کی جاسکتی ہے:
یہ سوال بڑا اہم ہے کہ ہم کب سے یہ تیاری شروع کریں کہاں سے کریں اور کس طرح کریں۔ اس کے لیے گزشتہ چند برسوں سے ہندوستان کے چند ایک اہم تعلیمی اداروں کے اہم ذمہ داروں نے بڑے غور وخوض کے بعد یہ مناسب سمجھا ہے کہ ایک طالب علم کو اسکول کی جماعتوں سے اس کے لیے تیار کیا جائے تو ہر سال سخت سے سخت بنائے جانے والے سیول سروسز امتحان کی پیچیدگیوں سے وہ بآسانی نبر آزما ہو کر کامیابی سے ہمکنار ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں کئی اداروں نے اسی سال سے اس کلیہ پر عمل کا آغاز کر دیا ہے اور ریاست کرناٹک کے شہر بیدر کے ممتاز تعلیمی ادارے شاہین نے ایک علیحدہ سیول سروسز اکیڈیمی قائم کی ہے اور آٹھویں جماعت ہی سے سِول سروسز کی تربیت کا آغاز کر دیا ہے۔ملک میں مرکزی حکومت اور بیشتر ریاستی حکومتوں کی جانب سے اس ضمن میں کئی اسکیمات پر عمل کیا جا رہا ہے جن کے تحت مسلم اقلیتی طالب علم کو بھر پور اسکالر شپ یا اسپانسر شپ مل جاتی ہے جس کی وجہ سے وہ گریجویشن کی تکمیل کے بعد ان اداروں یا ان اسکیمات کے توسط سے اونچے اور اعلیٰ کوچنگ سنٹرس میں کوچنگ حاصل کر سکتا ہے۔ جیسے مرکزی حکومت کی وزارت اقلیتی امور کی جانب سے ریاست تلنگانہ کے شعبہ اقلیتی بہبود، زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا، ہمدرد اسٹڈی سرکل اور شاہین سِول سروسز اکیڈیمی کی جانب سے ہر اسٹریم میں 20 طلبا کو مفت داخلہ کا اعلان کیا گیا ہے۔ حیدرآباد میں قائم تعلیمی ادارہ میسکو بھی ان دنوں ملک کے مسلم اقلیتی طلبا کے لیے سِول سروسز، یونین پبلک سروس کمیشن اور دیگر ریاستی سروس کمیشن کے گروپ اے کی خدمات کے لیے ایک بڑے امدادی پراجکٹ پر کام کر رہا ہے جس کے تحت ملک کے کسی بھی گوشے سے تعلق رکھنے والے مسلم اقلیتی طالب علم کو ان مسابقتی اور بالخصوص سِول سروسز کے امتحانات کی بہتر سے بہتر کوچنگ کے مواقع اور طالب علم کو درکار سپورٹ کی فراہمی یقینی ہوسکے گی۔ یہاں صرف چند ایک اداروں کے نام دیے گئے ہیں تاکہ بات سمجھائی جا سکے ورنہ ہر ریاست میں کوئی نہ کوئی ادارہ ذہین و فطین طلبا کی بھرپور اور مکمل مدد کے ساتھ ملک کے بہترین ریزیڈینشیل کوچنگ سنٹرز میں ان کے داخلے کو یقینی بنانے کے کاموں میں جٹا ہوا ہے (ان تمام کی تفصیل ہم اپنے اگلے مضمون میں پیش کریں گے)۔
سِول سروسز کے تین مرحلے
آئی اے ایس، آئی پی ایس، آئی ایف ایس اور ایسی ہی 23 دیگر خدمات سے وابستہ ہونے کے لیے منعقد ہونے والا یو پی ایس سی سِول سروسز امتحان تین مراحل پر مبنی ہوتا ہے۔
(1) سِول سروسز پریلیمنری امتحان (اس میں دو آبجکٹیو ٹائپ پرچے ہوتے ہیں۔ جنرل اسٹڈیز پیپر-۱، جنرل اسٹڈیز پیپر-۲) اسے سی سیاٹ بھی کہا جاتا ہے۔
(2) سِول سروسز مین امتحان (اس میں جملہ 9 پرچے ہوتے ہیں۔ان میں 7 پرچے میرٹ کے اور 2 کوالیفائینگ لینگویج کے پرچے ہوتے ہیں)
(3) انٹرویو/پرسنالٹی ٹسٹ
آئندہ سال کب ہوگا:
سِول سروسز پریلیمنری امتحان2021 اگلے سال 27 جون2021 کو منعقد ہوگا۔ اس کے لیے 10فروری2021 کو یو پی ایس سی کی جانب سے ملک کے اہم اخبارات میں اعلانیہ جاری کیا جائے گا۔ اسی دن سے آن لائن فارم کے ادخال کا آغاز ہوگا۔ 2 مارچ کو آن لائن درخواست داخل کرنے کی آخری تاریخ ہوگی۔
مشورہ:
موجودہ حالات کے پیش نظر، مذکورہ سہولتوں کے مد نظر مسلم اقلیتی طالب علموں میں سِول سروسز کی جانب ذہن سازی کی جانی چاہیے۔ اس لیے بھی کہ یہ امتحانات آج بھی اپنی صفائی اور شفافیت کے اعتبار سے اہم ہیں۔ ان کی مدد اور تعاون کے لیے موجود رہنمایانہ اداروں سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ جو آٹھویں جماعت میں ذہین لڑکے لڑکیاں ہوں وہ ابھی سے اس جانب توجہ کریں تو آئندہ آسانی ہوگی۔ جو گریجویشن کی تکمیل کر چکے ہیں اور پڑھائی میں بہت اچھے ہیں وہ بھی اس جانب راغب ہوں۔ سال دو سال پہلے اچھی تیاری کریں پھر پہلی بار سِول سروسز پریلیمنری میں شرکت کریں۔ انشاء اللہ کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔مزید تفصیلات و رہنمائی کے لیے رابطہ قائم کریں:
میسکو کیریئر گائیڈنس سیل حیدرآباد 040-24411907 ۔
شاہین سِول سروسز اکیڈیمی ۔6235 121 1800۔
ویب سائٹ
www.upsc.gov.in
www.shaheengroup.org
http://mescoeducation.com
www.shaheengroup.org
***

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 11-17 اکتوبر، 2020