وزیر اعظم کے’وِکسِت بھارت‘واٹس ایپ میسج پر الیکشن کمیشن سخت، فوراً روک لگانے کی ہدایت

گزشتہ روز بڑے پیمانے پر میسج لوگوں کو واٹس ایپ کیا گیا ،اپوزیشن جماعتوں کے اعتراض اور شکایت کے بعد ہوئی کاررروائی

نئی دہلی ،21 مارچ :۔

گزشتہ روز اچانک ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک کے کروڑوں ہندوستانیوں کے واٹس ایپ پر وزیر اعظم کی تصویر والا وکست بھارت کے تحت ایک میسج جاتا ہے ۔ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ میسج خود وزیر اعظم نے لوگوں کو کیا ہے۔لوک سبھا انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے ساتھ ساتھ ضابطہ اخلاق بھی نافذ ہو چکا ہے چنانچہ اس سلسلے میں کانگریس سمیت اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن میں شکایت درج کرائی ۔اور اس میسج کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیا۔   اب اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے سخت قدم اٹھاتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ اس میسج کو بھیجنے پر فوراً روک لگائے۔

مرکزی الیکشن کمیشن نے وزارت برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو ہدایت جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد بھی لوگوں کے پاس ’وِکسِت بھارت‘ سے جڑے پیغام جا رہے ہیں تو ان پر فوراً روک لگائی جانی چاہیے۔ ساتھ ہی الیکشن کمیشن نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سلسلے میں کی گئی کارروائی سے متعلق رپورٹ کمیشن کو بھیجی جائے۔

دراصل الیکشن کمیشن کو کئی شکایتیں ملی ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ لوک سبھا انتخاب 2024 کی تاریخوں کا اعلان ہونے اور مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے بعد شہریوں کے فون پر حکومت کے ذریعہ اس طرح کے میسج بھیجے جا رہے ہیں۔ اس طرح کی شکایتوں پر انتخابی کمیشن نے نوٹس لیا اور متعلقہ وزارت کو ضروری ہدایت دے دی ہے۔

الیکشن کمیشن کے ذریعہ ہدایت ملنے کے بعد وزارت برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ میسج مثالی ضابطہ اخلاق نافذ ہونے کے پہلے بھیجے گئے تھے، حالانکہ ان میں سے کچھ میسجز سسٹم اور نیٹورک ایشوز کی وجہ سے لوگوں کو تاخیر سے ڈیلیور ہوئے۔