مہرولی:منہدم کی گئی قدیم مسجد کی جگہ پر رمضان کے دوران  نماز کی درخواست مسترد

نئی دہلی،20مارچ :۔

گزشتہ ماہ مہرولی میں ڈی ڈی اے کے ذریعہ منہدم کی گئی قدیم تاریخی مسجد کی جگہ پر رمضان کے دوران نماز کی اجازت نہیں دی گئی ۔اجازت کے لئے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دی گئی تھی جسے ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا۔رپورٹ کے مطابق انتظامی کمیٹی کے وکیل  سینئر ایڈوکیٹ شمس خواجہ کی طرف سے دائر کی گئی فوری درخواست میں رمضان کے مہینے میں 11 مارچ 2023 کو غروب آفتاب سے لے کر عید الفطر تک نماز تراویح پڑھنے کے خواہشمند افراد کے لیے بلا روک ٹوک داخلے کی درخواست کی گئی تھی۔ جسے ہائی کورٹ نے مختلف حوالوں کے ساتھ مسترد کر دیا

جسٹس سچن دتہ نے درخواست کو مسترد کرتے ہوئے 23 فروری کے حکم کا حوالہ دیا جس میں شب برات کے موقع پر نماز پڑھنے اور قبروں کی زیارت کے لیے اسی طرح کی  درخواست کو مسترد کیا گیا تھا۔ جسٹس نے نوٹ کیا کہ اس طرح کا عبوری ریلیف دینا ایک لازمی حکم امتناعی کے مترادف ہوگا ۔ خاص طور پر چونکہ ڈھانچہ پہلے ہی منہدم ہو چکا ہے اور عدالت نے جگہ  پر صورتحال جوں کا توں  برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے۔

جسٹس دتہ نے کہا، "مذکورہ بالا حکم مورخہ 23.02.2024 میں دی گئی دلیل موجودہ درخواست کے تناظر میں بھی بالکل لاگو ہوتی ہے۔ ان حالات میں اس عدالت کے لیے مختلف نقطہ نظر اختیار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ اس طرح، یہ عدالت موجودہ درخواست میں مانگی گئی  راحت  دینے کے لیے مائل نہیں ہے اور اس کے نتیجے میں اسے خارج کر دیا جاتا ہے۔

اس سے قبل، 23 فروری کو، ہائی کورٹ نے مسجد اور قبرستان کی انتظامی کمیٹی کی طرف سے دائر کی گئی اسی طرح کی ایک درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس میں شب برات کی نماز ادا کرنے اور اس جگہ پر قبرستان جانے کی اجازت مانگی گئی تھی۔

ہائی کورٹ فی الحال مسجد کے انہدام کے خلاف دہلی وقف بورڈ کی منیجنگ کمیٹی کی طرف سے دائر کی گئی اہم رٹ درخواست پر فیصلہ کر رہی ہے۔ انہدام کو چیلنج کرنے والی دہلی وقف بورڈ کی منیجنگ کمیٹی کی طرف سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کرتے ہوئے، عدالت نے انہیں ڈی ڈی اے کے جوابی حلف نامے کا جواب دینے کے لیے چار ہفتوں کا وقت دیا ہے۔ اگلی سماعت 26 اپریل کو ہوگی۔

واضح رہے کہ 30 جنوری کی صبح دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی   نے800 سالہ قدیم مسجد کے ساتھ ساتھ مدرسہ بحر العلوم اور کئی قبروں کو منہدم کردیاتھا۔ مسجد کی انتظامی کمیٹی، منتظمہ کمیٹی مدرسہ بہرالعلوم اور قبرستان نے اس کارروائی کی مخالفت کی۔ 5 فروری کو، ہائی کورٹ نے مسجد کی منیجنگ کمیٹی اور دہلی کے وقف بورڈ کے عدالت میں جانے کے بعد کیس کے حل تک زیر التواء زمین پر حالات کو جوں کا توں برقرار رکھنے کا حکم دیا۔