تمل ناڈو: وزیر اعظم مودی کے روڈ شو میں طلبا  کی شرکت پر تنازعہ، تحقیقات کا حکم

طلبا کے ذریعہ راہل گاندھی سے ملاقات کرنے پر نوٹس جاری کرنے والےاین سی پی سی آر کے چیئر مین پریانک قانون گو کی خاموشی پر بھی سوال

نئی دہلی،21مارچ :۔

لوک سبھا انتخابات 2024 کی تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے۔اور اسی کے ساتھ ملک میں ضابطہ اخلاق کا بھی نفاذ عمل میں آ چکا ہے۔اس لئے سیاسی پارٹیوں کی ریلیوں اور پروگرام پر الیکشن کمیشن کی نظر ہے۔دریں اثنا گزشتہ دنوں  تمل ناڈو میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے زیر اہتمام وزیر اعظم نریندر مودی کے روڈ شو میں اسکول کے نابالغ بچوں کے سیاسی استعمال پر ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سیاسی ریلیوں میں بچوں کو شامل کرنا اور ان کی کسی بھی قسم کی شرکت الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کی ہدایات کے خلاف ہے۔تمل ناڈو کے محکمہ تعلیم نے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور جانچ کا حکم دیا ہے۔ ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم نے بچوں کے سیاسی استعمال کے حوالے سے سخت موقف اپنایا ہے۔

انڈیا ٹو مارو کی رپورٹ کے مطابق، پی ایم مودی نے میٹوپلائم روڈ پر گنگا اسپتال اور تمل ناڈو کے آر ایس پورم کے مرکزی پوسٹ آفس کے درمیان چار کلومیٹر طویل روڈ شو کیا تھا۔

دعویٰ کیا جارہا ہے کہ اس روڈ شو کے دوران سرکاری امداد سے چلنے والے شری سائی بابا مڈل اسکول کے 14 سال سے کم عمر کے بچوں کو بی جے پی کے نشانوں کے ساتھ بھگوا رنگ کے کپڑوں کی پٹیاں پہنا کر مختلف مقامات پر بی جے پی کارکنوں کے ذریعہ منعقدہ فورموں میں حصہ لینے کے لیے  استعمال کیا گیا تھا۔

کوئمبٹور کے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر نے فوری طور پر معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری کا حکم دیا اور اسکول انتظامیہ کو ہیڈ ماسٹر اور عملے کے خلاف سخت کارروائی کرنے اور واقعے کی تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔محکمہ لیبر کے جوائنٹ کمشنر اور چیف ایجوکیشن آفیسر کی طرف سے بھی الگ الگ تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

کوئمبٹور کے ضلع کلکٹر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے کہا، ’’ہم نے اس معاملے کا نوٹس لیا ہے اور اے آر او نے متعلقہ محکموں سے رپورٹ طلب کی ہے۔ "تفتیش کے نتائج کی بنیاد پر مناسب کارروائی کی جائے گی۔”

دی ہندو اخبار سے بات کرتے ہوئے، اسسٹنٹ ریٹرننگ آفیسر (اے آر او) پی سریش نے تصدیق کی کہ اس طرح کے اقدامات سے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ مزید کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کو بھیج دی جائے گی۔

دریں اثنا اس معاملے پر حیران کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اتنے بڑے واقعہ پر   اب تک نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس (این سی پی سی آر) نے اس معاملے کا کوئی نوٹس نہیں لیا ہے۔حالانکہ این سی پی سی آر کے چیئر مین ہر معاملے میں خاص طور پر مسلم اداروں پر سخت کاررروائی کرتے ہیں مگر اس معاملے میں خاموش ہیں  ۔ جبکہ  این سی پی سی آر نے راہل گاندھی کو ان کی بھارت جوڑو یاترا کے دوران اس وقت نوٹس جاری کیا جب اسکول کے بچوں نے یاترا میں حصہ لیا اور راہل سے ملاقات کی تھی۔