بدایوں :دلدوز واقعہ کے بعد مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرتی گینگ سر گرم

نئی دہلی ،21 مارچ :۔

بدایوں میں دو معصوم نابالغ ہندو بچوں کا ساجد نامی حجام کے ذریعہ قتل کے دلدوز واقعہ پر ملک میں ہر طرف غم اور افسوس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔اس واقعہ کے دو گھنٹے کے اندر یوپی پولیس نے انکاؤنٹر میں ملزم ساجد کو ہلاک کر دیا دوسرے ملزم جاوید کی تلاش جاری ہے۔حالانکہ انکاؤنٹر کی مجسٹریل انکوائری کا حکم جاری ہو چکا ہے ۔اس واقعہ کے پیچھے اصل کیا وجہ تھی ابھی  واضح نہیں ہے ،متاثرین کے اہل خانہ بھی حیرت کا اظہار کر رہے ہیں اور انہیں بھی اس قتل کے پیچھے مقصد کا کوئی علم نہیں ہے مگر اس اندوہناک واقعہ کے بعد ملک میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت پھیلانے والا گینگ سر گرم ہو گیا ہے۔اس واقعہ کو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف عوام میں نفرت پھیلانے کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔حالانکہ انصاف پسند طبقہ جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں نے اس واقعہ کو انتہائی اندوہناک قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور متاثرین کے لئے انصاف کا مطالبہ کیا ہے۔

دائیں بازو کے نظریات کے حامل شدت پسند  ادارےاس پورے واقعہ کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔خاص طور پر ایسے ویڈیو اور بیانات کی تشہیر کر رہے ہیں جس میں   ساجد اور جاوید کے بہانےاسلامی نظریات پر حملہ کیا گیا ہے۔ اجیت بھارتی نامی ایک  صارف نے ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے  لکھا کہ بدایوں کےہندو بچوں کا قتل ساجد یا جاوید نے نہیں کیا ہے بلکہ ایک سوچ ہے جو ان سب کا قتل دل میں بار بارکرتا ہے کہ جو ان کے جیسے نہیں ہیں وہ کافر ہیں۔

ایک دوسرے صارف نے لکھا کہ ساجد اور جاوید اکثر کہا کرتے تھے کہ وہ اس رمضان کچھ بڑا کریں گے اور انہوں نے دو معصوم بچوں کا قتل کر دیا،وہ ذاکر نائک سے متاثر تھا۔

واضح رہے کہ اس قتل کے پیچھے کیا وجوہات تھے،کیا کوئی پرانی رنجش تھی یا کوئی دشنی تھی اس کا ابھی انکشاف نہیں ہوا ہے۔معصوم بچوں کے اہل خانہ بھی حیرت زدہ ہیں اور قتل کی وجوہات بتانے سے قاصر ہیں ۔بلکہ متاثرہ بچوں کی ماں نے کہا کہ اس قتل کی وجہ کیا تھی یہ ساجد ہی بتا سکتا تھا ،اس کا انکاؤنٹر نہیں ہونا چاہئے تھا۔وہیں مسلم طبقے کی جانب سے بھی اس اندوہناک قتل کی مذمت کی جا رہی ہے اور قصور واروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔