بیروت دھماکے: ہلاکتوں کی تعداد 135 ہوگئی، حکومت نے شہر میں دو ہفتوں کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی

بیروت، اگست 6: ریوٹرز نے مقامی میڈیا کے حوالے سے بتایا کہ بدھ کے روز لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دو دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 135 ہوگئی۔ دھماکوں میں تقریباً 5000 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ حکومت نے شہر میں دو ہفتے کی ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔

لبنانی حکومت نے دھماکے کے سلسلے میں فوج کو کسی بھی شہری کو گھر میں نظربند رکھنے کی طاقت دے دی ہے۔

لبنان کے وزیر داخلہ محمد فہمی نے پہلے دن ہی کہا تھا کہ یہ دھماکے بیروت بندرگاہ کے ایک گودام میں دھماکے کے باعث ہوئے تھے جہاں امونیم نائٹریٹ جمع تھا۔

اے ایف پی کے مطابق لبنانی وزیر اعظم حسن دیاب نے بتایا کہ بیروت بندرگاہ میں 2،750 ٹن امونیم نائٹریٹ پھٹا تھا۔ حکومت نے دھماکے سے ہونے والے نقصان سے نمٹنے کے لیے 100 ارب لبنانی روپے (تقریباً 494 کروڑ روپے) مختص کیے ہیں۔

منگل کے روز ہونے والے زور دار دھماکے نے شہر کی بندرگاہ کو تباہ کر دیا اور کئی کلومیٹر دور تک مکانات کی کھڑکیوں کو بکھیر کر رکھ دیا۔

دھماکے سے 10 کلومیٹر دور عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

پہلے سے ہی کورونا وائرس کے بحران سے نبرد آزما ملک کا صحت کا نظام، دھماکے میں ہلاکتوں کی وجہ سے مزید بحران کا شکار ہوگیا ہے۔ اس بحران کے بیچ کئی ممالک نے لبنان کو مدد کی پیش کش کی ہے۔