’متوقع‘ نئی اسرائیلی حکومت ۔۔۔ بھان متی کا کنبہ؟؟

فلسطینیوں کے لیے کوئی راحت نہیں۔ یارلیپڈ کے خیالات بھی جارحانہ

مسعود ابدالی

 

اسرائیل کے متحارب سیاسی گروہ مخلوط حکومت کے ایک فارمولے پر رضامند ہوگئے جسے تبدیلی سرکار یا Change Government کہا جا رہا ہے۔ تبدیلی ان معنوں میں کہ بارہ سال بعد بنیامین نیتن یاہو المعروف بیبی سابق وزیر اعظم ہو جائیں گے۔ فروری 2009 کے انتخابات میں انتہا پسند لیکوڈ اتحاد اپنے پارلیمانی حجم کے اعتبار سے دوسرے نمبر پر تھا لیکن بی بی نے مذہبی اور قوم پرست جماعتوں سے اتحاد کر کے حکومت بنالی۔ جوڑ توڑ کے ماہر نیتن یاہو سودے بازی اور مول تول کے ذریعے گزشتہ بارہ سال سے وزیراعظم کے عہدے پر فائز بلکہ کرسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ سیاسی، لسانی اور مذہبی تقسیم بلکہ منافرت کی وجہ سے اسرائیل میں گزشتہ تیس سال سے مستحکم حکومت نہ بن سکی اور بار بار قبل از وقت انتخابات کے باوجود کئی دہائیوں سے کوئی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے سے محروم ہے۔ باربار انتخابات کے موجودہ سلسلے کا آغاز جنوری 2019 میں ہوا جب لازمی فوجی بھرتی کے قانون میں ترمیم کے مسئلے پر شریکِ اقتدار اسرائیلی ربیوں (علما) اور قدامت پسند قوم پرستوں میں جھگڑا شروع ہوا۔ جلد ہی کشیدگی اتنی بڑھی کہ حکومت تحلیل ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
وزیر اعظم کی اتحادی اسرائیل مادرِ وطن، وطن پارٹی (Yisrael Beitinu) کے سربراہ لائیبرمین کو حریدیوں کے لیے فوجی خدمت سے استثنےٰ پر شدید اعتراض ہے انکا خیال ہے کہ ایک فرقے سے خصوصی برتاو، دوسروں سے ناانصافی ہے۔ چنانچہ انہوں نے 2019 کے آغاز پر فوجی خدمت سے حریدیوں کا استثنیٰ ختم کرنے کے لیے ایک قانون متعارف کروادیا۔ اس ’جسارت‘ پر ربی سخت مشتعل ہو گئے اور انکی دونوں جماعتوں یعنی شاس اور توریت پارٹی نے دھمکی دی کہ اگر بی بی نے بل کی حمایت کی تو وہ حکومت سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ اس وقت وزیر اعظم نیتن یاہو کو پارلیمان کے 73 ارکان کی حمایت حاصل تھی جن میں ان دونوں جماعتوں کے 13 ارکان بھی شامل تھے۔ شاس اور توریت پارٹی کی حمایت کے بغیر 120 رکنی کنیسہ میں واضح اکثریت برقرار رکھنا ممکن نہ تھا۔ بی بی نے اپنے حلیفوں کو سمجھانے کی کوشش کی لیکن دونوں ہی اپنی بات پر اڑے رہے چنانچہ وزیر اعظم نے صدر سے کنیسہ تحلیل کرنے کی درخواست کردی اور 9 اپریل 2019 کو نئے انتخابات ہوئے۔
انتخابات کا اعلان ہوتے ہی جناب لائیبرمین نے صاف صاف کہا کہ حکومت سازی کے لیے وہ صرف اسی جماعت کی حمایت کریں گے جو ان کے بل کی حمایت کا پیشگی وعدہ کرے گی۔ اس ضمن میں حریدیوں کا موقف بھی بالکل بے لچک تھا اور توریت پارٹی کے سربراہ موشے گیفنی نے اپنا یہ عزم دہرایا کہ بل کس قیمت پر منظور نہیں ہونے دیا جائے گا۔ دوسری طرف وزیر اعظم کو بدعنوانی کے الزامات کا سامنا تھا اور استغاثہ نے کچھ ایسے ٹھوس ثبوت پیش کردیے جسکی روشنی میں بیبی کی گرفتاری کا مطالبہ ہوا لیکن وزارت عظمیٰ کے استثنیٰ کی بنا پر وہ گرفتاری سے اب تک بچے ہوئے ہیں۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کرنے اور مقبوضہ گولان کو اسرائیل کا حصہ تسلیم کرنے کا اعلان کردیا جسکی وجہ سے بیبی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ مقبولیت کے باوجود بی بی کی جماعت ان انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی۔ انتخابات کے نتائج نتیجہ خیز ثابت نہ ہوئے اور مقررہ آئینی مدت میں کوئی بھی جماعت حکومت نہ بنا سکی، چنانچہ صدر نے نوزائیدہ اسمبلی تحلیل کردی اور گزشتہ سال 17 ستمبر کو نئے انتخابات ہوئے۔ اس عرصے میں استثنیٰ کی چھتری تلے بی بی عبوری وزیر اعظم کے طور پر برقرار رہے۔
نئے انتخابات کے نتائج بھی ویسے کے ویسے ہی رہے۔ وہ ایوان بھی کھِلنے سے پہلے مرجھا گیا اور 2 مارچ 2020 کو تیسرے انتخابات منعقد ہوئے۔ اس بار بھی معلق کنیسہ وجود میں آیا لیکن بیبی نے اپنے مخالف نیلے اور سفید یا B&W اتحاد کو شرکتِ اقتدار کا جھانسہ دیکر مخلوط حکومت بنالی۔ معاہدے کے تحت نومبر میں B&W کے سربراہ کو وزیر اعظم بننا تھا۔ بی بی کے سیکولر وقوم پرست اتحادیوں نے فوجی تربیت سے حریدیوں کا استثنیٰ ختم کرنے میں دلچسپی نہیں لی لیکن وزیر اعظم کا استثنیٰ مزید موثر بنانے کے لیے قانون سازی سے بھی انکار کردیا۔ ساتھ ہی استغاثہ نے سپریم کورٹ کے روبرو یہ موقف اختیار کیا کہ موجودہ قانون کے تحت وزیر اعظم کو اصالتاً (in person) حاضری سے استثنیٰ تو حاصل ہے لیکن سنگین الزامات پر مقدمہ چل سکتا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے قانونی سقم کے حوالے سے وکلائے صفائی کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے وزیراعظم کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کردی۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اصالتاً حاضری سے استثنیٰ وزیراعظم کا حق نہیں بلکہ رخصت ہے جو عدالت کی توثیق سے مشروط ہے۔ پہلی حاضری کے بعد سے کورونا کا بہانہ بناکر نیتن یاہو ایک بار بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔وزیر اعظم کے وکلا نے بی بی کو متنبہ کیا کہ اگر B&W سے شرکت اقتدار کے معاہدے کے تحت نومبر میں انہوں نے وزرات عظمیٰ چھوڑی تو عدالت سے انکی گرفتاری کا حکم صادر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے B&W کو دھمکی دی کہ اگر استثنیٰ کے قانون میں ترمیم کر کے وزیر اعظم کے ساتھ سابق وزیر اعظم کو بھی تحفظ دیکر اسے ناقابل دست اندازیِ عدالت نہ بنایا گیا تو وہ حکومت تحلیل کر دیں گے۔ آخر کار سانجھے کی یہ ہنڈیا چوراہے پر آکر پھوٹ ہی گئی اور 23 مارچ کو نئے انتخابات منعقد ہوئے۔
ان انتخابات کے نتائج بھی ملے جلے رہے۔ کنیسہ کی سب سے بڑی جماعت کے سربراہ کی حیثیت سے بیبی کو حکومت سازی کی دعوت دی گئی۔نیتن یاہو گزشتہ بارہ سال سے دائیں بازو، قوم پرست اور مذہبی جماعتوں سے اتحاد کر کے حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ لیکن اس بار دائیں بازو کی یمینہ کے سربراہ نیفتالی بینیٹ نے اتحاد کے لیے وزارت عظمیٰ کی شرط رکھدی۔ بی بی اسکے لیے تیار ہوگئے اور طئے یہ پایا کہ پہلے ڈھائی سال نیتن یاہو وزیر اعظم رہیں گے اور اسکے بعد شمعِ اقتدار نیفتالی کے آگے رکھ دی جائے گی۔ اسی دوران قوم پرست جماعت کے لائیبرمین نے فوجی تربیت سے حریدیوں کا استثنیٰ ختم کرنے کی بحث دوبارہ چھیڑ دی اور معاملہ یہاں تک بڑھا کہ بیبی، لائیبرمین یا مذہبی جماعتوں میں سے کسی ایک کے انتخاب پر مجبور ہوگئے۔ لائیبرمین کی اسرائیل مادرِ وطن پارٹی کے 7 کے مقابلے میں ربیوں کے پاس 16 نشستیں ہیں چنانچہ بیبی نے لائیبرمین سے جان چھڑا کر اسلامی خیالات کی حامل رعم اور عرب اتحاد کو مہر ومحبت کے اشارے کرنے شروع کردیے۔ اس سے پہلے کہ مسلم عناصر کی جانب سے کوئی جواب آتا لیکوڈ پارٹی کے مذہبی اتحادیوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ ایک نیام میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں اگر وزیر اعظم عربوں اور اخوانیوں سے ہاتھ ملائیں گے تو ہماری طرف سے پیشگی شلوم (سلام)۔ بیبی نے حکومت سازی کے لیے 21 روز کی آئینی مہلت ختم ہونے پر صدر سے معذرت کرلی۔
اس کے بعد اسرائیلی صدر نے دوسری بڑی جماعت مستقبل پارٹی کے یارلیپڈ کو حکومت سازی کی دعوت دی۔ لیپڈ صاحب نظریاتی طور پر لبرل وسیکولر ہیں چنانچہ لیبر پارٹی اور میرٹس پارٹی ان کے پرچم تلے آگئی۔ ’یہودی مولویوں‘ سے الرجک لائیبرمین نے بھی یارلیپڈ کی حمایت کا عندیہ دیا۔ لیکوڈ سے الگ ہونے والے گیدون سعر اور وزارت عظمیٰ کا لالچ دیکر یارلیپڈ نے نیفتالی کو بھی اپنا ہمنوا بنالیا۔ دوسری طرف رعم نے اعلان کیا کہ انہیں وزارت کا کوئی شوق نہیں لیکن وہ ایک مستحکم حکومت کے لیے یارلیپڈ کو اعتماد کا ووٹ دینے کو تیار ہیں۔ اسی دوران شیخ الجراح سے فلسطینیوں کی بے دخلی کے معاملے پر کشیدگی بڑھی۔ بیبی نے اسے طولِ اقتدار کا سنہری موقع جانا اور پوری قوتِ قاہرہ کے ساتھ غزہ پر چڑھ دوڑے۔ فوجی مہم کی قیادت وزیر دفاع بینی گینٹز کررہے تھے جو یارلیپڈ کے نائب ہیں۔ قوم پرستی اور جنگی جنون کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں نے حکومت سازی کو بالائے طاق رکھدیا۔ کیا انتہا پسند ربی اور کیا لبرل وسیکولر ’غزہ کو فنا کردو‘ سب ہی کا وظیفہ زبان ہو گیا۔ نیفتالی بینیٹ نے یہ کہ کر یارلیپڈ کا ساتھ چھوڑ دیا کہ اس وقت دہشت گردوں کے مقابلے کے لیے بیبی کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ لیبر اور ایمرٹس کے روشن خیالوں نے غزہ کے نہتوں پر بمباری کے بصری مشمولات (ویڈیو کلپس) کو اپنے ٹویٹس کی زینت بنا کر اسرائیلی فضائیہ کی ’جرات و شجاعت‘ کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ یارلیپڈ خود بھی دباو میں آکر گھر بیٹھ رہے۔تاہم جنگ بندی کے بعد صورتحال ایک دم تبدیل ہو گئی۔ قوم پرستوں نے اسے اعتراف شکست گردانا اور ہر طرف جنگ بندی نامنظور کے نعرے سنائی دینے لگے۔ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یارلیپیڈ نے حکومت سازی کی مہم دوبارہ شروع کردی اور نیفتالی بینیٹ کو وزارت عظمیٰ کی پیشکش کر کے ساتھ ملا لیا۔ جلد ہی بیبی کے ساتھ مخالف قوم پرست، لبرل وسیکولر آگئے اور سات جماعتوں کے مشترکہ محاذ کا مجموعی حجم 58 ہوگیا جو حکومت سازی کے نشان نے 3 کم تھا۔ یارلیپڈ نے رعم پارٹی کے منصور عباس سے غیر رسمی بات چیت شروع کی۔ منصور عباس نے اعتماد کے ووٹ کو عرب اکثریتی علاقوں کی میونسپل کمیٹیوں کو دوسرے علاقوں کی طرح با اختیار بنانے، کمیٹیوں کو وزارت داخلہ کی نگرانی سے آزاد کرنے اور عرب علاقوں میں اسرائیلی فوج کے داخلہ کے لیے مئیر کی اجازت سے مشروط کردیا۔ قوم پرستوں نے ان شرائط پر شدید رد عمل کا اظہار کیا۔ نئی کابینہ کی مجوزہ وزیر داخلہ اور نیفتالی بینیٹ کی نائب محترمہ ایکٹ شیکڈ نے کہا کہ ’شرط مان لینے سے فلسطینی اکثریتی علاقوں پر وزارت داخلہ کا عمل دخل ہی ختم ہو جائے گا‘۔وزارت عظمیٰ کی لالچ میں نیفتالی نے منت سماجت کر کے اپنی نائب کو منا لیا۔ وزارت اور پارلیمان کی مجالس قائمہ کی تقسیم پر اتحادیوں کے درمیان اختلافات ابھرے لیکن نیفتالی اور یارلیپڈ نے بہلا پھسلا کر معاملے کو ٹھنڈا کرلیا۔دو جون کو یارلیپڈ نے مستقبل پارٹی، مادرِ وطن پارٹی، ایمرٹس، لیبر، نیلے اور سفید اتحاد، یمینہ اور رعم کے دستخطوں سے حکومت سازی کے لیے آمادگی کا خط اسرائیلی صدر کو بھیجدیا۔ ان آٹھ جماعتوں کا مجموعی پارلیمانی حجم 62 ہے۔ صدر نے یہ خط کنیسہ کے اسپیکر کی طرف اس ہدایت کے ساتھ آگے بڑھا دیا کہ نامزد وزیر اعظم نیفتالی بینیٹ کو جلد ازجلد اعتماد کا ووٹ لینے کی ہدایت کی جائے۔بی بی کے لیے یہ تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اخوان اور حماس نے کمیونسٹوں سے مل کر اسرائیل کو تباہ کرنے کی سازش تیار کی ہے۔ یہ کمزور حکومت رعم کے چار ووٹوں کی مرہونِ منت رہے گی اور دہشت گرد حکومت گرانے کی دھمکی دیکر نئی اسرائیلی آبادیوں کی تعمیر رکوادیں گے، دو ریاست کے نام پر بیت المقدس کی حیثیت تبدیل ہو جائے گی اور کمیونسٹ ایجنڈے کو آگے بڑھا کر ملکی معیشت کو برباد کردیا جائے گا۔معاملہ صرف بیانات تک محدود نہیں ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے یمینہ کے ارکانِ کنیسہ کے گھروں پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اللہ کے غضب سے دھمکانے کے ساتھ خواتین ارکان کا پیچھا کرنے اور ان کے اہل خانہ کو دھمکی آمیز برقی خطوط بھیجنے کا سلسلہ جاری ہے۔ یمینہ کی جواں سال رکنِ کنیسہ عیدت سلمان کا اس وقت پیچھا کیا گیا جب وہ اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے جارہی تھیں۔ گاڑیوں پر نصب لاوڈ اسپیکر سے ’عیدت غدار‘، ’فلسطینیوں کی بے دام کنیز‘ ’عرب ناگن‘ اور دوسرے فحش وشرمناک نعرے لگائے گئے۔ عیدت صاحبہ اتنی خوفزدہ ہیں کہ بچوں کو اسکول سے چھٹی دلا کر وہ نامعلوم مقام منتقل ہوگئی ہیں۔ کچھ ایسا ہی حال یمینہ کی نائب سربراہ محترمہ ایکٹ شیکڈ کا ہوا۔ ایکٹ صاحبہ کے گھر پر حفاظتی دستہ تعینات ہے اور موصوفہ نے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا ہے حتٰی کہ اتوار کی شب انہوں نے پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں بھی شرکت نہیں کی۔ معاملہ صرف دائیں بازو کے ارکان تک محدود نہیں۔ لبرل وسیکولر خواتین کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ایمرٹس پارٹی کی محترمہ ثمیر زینڈبرگ کو ’مشورہ‘ دیا گیا کہ وہ کنیسہ کے اجلاس میں شرکت کے بجائے اپنی نوزائیدہ بچی کا خیال کریں، شرپسند اسے نقصاں پہنچا سکتے ہیں۔ حال ہی میں فیس بک نے فرزندِ اول یار نیتن یاہو کا اکاونٹ ایک دن کے لیے معطل کردیا کہ موصوف نے یمینہ کے ارکان کے گھیراو کے لیے اشتعال انگیز پوسٹ اور انسٹاگرام پر تصاویر جاری کی تھیں۔نیتن یاہو نے شاس پارٹی کے سربراہ ارے دیری کے گھر عشائیے میں تقریر کرتے ہوئے مذہبی قدامت پسندوں کو یقین دلایا ہے کہ اللہ ان کے مخالفین کا وہی حشر کرے گا جو اس نے موسیٰ کے دشمنوں کا کیا تھا۔ معروف اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’کیا آپ لوگوں کو یاد نہیں اللہ نے موسیٰ کے دور میں آستین کے سانپوں سے کیسے نمٹا تھا؟ زمین پھٹی اور وہ دولتمند دشمنِ خدا اسبابِ دولت وزینت سمیت زندہ دفن ہوگیا‘۔دھمکی اور کشیدگی سے حکومتی اہلکار بھی پریشان ہیں۔ اتوار کو اندرونی سلامتی کے ادارے شین بیت المعروف شاباک کے سربراہ نے وزارت داخلہ ودفاع کے نام اپنے خط میں کہا کہ آسمان سے باتیں کرتی گروہی وسیاسی نفرت کی بنا پر ملک کسی بھی وقت بدترین خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے۔ جلتی پر تیل ڈالنے کے لیے انتہا پسندوں نے مشرقی بیت المقدس میں یروشلم مارچ کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ دن 1967 کی جنگ میں یروشلم پر قبضے کی یاد میں عبرانی سال کے دوسرے مہینے ایار Iyar کی 28 تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اس سال 10 مئی کو ایار کی 28 تاریخ تھی جب القدس شریف میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید تصادم ہوا۔ مسجد اقصیٰ کی بیحرمتی پر مشتعل ہوکر اہل غزہ نے تل ابیب پر راکٹ حملے کیے جسکے نتیجے میں گیارہ روزہ جنگ کا آغاز ہوا۔لڑائی کی بنا پر یروشلم مارچ معطل کر دیا گیا۔ Haaretz اور چینل 12 کا کہنا ہے کہ وزیر دفاع بینی گینٹز کی مخالفت کے باوجود وزیر اعظم نے دباو ڈال کر منتظمین کو مظاہرے کی اجازت دلوادی اور اب یہ مارچ جمعرات 10 جون کو ہوگا۔ سیاسی مبصرین اس روز ایک اور خونریز تصادم کا خوف ظاہر کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نیتن یاہو المعروف بیبی کے لیے یہ طولِ اقتدار کا سنہرا موقع ثابت ہو سکتا ہے۔
دھمکی اور ہراساں کرنے کی مہم بی بی کے حق میں ’مثبت‘ ثابت ہو رہی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یمینہ پارٹی کے موشے شکیل نے نفتالی بینیٹ کو اعتماد کا ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اپنے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے موصوف اتوار کی شب نفتالی کی رہائش گاہ پر بلائے گئے پارلیمانی اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ اگر یہ بات درست ہے تو اب ایوان میں تبدیلی سرکار کے حامی صرف 61 رہ گئے ہیں جو اعتماد کے لیے کم سے کم تعداد ہے اور اگر نیتن یاہو مزید ایک بھی رکن کی وفاداری تبدیل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پانسہ پلٹ جائیگا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کنیسہ کے اسپیکر یاریو لیون پر زور دے رہے ہیں کہ اعتماد کا ووٹ ہفتے دس دن کے لیے ملتوی کردیا جائے۔ اسپیکر کاتعلق لیکوڈ بلاک سے ہے۔ دوسری طرف نیفتالی اور یارلیپیڈ کا مطالبہ ہے کہ اسپیکر صاحب جلد از اعتماد کے ووٹ کا اہتمام کریں۔ یہ افواہ بھی گرم ہے کہ تبدیلی سرکار نے ’معقولیت‘ اختیار کرنے کی صورت میں نئی مدت کے لیے اسپیکر کو اپنے ووٹوں سے منتخب کرانے کی پیشکش کی ہے۔
کشیدگی کے اس سنسنی خیز ماحول میں یہ کہنا مشکل ہے کہ تبدیلی سرکار اعتماد کا ووٹ حاصل کرسکے گی یا نہیں کہ معاملہ بس ایک ووٹ تک آچکا ہے یعنی ایک رکن نے آنکھ پھیری اور نفتالی صاحب کا وزیر اعظم بننے کا خواب چکنا چور۔ جب ہمارے موقر قارئین ان گزرشات کو شرف مطالعہ عطا فرما رہے ہوں گے اسوقت تک غالباً اونٹ کسی نہ کسی کروٹ بیٹھ چکا ہوگا۔ انشاء اللہ اگلی نشست میں ہم تبدیلی سرکار (اگر قائم ہوگئی تو اس) کے عزائم اور نئی قیادت سے وابستہ توقعات اور اندیشوں پر بات کریں گے۔ اللہ کرے ہمارا تجزیہ غلط ثابت ہو لیکن اس بات کی کوئی توقع نہیں کہ نفتالی اور یارلیپڈ کا اقتدار مظلوم ومقہور فلسطینیوں کے لیے راحت یا علاقائی امن کے لیے کسی مثبت امکان کا نقطہ آغاز بن سکے گا۔ نفتالی صاحب نے کل ہی فرمایا ہے کہ بیبی کے مقابلے میں تبدیلی سرکار کا جھکاو 10 درجہ مزید دائیں طرف ہوگا۔ فلسطینیوں کے معاملے میں یارلیپڈ کے خیالات بھی کچھ مخلتف نہیں۔ موصوف بزعم خود لبرل اور مذہبی انتہا پسندی کے سخت خلاف ہیں لیکن فلسطین مخالف جذبات کے اظہار میں کسی تکلف ومداہنت سے کام نہیں لیتے۔ انکا خیال ہے کہ ’فلسطینی ماضی میں جی رہے ہیں اور انہیں امن سے کوئی دلچسپی نہیں‘۔ موصوف فلسطینیوں کی اراضی پر اسرائیلی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کے بھی حامی ہیں۔
masood_abdali@hotmail.com
***

بی بی کے لیے یہ تبدیلی ناقابل قبول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اخوان اور حماس نے کمیونسٹوں سے مل کر اسرائیل کو تباہ کرنے کی سازش تیار کی ہے۔ یہ کمزور حکومت رعم کے چار ووٹوں کی مرہونِ منت رہے گی اور دہشت گرد حکومت گرانے کی دھمکی دیکر نئی اسرائیلی آبادیوں کی تعمیر رکوادیں گے، دو ریاست کے نام پر بیت المقدس کی حیثیت تبدیل ہو جائے گی اور کمیونسٹ ایجنڈے کو آگے بڑھا کر ملکی معیشت کو برباد کردیا جائے گا۔

مشمولہ: ہفت روزہ دعوت، نئی دلی، شمارہ 13 جون تا 19 جون 2021