روسی درآمدات کا دفاع کرتے ہوئے جے شنکر کا کہنا ہے کہ مغرب نے کئی دہائیوں سے ہندوستان کو ہتھیار فراہم نہیں کیے

نئی دہلی، اکتوبر 10: مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے پیر کو ہندوستانی افواج کے ذریعہ روسی ہتھیاروں کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ممالک نے دہائیوں سے نئی دہلی کو ہتھیار فراہم نہیں کیے اور اس کے بجائے خطے میں فوجی آمریت کو اپنے پسندیدہ پارٹنر کے طور پر منتخب کیا۔

جے شنکر بظاہر پاکستان کا حوالہ دے رہے تھے، جو سرد جنگ کے دوران امریکہ کی زیر قیادت مغرب کا قریبی اتحادی تھا۔

کینبرا میں اپنے آسٹریلوی ہم منصب پینی وونگ کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان اور روس کے درمیان دیرینہ تعلقات ہیں جس نے نئی دہلی کے مفادات کی ’’یقینی طور پر خدمت‘‘ کی ہے۔

وزیر نے مزید کہا کہ ہمارے پاس سوویت اور روس میں بنے ہتھیاروں کی کافی انوینٹری ہے۔ ’’اور وہ انوینٹری دراصل مختلف وجوہات کی بنا پر بڑھی۔ آپ جانتے ہیں کہ ہتھیاروں کے نظام کی ان کی خوبیاں خود وجہ ہیں، لیکن اس لیے بھی کہ کئی دہائیوں سے مغربی ممالک نے ہندوستان کو ہتھیار فراہم نہیں کیے اور درحقیقت ایک فوجی آمریت کو ترجیحی پارٹنر کے طور پر دیکھا۔‘‘

معلوم ہو کہ پاکستان کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنی 75 سالہ تاریخ کے نصف سے زائد عرصے تک ایک آزاد ملک کے طور پر ملک پر حکومت کی ہے۔ ملک کی فوج اب بھی امریکہ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے لیکن حالیہ برسوں میں خاص طور پر افغانستان کی جنگ کے دوران ان تعلقات میں تناؤ آیا ہے۔

جے شنکر نے یہ باتیں پیر کے روز اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہیں کہ آیا ہندوستان کو روسی ہتھیاروں کے نظام پر انحصار کم کرنا چاہیے اور یوکرین کی جنگ کے دوران اس ملک کے ساتھ اپنے تعلقات کا از سر نو جائزہ لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ بین الاقوامی سیاست میں ہم ایسے فیصلے کرتے ہیں جو ہمارے مستقبل کے مفادات اور موجودہ حالات کے عکاس ہوتے ہیں۔

وزیر خارجہ نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ ہندوستان یوکرین کے تنازع کے خلاف ہے۔ انھوں نے نامہ نگاروں کو بتایا ’’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کسی ملک یا بین الاقوامی برادری کے مفاد میں نہیں ہے۔‘‘

یوکرین پر روسی حملے کو اب آٹھواں مہینہ گزر چکا ہے۔ ماسکو کا دعویٰ ہے کہ یہ اس کی ایک خصوصی فوجی کارروائی ہے جو کائیو کو مغربی جارحیت کے لیے ایک پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ضروری تھی۔ لیکن یوکرین اور اس کے مغربی اتحادیوں نے ان دلائل کو جنگ کا بے بنیاد بہانہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

جہاں روس کو یوکرین پر حملے کے سبب مغرب کی طرف سے پابندیوں کا سامنا ہے، وہیں روس بھارت اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بی بی سی کے مطابق دونوں ممالک اب روس کی سمندری تیل کی برآمدات میں نصف سے زیادہ حصہ لیتے ہیں کیوں کہ مغربی ممالک تیل کم خرید رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ ہندوستان میں روس کے سفیر نے کہا تھا کہ ماسکو نے مغربی ممالک کی پابندیوں کے باوجود اپنا سب سے جدید زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل دفاعی نظام S-400 بروقت ہندوستان کو فراہم کیا۔