سرمایہ داراور بھوک: یہ رشتہ کیا کہلاتا ہے؟

وزیراعظم مودی کی مقبولیت اوربھکمری میں اضافہ ساتھ ساتھ!

ڈاکٹر سلیم خان، ممبئی

وزیر اعظم کی غیر معمولی قیادت میں پہلی بار برطانیہ کو پچھاڑ کر بھارت دنیا کی پانچویں سے بڑی معیشت بن گیا۔ اس کا سہرا صرف اور صرف مودی جی کے سر بندھتا ہے۔ وہ تو خیر برطانیہ کے اندر وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں رشی سوناک تھے۔ ان کے بجائے مودی اگر اس مسابقت میں شامل ہوتے تو دنیا کی کوئی طاقت انہیں عظیم برطانیہ کا وزیر اعظم بننے سے نہیں روک پاتی کیونکہ’ مودی ہے تو کچھ بھی ممکن ہے‘ ۔ ویسے اگر رشی سوناک جیت جاتے تو وہ بھی مودی کی وجہ سے ہوتا۔ رشی کی ناکامی میں پردھان سیوک کا کوئی حصہ نہیں ہے کیونکہ شکست و ریخت سے بھلا ان کا کیا واسطہ؟ امریکہ میں اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو کامیابی مل جاتی تو وہ ہاوڈی مودی اور نمستے ٹرمپ کی وجہ سے ہوتی لیکن ان کے ہارنے میں بھلا مودی کا کیا قصور؟ وہ تو ایسا ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی جیت جائے تو وہ مودی کے سبب اور اگر پنجاب میں ہار جائے تو وہ علاقائی رہنماوں کی وجہ سے۔ یہ بھارتی میڈیا کا بنا بنایا فارمولا ہے جس کو وہ استعمال کرتے نہیں تھکتے اور عوام دیکھتے نہیں اوبتی اس لیے یہ سرکس چلتا رہتا ہے۔
معیشت کا جشن ابھی جاری تھا کہ مودی جی کے قریب ترین دوست گوتم اڈانی کو دنیا کے دوسرے امیر ترین سرمایہ دار ہونے کا اعزاز حاصل ہوگیا۔ یہ بھی وزیر اعظم کی کرم فرمائی کا نتیجہ تھا ورنہ مودی سے پہلے گوتم اڈانی کو کون جانتا تھا؟ پچھلے آٹھ سالوں میں اڈانی کے اثاثوں میں جو بیس گنا یعنی دو ہزار فیصد کا اضافہ ہوا ہے اس کے لیے مودی کے علاوہ کوئی اور ذمہ دار نہیں ہو سکتا۔ اڈانی نے فی الحال ملک کی شان میں جو اضافہ کیا ہے اس کے لیے وزیر اعظم کا نام تاریخ کے صفحات پر طلائی حروف سے لکھا جائے گا۔ لوگ مودی کے اس کارنامہ کو کبھی بھی فراموش نہیں کر سکیں گے اور ہمیشہ ان کے احسان مند رہیں گے کہ ان کے دور میں ملک کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ دنیا میں پہلا نہ سہی دوسرا سب سے امیر آدمی بھارتی بن گیا ۔ بعید نہیں کہ 2024ء وزیر اعظم ان کو سرکاری پروجکٹس دے دے کر دنیا کا امیر ترین آدمی بنوا دیں۔ ویسے اگلے انتخاب میں اگر وہ ناکام بھی ہو گئے تو اڈانی گروپ ان کی عیش و عشرت کا پورا خیال رکھے گا کیونکہ دنیا میں احسان مندی بھی تو کوئی چیز ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی چونکہ چائے پلاتے ہوئے آئے اور کسی سنیاسی کی مانند جھولا اٹھا کر چل دیں گے اس لیے آگے چل کر بھی ان کو کوئی خاص مسئلہ نہیں ہو گا۔ وہ نہ کھاتے ہیں نہ کھانے دیتے ہیں کیونکہ انہیں اول تو بھوک ہی نہیں لگتی اور جب تھوڑی بہت محسوس ہوتی ہے تو راشن کے بجائے بھاشن سے کام چلا لیتے ہیں۔ اصل مسئلہ تو ان عام لوگوں کا ہے جو بھاشن نہیں دیتے۔ ان کو اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کی خاطر غذا کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ چونکہ ان کا نجی معاملہ ہے اس لیے بیچارے وزیر اعظم کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ اسی لیے جب گلوبل ہنگر انڈیکس (عالمی بھکمری کی فہرست) میں ملک پچھڑتا ہے تو اسے بدنام کرنے کی سازش قرار دے کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ یہ عجب اتفاق ہے کہ بھارت کے اندر فی کس آمدنی برطانیہ سے بیس گنا کم ہے پھر بھی بھارت کو پانچویں نمبر کی معیشت بنانے والی رپورٹ درست ہے۔ اڈانی گروپ پر 2.2 لاکھ کروڑ کا قرض ہے اس کے باوجود اسے دوسرے نمبر کا امیر ترین فرد قرار دیا جانا غلط نہیں ہے مگر بھارت کا بھکمری کی فہرست میں پاکستان سے پچھڑ جانا عالمی سازش کا نتیجہ ہے۔ یہ الزام اگر درست ہو تب بھی سوال یہ ہے لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں اور مودی سرکار ان سازشوں کو ناکام بنانے میں ناکام کیوں ہو جاتی ہے؟
یہ ایک حقیقت ہے کہ اڈانی اور امبانی کی ساری دھن دولت کے باوجود ملک میں پندرہ فیصد لوگ بھوکے پیٹ سونے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پچھلے سال 19.4 کروڑ لوگ غذائی قلت کا شکار تھے اور اب یہ حالت مزید بگڑ گئی ہے۔ جرمنی کی غیر منفعت بخش تنظیم ویلٹ ہنگر ہائی لائف ہر سال اکتوبر میں آئر لینڈ میں مقیم کنسرن ورلڈ وائڈ کے اشتراک سے گلوبل ہنگر انڈکس نامی رپورٹ شائع کرتی ہے۔ اس کو دنیا بھر میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے اور سبھی اخبار و رسائل اسے شائع کرتے ہیں۔ اس کے ذریعہ بھوک اور لوگوں کو فراہم کردہ خوراک کی بنیاد پر دنیا بھر کے ممالک میں فاقہ کشی کی صورت حال کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ اس سال 2022ء کی رپورٹ میں وطن عزیز کی حالت تشویش ناک ہے کیونکہ 121 ممالک میں وہ 107ویں نمبر پر ہے۔ پچھلے سال کے 101ویں مقام کے مقابلے اب کی بار مزید 6 پائیدان نیچے چلا گیا ہے۔ اس کے باوجود ملک حکمرانوں کو انتخاب لڑنے اور مخالف سیاسی طاقتوں کو کمزور کرنے سے فرصت نہیں ہے۔ ان کے خیال میں بھوک سے پریشان یہ لوگ اگر ووٹ نہ دیں تب بھی ان کا اقتدار قائم رہ سکتا ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ اگر یہ لوگ ان کے خلاف ووٹ دینے لگیں تو سرکاری خزانے پر عیش کرنے والے سیاسی رہنما بھوکے مرنے لگیں گے۔
رواں سال سری لنکا میں اقتصادی بدحالی کے سبب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا لیکن بھکمری کی فہرست (گلوبل ہنگر انڈیکس) میں اس کی حالت بھی بھارت سے بہتر ہے۔ سری لنکا فی الحال 64ویں پوزیشن پر ہے۔ اقتصادی طور پر بھارت دنیا کا 5واں بڑا ملک ہے جبکہ پاکستان پہلے 40 اور نیپال تو ٹاپ 100 ملکوں میں بھی شامل نہیں ہے مگر گلوبل ہنگر انڈیکس میں نیپال 81ویں اور پاکستان 99ویں نمبر پر ہے۔ بنگلہ دیش کہ جس کو بڑے گھمنڈ سے وزیر داخلہ امیت شاہ نے مسکین ملک قرار دیا تھا 84ویں نمبر پر ہے۔ حکومت ہند کو اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ہے کہ آخر اس معاملے میں پڑوسی ممالک آگے کیسے نکل گئے؟ لیکن ہٹ دھرمی کے ساتھ حقیقت کو سازش قرار دینے کا مزاج یہ سوچنے ہی نہیں دیتا کہ آخر سری لنکا، نیپال، بنگلہ دیش اور پاکستان سے یہ وشو گرو بننے کا خواب دیکھنے والا ملک کیسے پچھڑ گیا؟ افغانستان کی حالت خراب تو ہے مگر بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ وہ ملک جو چالیس سالوں سے بیرونی حملوں سے نبرد آزما رہا ہے اس کے باوجود بہتری کی جانب مائل ہے جبکہ بھارت روبہ زوال ہے۔ اس رپورٹ کا مقصد بھوک کے حوالے سے بیداری پیدا کرنا ہے مگر کوئی حکومت جان بوجھ کر آنکھیں موند لے تب تو اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔
معروف کالم نکار تولین سنگھ نے اس ہفتہ بڑی حقارت سے لکھا تھا کہ اسلام کے سبب کسی مسلم ملک میں حقیقی جمہوریت نہیں ہے اس کے باوجود ہنگر انڈیکس کے17 سرفہرست ممالک میں (جن کا اسکور 5 سے کم ہے) ترکی اور کویت موجود ہیں۔ کویت کے پاس تیل کی دولت ہے مگر ترکی میں تو وہ بھی نہیں ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنے ملک کی بھکمری پر قابو پانے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ دیگر مسلم اکثریتی ممالک میں متحدہ عرب امارات 18ویں، ازبکستان 21ویں، قزاقستان 24ویں، تیونس 26ویں، ایران 29ویں، سعودی عرب 30ویں مقام پر ہے۔ اب سوال یہ ہے اگر وہ آمریت کے باوجود اپنے عوام کا پیٹ بھرنے کامیاب ہیں اور دنیا کی سب سے وسیع جمہوریت اس میں ناکام ہو جاتی ہے تو کس کا قصور ہے؟ سن 2000ء میں اٹل جی کی سرکار تھی اور چمکتے دمکتے بھارت کا نعرہ بلند کیا جا رہا تھا مگر ہنگر انڈیکس میں وہ 38.8 کے اسکور کے ساتھ ‘خطرناک’ زمرے میں شامل تھا۔ 2004ء میں وہ رخصت ہوئے اور منموہن کی سرکار آئی تو اس میں سدھار ہونے لگا۔ 2011ء میں بھارت 67ویں نمبر پر تھا 2012ء میں وہ 65 پر آگیا اور 2013ء میں 63 تک پہنچ گیا۔ اسی کی حکمت عملی کا اثر تھا کہ 2014ء میں بھارت بھکمری کے معاملے میں 55 نمبر پر آگیا تھا۔ اس کے بعد مودی یگ کا آغاز ہوا اور اس شعبہ حیات میں ہوا کا رخ بدلنے لگا کیونکہ حکمرانوں کی توجہ ملک کے غریب عوام سے ہٹ کر مالداروں کی جانب مرکوز ہو گئی۔ پہلے ہی سال یعنی 2015ء کی رپورٹ میں ملک ایک بڑی چھلانگ لگا کر 80 پر پہنچ گیا، اس کے بعد مودی جی کی مقبولیت کے ساتھ اس میں بھی اضافہ ہونے لگا اور 2016ء میں دوسری چھلانگ نے ہمیں 97 پر دھکیل دیا۔ 2017ء میں بھارت نے اپنی سنچری پوری کرلی اور وہ 100 کے نشان پر تھا۔ 2018ء میں یہ سفر جاری رہا اور بھارت 103 پر پہنچ چکا تھا۔ اس کے بعد الیکشن کا سال آیا اور 2019ء میں ملک کے اندر معمولی بہتری آئی۔ اس بار رینکنگ میں ایک مقام گھٹا یعنی 102 پر آگیا۔ اس کے بعد 2020ء میں حالت اور بھی بہتر ہوئی اور بھارت 94 پر آگیا۔ ایسا معلوم ہوا کہ دیر سے سہی اچھے دن آنے والے ہیں مگر 2021ء میں پھر سے مودی جی اپنے دوستوں کی جانب متوجہ ہو گئے نتیجتاً بھارت 101 پر پہنچ گیا۔ اس بار تو 107 تک کی چھلانگ لگا لی۔ 2014ء میں بھارت کا اسکور گر کر 28.2 تک آگیا تھا مگر اچھے دن والی مودی سرکار نے اسے پھر سے بڑھا کر 29.1 پر پہنچا دیا ہے یعنی پچھلے آٹھ سال میں بھکمری کی شرح تین فیصد بڑھی ہے۔
مودی جی نے جب 2014ء میں اقتدار سنبھالا، 5 سال سے کم عمر والے بچوں میں شدید غذائیت کی کمی کا شکار صرف 15.1 فیصد بچے تھے لیکن اب ان کی تعداد بڑھ 19.3 فیصد ہوگئی ہے ۔اس کے علاوہ آبادی میں غذائی قلت کا شکار لوگوں کا تناسب 2014ء کے 14.8 فیصد کے مقابلے 2022ء میں بڑھ کر 16.3 فیصد پر جا پہنچا ہے۔ فی الحال دنیا میں کل 82.8 کروڑ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔ ان میں سے 22.4 کروڑ افراد یعنی ایک چوتھائی سے زیادہ اکیلے بھارت میں رہتے ہیں جبکہ افغانستان کی کل آبادی ہی 3.89 کروڑ ہے۔ آزادی کی 75ویں سالگرہ کا دھوم دھام سے جشن منانے والی سرکار کو آئینہ دکھاتے ہوئے راشٹریہ جنتا دل کے رہنما ٰ لالو پرساد یادو نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’امرت کال کا بھوک کال‘۔ گلوبل ہنگر انڈیکس 2022ء میں سوڈان، روانڈا، نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر بہتر مقام حاصل کر لیا۔ 121 ممالک کی فہرست میں بھارت 107 ویں مقام پر ہے۔ شرم ناک! یہ بھاجپائی بچا کھچا ملک اور جائیداد بھی اپنے سرمایہ دار دوستوں کو بیچ دیں گے۔
لالو پرشاد یادو نے تو اس کی وجہ سرکاری املاک کا نجی ہاتھوں میں چلا جانا بتایا مگر گوا کانگریس کے صدر امت پاٹکر نے اس سے بھی سنگین الزام عائد کر دیا۔ ان کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کے دوست گوتم اڈانی دنیا کے دوسرے امیر ترین شخص بن جانے اور بھارت کے ہنگر انڈیکس میں 107 ویں نمبر پر آنے کا گہرا تعلق ہے۔ پاٹکر کا الزام ہے کہ گوا کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت کی حکومت نے ہزاروں ٹن تور کی دال اور چینی وغیرہ کو جان بوجھ کر ضائع کر دیا تاکہ سرمایہ دار اس کی درآمدات سے فائدہ اٹھا سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک اس درجہ بندی میں اتنا نیچے گر گیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ گزشتہ آٹھ سالوں میں بے روزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ فاقہ کشی کے بڑھنے کا اہم سبب ہے ۔ کانگریس لیڈر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ وزیر اعظم مودی کا نعرہ ‘‘نہ کھاؤں گا، نہ کھانے دوں گا’’ ان کی دوسری میعاد میں حقیقت میں بدل گیا۔
حکومت گلوبل ہنگر انڈیکس کی رپورٹ کا تو انکار کرسکتی ہے مگر مہنگائی میں دن بہ دن اضافے کو جھٹلا نہیں سکتی۔ فی الحال آسمان کو چھوتی مہنگائی سے پریشان عوام کو ’امول‘ کمپنی نے پھر سے دودھ کی قیمت میں اضافہ کرکے زوردار جھٹکا دے دیا۔ امول ڈیری کے دودھ کی قیمت میں 2 روپے فی لیٹر اضافہ سے فل کریم دودھ کی قیمت 61 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 63 روپے فی لیٹر ہوگئی۔ اس فیصلے کا غذائی قلت پر براہِ راست اثر پڑے گا کیونکہ چھوٹے بچے پانچ کلو چاول اور ایک کلو چنا کھا کر مہینہ بھر گزارا نہیں کر سکتے۔ ماہِ اگست کے بعد امول ڈیری نے یہ دوسری بار دودھ کی قیمتوں میں بڑھوتری کا سبب ہوئی لاگت میں اضافہ بتایا۔ امول چونکہ مارکیٹ لیڈر ہے اس لیے دوسری ڈیری والے بھی اس کے نقش قدم پر چلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مدر ڈیری نے بھی دو روپیہ فی لیٹر کے اضافے کا اعلان کردیا۔ اس طرح مغربی بھارت کی مانند شمالی ہند میں بھی دودھ کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ بھلا ہو دو ماہ بعد گجرات میں ہونے والے انتخابات کا وہاں فی الحال دودھ کی قیمتیں نہیں بڑھیں گی لیکن الیکشن کے فورا بعد امول کے ذریعہ مہنگائی کا تحفہ ان کو تھما دیا جائے گا۔
ایک طرف ملک میں ضروری اشیائے خوردنی کے داموں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری جانب سونے چاندی کی قیمتیں گر رہی ہیں۔ جس دن دودھ کی قیمت بڑھی اسی روز سونے کی قیمت 879 روپیہ فی دس گرام گھٹی۔ 10 اکتوبر کو سونا 51,317 پر تھا مگر اچانک وہ گھٹ کر 50,438 پر آ گیا۔ سونے کے علاوہ چاندی کے قیمت میں بھی 2,700 روپے کی گراوٹ دیکھنے کو ملی یعنی چاندی کی قیمت 58,774 روپیہ فی کلو سے گھٹ کر 56,042 روپیہ پر آگئی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر سناروں نے اس سال کروا چوتھ کے دن تین ہزار کروڑ کے زیور فروخت کر دیے۔ اس کا مطلب صاف ہے امیر کی حامی سرکار اور غریب کو مہنگائی کی مار۔ وزیر اعظم مودی نے جہاں بھکمری کی فہرست میں ملک کو 55 سے اٹھا کر 107 تک پہنچایا وہیں اڈانی کو بھی 7.3 لاکھ کروڑ ڈالرسے 136.1 لاکھ کروڑ ڈالر تک پہنچا دیا۔ مرکزی حکومت نے جتنے بھی شعبوں کو خود کفیل بنانے کے لیے اقدامات کیے یا نجی ہاتھوں میں دیا اس کا سب سے زیادہ فائدہ اڈانی کو ملا مثلاً جب گرین انرجی کا چرچا ہوا تو حکومت کی مہربانی سے اڈانی گرین اس میدان کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی۔ اسی طرح جب ہوائی اڈوں کو نجی ہاتھوں میں دینا شروع کیا گیا تب بھی اڈانی نے میدان ما رلیا۔
ایک طرف اڈانی گروپ کے اثاثوں میں اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف اس پر قرض بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ پانچ سال قبل اس پر ایک لاکھ کروڑ کا قرض تھا جو اب بڑھ کر 2.2 لاکھ کروڑ ہو گیا ہے۔ اب ذرا تصور کریں کہ اگر نیرو مودی کی طرح گوتم اڈانی بھی خود کے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر کے رفو چکر ہو جائیں اور یہ قرض ڈوب جائے تو قومی معیشت کا کیا حال ہو گا؟ لیکن مودی کے چہیتے گوتم اڈانی سے متعلق اس سوال پر کبھی بھی غور نہیں ہو گا۔ اڈانی پر مودی جی کے احسانات کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ 2002ء میں وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے اور ملک کی پہلی بندرگاہ اڈانی کے نجی ہاتھوں میں گئی۔ بیس سال قبل بندرگاہ مندرا پروجکٹ کا کل سالانہ کاروبار 53 کروڑ 51 لاکھ روپیہ تھا اور منافع صرف دو کروڑ پینتالیس لاکھ تھا ۔ اس کو وزیر اعلیٰ کے طور پر مودی جی نے 7.3 لاکھ کروڑ ڈالر تک پہنچوا دیا اور اب تو وہ دنیا کے دوسرے امیر ترین فرد ہیں۔ یہ مودی جی کا چمتکار ہے۔ کاش کہ وہ غریب عوام کی جانب بھی توجہ دے کر ان کی بھکمری دور کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ملک کے غرباء اور متوسط طبقات کے لیے تو نعرے اور مسلم دشمنی کافی ہے۔ اصلی ملائی اڈانی جیسے سرمایہ داروں کے لیے مختص ہے۔ اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ بھوک اور اڈانی کے درمیان کا یہ ’رشتہ کیا کہلاتا ہے؟‘
(ڈاکٹر سلیم خان نیوکلیر کیمسٹری میں پی ایچ ڈی ہیں جن کی تحریریں ملک و بیرونِ ملک بڑے پیمانے پر پڑھی جاتی ہیں۔)
***

 

***

 اڈانی پر مودی جی کے احسانات کا سلسلہ بہت پرانا ہے۔ 2002ء میں وہ گجرات کے وزیر اعلیٰ بنے اور ملک کی پہلی بندرگاہ اڈانی کے نجی ہاتھوں میں گئی۔ بیس سال قبل بندرگاہ مندرا پروجکٹ کا کل سالانہ کاروبار 53 کروڑ 51 لاکھ روپیہ تھا اور منافع صرف دو کروڑ پینتالیس لاکھ تھا ۔ اس کو وزیر اعلیٰ کے طور پر مودی جی نے 7.3 لاکھ کروڑ ڈالر تک پہنچوا دیا اور اب تو وہ دنیا کے دوسرے امیر ترین فرد ہیں۔ یہ مودی جی کا چمتکار ہے۔ کاش کہ وہ غریب عوام کی جانب بھی توجہ دے کر ان کی بھکمری دور کرتے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ملک کے غرباء اور متوسط طبقات کے لیے تو نعرے اور مسلم دشمنی کافی ہے۔ اصلی ملائی اڈانی جیسے سرمایہ داروں کے لیے مختص ہے۔ اس لیے یہ سوال اہم ہے کہ بھوک اور اڈانی کے درمیان کا یہ ’رشتہ کیا کہلاتا ہے؟‘


ہفت روزہ دعوت – شمارہ 30 اکتوبر تا 05 نومبر 2022